ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب
10 مارچ 2026
دنیا بھر میں تیل کی قلت کے حوالے سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے۔ ردِعمل کے طور پر تہران نے آبنائے ہرمز سے ایندھن کی ترسیل روک دی۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں ایندھن کی 20 فیصد ترسیل اسی تنگ آبی راستے سے ہوتی ہے۔
پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر معیشت مورس اوبسٹفیلڈ کے مطابق یہ وہی ڈرواؤنا خوابہے جس نے برسوں تک امریکہ کو ایران پر حملے سے روکے رکھا تھا۔ تاہم اب یہ صورتحال حقیقت بن چکی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور تہران پر حملے سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے کم تھی لیکن چند ہی دنوں میں یہ 120 ڈالر تک پہنچ گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اب کمی دیکھنے میں آرہی ہے تاہم یہ اب بھی فی بیرل 90 ڈالر کے قریب ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمت ایک ہی ہفتے میں 3.48 ڈالر فی گیلن ہو چکی ہے۔ یورپ اور ایشیا میں یہ اثرات اس سے بھی زیادہ خوفناک ہیں کیونکہ یہ خطے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جورجیوا کے مطابق تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ عالمی مہنگائی میں 0.4 فیصد اضافے اور عالمی پیداوار میں 0.2 فیصد کمی کا باعث بنتا ہے۔
ایم آئی ٹی (میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے ماہر معیشت اور 2024 کے نوبل انعام یافتہ اکانومسٹ سائمن جانسن کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش روزانہ 20 ملین بیرل تیل کو عالمی منڈی میں پہنچنے سے روک رہی ہے اور دنیا میں کہیں بھی اتنی اضافی پیداوار موجود نہیں جو اس خلا کو پُر کر سکے۔ انہوں نے کہا، ''ہرمز کی بحالی ناگزیر ہے۔‘‘
گزشتہ سالوں میں عالمی معیشت پر پے در پے کئی جنگوں اور معاشی پالیسیوں کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یوکرین جنگ اور 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے تجارتی ٹیرف اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں۔
امید باقی ہے؟
کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ایشور پرساد کے مطابق عالمی معیشت چونکہ پہلے بھی کافی کچھ برداشت کر چکی ہے تو شاید یہ جھٹکا بھی سہہ سکتی ہے۔ کیپیٹل اکنامکس کے نیل شیئرنگ کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں دوبارہ 70 سے 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ جائیں تو دنیا اس بحران کو برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے۔
اس حالیہ بحران کے اثرات زائل کرنے کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔ آئی ایم ایف کے سابق چیف سائمن جانسن کا کہا ہے، ‘‘ایران نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے جنہیں اپنے والد سے زیادہ سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔‘‘
جانسن کے مطابق اس سے تہران کی جانب سے جنگ میں کمی لانے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صورتحال کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کب ''حقیقی فتح‘‘ کا اعلان کرتے ہیں، کیونکہ ابھی تک امریکی حکمتِ عملی واضح نہیں ہوئی ہے۔
زرعی ممالک کے لیے بھی بری خبر
جنگ کے معاشی اثرات نے دنیا کو واضح طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ توانائی درآمد کرنے والے خطے جیسے یورپ، جاپان، بھارت، چین، جنوبی کوریا اور تائیوان شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی صورتحال خاص طور پر سنگین ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کا 40 فیصد درآمد کرتا ہے اور قطر سے آنے والی ایل این جی کی بندش نے اسلام آباد کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ توانائی پر اضافی اخراجات اور ساتھ مسلسل بڑھتی مہنگائی کے باعث پاکستان کا مرکزی بینک شرحِ سود بڑھانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب دنیا بھر میں کھاد کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی 30 فیصد کھاد، یوریا، امونیا، فاسفیٹ اور سلفر آبنائے ہرمز سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتی ہیں۔ یہ آبی راستہ بند ہونے سے کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے زرعی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس بحران سے خاص طور پر زرعی ممالک کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا؟
امریکہ، جو توانائی کا بھی ایک بڑا برآمد کنندہ ہے، مجموعی طور پر اس سب سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن امریکی عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ایک اوسط گھرانہ سالانہ ڈھائی ہزار ڈالر پٹرول پر خرچ کرتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ان کے بجٹ پر بوجھ ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر کے آس پاس رہی تو 2025 کے ٹیکس ریفنڈ کے فوائد زیادہ تر امریکیوں کے لیے نا ہونے کے برابر ہوں گے۔
مرکزی بینکوں کے لیے بھی ایک نئی مشکل پیدا ہو گئی ہے۔ ایران کے بحران نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو بھی ہوا دے رہی ہیں۔ ایسے میں مشکل یہ ہے کہ مرکزی بینک شرحِ سود بڑھائیں تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے، یا شرحِ سود کم کریں تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے؟
امریکی ماہرین معیشت میں اس معاملے پر تقسیم نظر آتی ہے۔ کچھ پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ کمزور امریکی جاب مارکیٹ کو شرحِ سود میں کمی کی ضرورت ہے جبکہ دوسرے اب بھی اس بات پر فکر مند ہیں کہ مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے ابھی کافی اوپر دکھائی دیتی ہے۔ یعنی آسمان سے گر ا کھجور میں اٹکا کی مثال یہاں غالب نظر آتی ہے۔
سائمن جانسن کے مطابق پالیسی سازوں کو شاید 1970 کی دہائی یاد آجائے، جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے اور عرب آئل ایمبارگو نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ مرکزی بینک آج بھی اس خوف سے نکل نہیں پاتے کہ اس وقت کے غلط فیصلے وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ تب کے فیصلہ سازوں کو وہ بحران عارضی ہی لگا تھا اور انہوں نے شرحِ سود کم رکھ کر اس بوجھ کو برداشت کرنے کی کوشش کی تھی اور بعد میں ہاتھ صرف پچھتاوا ہی آیا تھا۔ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرائے گی؟
ادارت: شکور رحیم