عمران خان کا خصوصی انٹرویو
10 اپریل 2013
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 25 اپریل 1996ء کو کیا تھا۔ اس جماعت نے اپنے قیام کے فوری بعد ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ پی ٹی آئی گزشتہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کی وجہ سے اسمبلیوں سے باہر ہی رہی لیکن اب عمران خان کہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف جیتے گی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کے مطابق ان کی پارٹی آئندہ چند دنوں میں تبدیلی کے لیے ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطابق، ’میں نے جتنا سیاست میں دیکھا ہے، جو اصل گہماگہمی آتی ہے، وہ آخری چار ہفتوں میں ہی آتی ہے‘۔
کامیابی کی صورت میں ملکی دفاعی بجٹ کے استعمال کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا، ’پاکستان خطرات میں گھرا ہوا ہے اور ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بھارت کے ساتھ تنازعات کا سامنا ہے‘۔ انہوں نے کہا، ’ہم اس وقت دفاعی بجٹ میں کمی کریں تو حالات مزید پرخطر ہو جائیں گے‘۔ عمران خان کے بقول، ’اگر ہم مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس صورت میں ہم دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کے قابل ہوں گے‘۔
ریڈیو پاکستان کو دیے گئے اپنے اس انٹرویو میں اپنے سیاسی نظریات کے حوالے سے عمران خان کا انتہائی واضح الفاظ میں کہنا تھا کہ ان کے رول ماڈل بانی پاکستان محمد علی جناح ہیں۔
تحریک انصاف کے نزدیک ٹیکس نظام کو بہتر بنا کر پاکستان کے معاشی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی کے لیڈر کا کہنا تھا، ’پاکستان کا جو ٹیکس پوٹینشل ہے، وہ کم از کم چار ہزار ارب روپے ہے، ابھی مشکل سے ساڑھے سترہ سو ارب روپے جمع ہو رہے ہیں۔ جب تک آپ کم از کم چار ہزار ارب روپیہ اکٹھا نہیں کرتے، جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہم پہلے سال میں کر سکتے ہیں اور صرف مراعات یافتہ طبقہ، جو ٹیکس نہیں دیتا، اس کو ٹیکس نیٹ میں لاکر ہم یہ خلا پور ا کرسکتے ہیں۔ اور یہ تو نیب کی ایک رپورٹ ہے کہ ایک دن میں ٹیکس کی چوری بارہ ارب روپے بنتی ہے‘۔
اپنی جیت کے عزم کا اعادہ انہوں نے ان الفاظ میں کیا۔ ’میدان سیاست میں ساکھ بنانے میں وقت لگتا ہے‘۔ عمران خان کہتے ہیں کہ لوگ مکمل طور پر دوسری جماعتوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ’ان کو بار بار دیکھ کر لوگوں نے محسوس کیا کہ ان سے تو اب کوئی امید نہیں۔ میں نے کبھی قوم کو اتنا مایوس نہیں دیکھا‘۔
خان نے کہا، ’میں ملک میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔ ہم نے ہر جگہ جا کر ریکارڈ جلسے کیے ہیں اور لاہور کا جلسہ 23 مارچ کو ہم نے چیلنج کر کے کیا۔ لوگوں کے ذہنوں میں آ گیا کہ یہ تبدیلی والی پارٹی ہے یہاں آپ 1970ء بھول جائیں گے۔ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ کیا ہوا تھا۔ 15سیٹیں بھٹو کو دے رہے تھے۔ یہی حالات تھے۔ اس کے اتنے بڑے بڑے جلسے تھے۔ لیکن لوگ کہہ رہے تھے کہ بچے آتے ہیں، وغیرہ وغیرہ‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر انتخابات کے نتائج ان کی امیدوں کے برعکس نکلے تو؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا، ’میری زندگی کی تربیت ہار اور جیت کی ہے۔ سوچتا ہوں ہمیشہ جیتنے کا، لیکن اگر نہیں جیتا تو پھر اس کا بھی مقابلہ کر سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ سب سے برا کیا ہوگا۔ اکثریت نہ ملی توبہت ہی برا ہے کیونکہ ہم نے اپوزیشن میں بیٹھنا ہے۔ ہم نے تو اقتدار نہیں لینا کیونکہ ہم ان کے ساتھ بیٹھ کے اقتدار لیں گے تو بلیک میل ہوں گے۔ اپنا ایجنڈا پورا نہیں کر سکیں گے۔ لوگوں کے سامنے لوگوں سے وعدے کر کے آئے ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ایک اچھی اپوزیشن کا بہت بڑا رول ہوتا ہے جمہوریت میں۔ انشا اللہ پاکستان میں بہترین اپوزیشن کر کے دکھائیں گے‘۔
رپورٹ: زبیر بشیر
ادارت: مقبول ملک