1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان خود مختار ریاست بننے کے قریب ہے، پنیٹا

11 جنوری 2013

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد افغانستان اپنے بل پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات افغان صدر سے ملاقات میں کہی۔

https://p.dw.com/p/17HlA
تصویر: Reuters

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام نے افغان صدر حامد کرزئی کو امریکا کے حالیہ دورے کے موقع پر یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے ملک سے غیرملکی افواج کے انخلاء کے منصوبے کے باوجود واشنگٹن انتظامیہ ان کے ساتھ ہے۔

حامد کرزئی نے امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ایک عسکری تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

کرزئی سے ملاقات میں پنیٹا نے کہا: ’’طویل اور مشکل ماضی کے بعد، مجھے یقین ہے کہ بالآخر ہم ایک ایسے خودمختار افغانستان کے قیام کے آخری باب پر پہنچ چکے ہیں جو مستقبل میں خود اپنا انتظام چلا سکتا ہے اور خود کو تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزیدکہا: ’’ہم ایک طویل سفر کے بعد ایک ایسی قوم کے قیام کے مشترکہ مقصد تک پہنچے ہیں، جس پر ہم اور آپ فخر کر سکتے ہیں، ایک ایسی قوم جو پھر دہشت گردی کے لیے ٹھکانہ نہ بنے۔‘‘

Barack Obama PK Silvester Haushaltsdebatte
امریکی صدر باراک اوباماتصویر: dapd

پنیٹا نے بعدازاں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ انہوں نے کرزئی سے اکیلے میں ملاقات کی، جو تقریباﹰ ایک گھنٹہ جاری رہی۔ انہوں نے کہا: ’’میرے خیال میں یہ کہنا درست ہو گا کہ ہم نے جن اہم معاملات پر بات چیت کی وہ کافی نتیجہ خیز رہی۔‘‘

کرزئی نے جمعرات کو ہی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ عشائیے میں شریک ہوئے۔ دونوں رہنماؤں نے طالبان کے ساتھ مصالحتی بات چیت پر بھی غور کیا جبکہ افغانستان کے لیے امریکی امداد پر بھی گفتگو ہوئی۔

افغان صدر نے زور دیا ہے کہ زیادہ امداد غیر سرکاری اور فلاحی تنظیموں کے بجائے براہ راست کابل حکومت کو دی جائے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائی جانے والی بدعنوانی ایک بڑی تشویش ہے۔

حامد کرزئی جمعے کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کریں گے۔ 2014ء میں غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد کتنے امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے، دونوں رہنماؤں کے درمیان اس موضوع پر بات چیت متوقع ہے۔

امریکا اور اس کے نیٹو کے اتحادی اس بات پر پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں کہ 2014ء کے آخر تک افغانستان سے لڑاکا دستے واپس بلا لیے جائیں گے۔ تاہم اس کے بعد سکیورٹی اور تربیت کے حوالے سے امریکی کردار پر سوال بدستور موجود ہے۔

توقع ہے کہ کرزئی امریکی رہنماؤں سے ملاقات میں انخلاء کے بعد بھی افغانستان میں بڑی تک امریکی عسکری موجودگی پر زور دیں گے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام میں سے بعض افغانستان میں اپنے تھوڑے ہی فوجیوں کی موجودگی کی حمایت میں ہیں۔ قومی سلامتی کے نائب مشیر بین رھودس نے تو منگل کو ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ امریکی اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلا سکتا ہے۔

ng/aba (AFP)