افغانستان کی پرامن تعمیر نو کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا عزم
7 جون 2012
انہوں نے یہ بات تنظیم کے اجلاس کے موقع پر چین کے سرکاری روزنامے پیپلز ڈیلی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں روس اور چین کے علاوہ وسطی ایشیائی ریاستوں قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کو رکنیت حاصل ہے۔ 2001ء میں تشکیل دی گئی اس تنظیم کے حالیہ اجلاس میں ایران، بھارت اور پاکستان نے مبصر ممالک کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ افغانستان کو مہمان ملک کی حیثیت دی گئی ہے۔ اپنے انٹرویو میں چینی صدر نے کہا کہ بڑے بین الاقوامی اور علاقائی معاملات سے متعلق رابطہ کاری اور تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ بیجنگ میں منعقدہ اس تنظیم کے دو روزہ اجلاس میں دیگر معاملات کے علاوہ افغانستان کی صورتحال بھی ایجنڈے پر رہی۔
افغانستان سے 2014ء میں غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد وسطی ایشیا، روس اور چین میں اسلامی عسکریت پسندی پھیلنے کے خدشات موجود ہیں تاہم اس کے باوجود روس نے شنگھائی تعاون تنظیم کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے امکان کو رد کیا ہے۔ اجلاس کے موقع پر افغان حکام نے عندیہ دیا کہ ان کا ملک چین کے ساتھ تعاون بڑھانے کے مختلف منصوبوں کو حتمی شکل دے رہا ہے، جس کی بدولت چین افغانستان میں تعمیر نو کے کاموں سے بڑھ کر بھی اپنا کردار نبھاسکے گا۔ افغان صدر حامد کرزئی کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک اسٹریٹیجک شراکت کے معاہدے کے بھی قریب پہنچ چکے ہیں۔
افغان صدر نے چینی طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین، افغانستان اور پاکستان کے مابین انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں تعاون کی فضاء قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان لی وائمین کہہ چکی ہیں کہ افغانستان کی صورتحال خطے کی مجموعی سلامتی کے حوالے سے خاصی اہم ہے۔ اسٹریٹیجک امور کے ایک چینی ماہر زانگ لی کے بقول افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء سے اس جنگ زدہ ملک میں چینی سرمایہ کاری پر اثر نہیں پڑے گا البتہ وہاں دفاعی امور میں چین کا کردار انتہائی محدود رہنے کا امکان ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے روسی صدر کے مندوب کیرل بیرسکی نے واضح کیا کہ یہ تنظیم کوئی دفاعی اتحاد نہیں اور فوجی حیثیت میں افغانستان میں اپنا کردار ادا کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔
(sks/ hk (Reuters