افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، عالمی اداروں کا مطالبہ
12 مئی 2012کابل سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے آج ہفتے کے روز کیا۔ ان عالمی اداروں کے مطابق امریکی سربراہی میں اتحادی فوجی دستے افغانستان سے اپنے انخلاء کی تیاریوں میں مصروف ہیں لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے دس سال بعد بھی خواتین کے حقوق کی صورت حال بڑی تشویشناک ہے۔
خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نیٹو کی آئندہ سمٹ سے یہ مطالبہ جن تنظیموں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا ہے، ان میں افغانستان میں اقوام متحدہ کا امدادی مشن، عالمی ادارے کا خواتین کے لیے فنڈ اور یو این ایف پی نامی ادارہ بھی شامل ہیں۔ یو این ایف پی اقوام متحدہ کا بہبود آبادی کا فنڈ ہے۔
ان بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیٹو سمٹ کے شرکاء کو ایسے خصوصی اقدامات پر اتفاق رائے کا مظاہرہ کرنا ہو گا، جن کی مدد سے افغان خواتین کو ان کے حقوق کی ضمانت دی جا سکے۔ امریکی شہر شکاگو میں مغربی دفاعی اتحاد میں شامل ملکوں کا آئندہ سربراہی اجلاس بیس اور اکیس مئی کو ہو گا۔
اقوام متحدہ کی ان ذیلی تنظیموں کے مطابق یہ شدید خطرہ موجود ہے کہ افغانستان میں خواتین کے لیے حالات زندگی بہتر بنانے کے سلسلے میں آج تک جو بھی پیش رفت ہوئی ہے، وہ ضائع ہو سکتی ہے۔ ان عالمی اداروں نے ان خطرات کی وجہ کابل حکومت کی وہ کوششیں بتائیں جو وہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ کسی مصالحتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کر رہی ہے۔ صدر کرزئی کی قیادت میں افغان انتظامیہ کی خواہش ہے کہ سن دو ہزار چودہ میں وہاں سے نیٹو دستوں کی واپسی کے پیش نظر ملک میں قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی نہ کوئی مصالحتی حل نکالا جانا چاہیے۔
اس بارے میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے خصوصی نمائندے Jan Kubis کی سوچ بھی بڑی واضح ہے۔ انہوں نے بھی آج ہفتے کو کابل میں جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا، ‘اب وقت آ گیا ہے کہ افغان خواتین کی سلامتی اور حفاظت سے متعلق طویل المدتی ضروریات پوری کی جائیں۔ افغانستان میں بہت طویل جنگ کے اثرات کا زیادہ تر سامنا یہی خواتین کرتی آئی ہیں۔‘
افغانستان کے لیے بان کی مون کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ افغانستان سے متعلق جو بھی منصوبہ بندی کی جائے، اس میں خواتین کی سلامتی اور ان کے حقوق سے متعلق ضروریات کا خاص طور پر مکمل دھیان رکھا جانا چاہیے۔
نیٹو کے شکاگو میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں رکن ملکوں کے رہنما افغانستان سے اتحادی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان سکیورٹی فورسز کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق تفصیلی مشورے کریں گے۔ اس حوالے سے یہ غور و فکر بھی کیا جائے گا کہ ان فنڈز کی فراہمی کو انسانی حقوق کے احترام سے کس طرح مشروط کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی امدادی تنظیم Oxfam کے مطابق ستاسی فیصد افغان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں جسمانی، جنسی یا نفسیاتی تشدد یا پھر جبری شادی کا تجربہ ہو چکا ہے۔
ij/ia/AFP