افغانستان سے مکمل انخلاء خارج از امکان نہیں، وائٹ ہاؤس
9 جنوری 2013
افغانستان میں غیر ملکی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن کی طرف سے ایسی تجاویز کے باوجود کہ افغان نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد بھی وہاں پندرہ ہزار تک امریکی فوجی تعینات رکھے جانے چاہییں، امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر بن روڈز کے اس تازہ بیان کو ایک واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ افغانستان سے بھی ویسے ہی تمام امریکی فوجی واپس بلوائے جا سکتے ہیں، جیسا کہ 2011ء میں عراق سے تمام امریکی فوجی واپس بلوا لیے گئے تھے۔
بن روڈز نے کہا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اور ان کے افغان ہم منصب حامد کرزئی کے مابین ہونے والی ملاقات کا مقصد یہ نہیں کہ 2014ء میں افغان نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد وہاں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے۔
صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کہ کیا افغان نیٹو فوجی مشن کے بعد مکمل انخلاء ممکن ہے تو امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر نے کہا، ’’ یہ ایک ایسا متبادل راستہ ہے، جس پر ہم غورکریں گے۔‘‘
حتمی فیصلے میں وقت لگے گا، بن روڈز
افغان صدر کرزئی جمعے کے دن واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب اوباما سے ملاقات میں 2014ء کے بعد دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات کرنے والے ہیں۔ اس تناظر میں بن روڈز نے کہا ہے کہ افغانستان میں نیٹو فوجی مشن کے خاتمے کے بعد وہاں امریکی فوجیوں کی کتنی تعداد تعینات رہے گی، اس بارے میں حتمی فیصلہ کرنے میں کئی ماہ درکار ہوں گے۔
حامد کرزئی اور باراک اوباما کی ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بن روڈز نے مزید کہا کہ مستقبل میں افغانستان میں امریکی افواج کو تعینات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سلامتی سے متعلق دو اہم مقاصد کے تجزیے کے بعد کیا جائے گا۔
بن روڈز نے ان دو مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ وہاں القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی اور مقامی سکیورٹی فورسز کی استعداد کاری کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا، ’’ یقینی طور پر ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں، کچھ میں امریکی فوجی وہاں تعینات رکھے جا سکتے ہیں اور کچھ میں مکمل انخلاء بھی ممکن ہے۔‘‘
افغان طالبان کی تنبیہ
یہ امر اہم ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی دیہی علاقوں سے غیر ملکی افواج کا فوری انخلاء چاہتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان باغیوں نے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر نیٹو فوجی مشن کے بعد بھی افغانستان میں غیر ملکی فوجی تعینات رہتے ہیں تو وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کی ذمہ داری کابل حکومت پر عائد ہو گی۔ انہوں نے افغان صدر پر زور دیا ہے کہ 2014ء کے بعد افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے وہ کسی ڈیل کا حصہ نہ بنیں۔
واشنگٹن میں قائم ’انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار ‘ سے منسلک افغان امور کے ماہر جیفری ڈریسلر امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر بن روڈز کے اس تازہ بیان پر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا یہ امریکا کی طرف سے کابل حکومت کے ساتھ مستقبل کے معاہدےکے تناظر میں ’لین دین کی حکمت عملی‘ تو نہیں ہے۔
افغانستان میں امریکی افواج کی تعیناتی کے حامی ڈریسلر کہتے ہیں، ’’ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو، میں کہوں گا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی عدم موجودگی امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘
ab/ia( Reuters)