افغانستان کے لیے طیارے: امریکی ایئرفورس کی وضاحت
14 جون 2012
امریکی ایئرفورس نے افغانستان کو ہلکے طیاروں کی فراہمی کے متنازعہ معاہدے پر بیان بدھ کو جاری کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پھر سے کرنے کے لیے سیرانیواڈا کارپوریشن اور ہاکر بیچ کرافٹ کارپوریشن سے بات چیت کی گئی تھی۔
ایئرفورس کی یہ وضاحت دراصل نجی کمپنی سیرانیواڈا کارپوریشن کے منگل کو سامنے والے بیان کا ردعمل تھی، جس میں برازیل کے طیارہ ساز ادارے ایمبرائر کی معاون اس کمپنی نے 355 ملین ڈالر کا معاہدہ پھر سے حاصل کرنے کے لیے امریکی فورس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایئرفورس نے یہ معاہدہ رواں برس فروری میں اچانک توڑ دیا تھا۔ نیواڈا کارپوریشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدہ توڑنے سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی تھی۔
امریکی ایئرفورس کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جان دوریان نے معاہدے کے لیے کسی کمپنی کا ازسر نو انتخاب کرنے کے عمل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے سیرانیواڈا کا یہ دعویٰ رد کیا ہے کہ اسے معاملے کی مناسب وضاحت نہیں کی گئی تھی۔
کرنل دوریان کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کو یقینی طور پر مطلع کیا گیا تھا اور انہیں نکتہ نظر بیان کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں کی تفصیلی بات چیت ہوئی تھی کہ 17 اپریل کو معاہدے کے لیے نئی بولی کے حوالے سے ایئرفورس کیا طریقہ کار اپنائے گی۔ کرنل دوریان نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں نے 26 اپریل کو تحریری بیان بھی جمع کروائے تھے۔
نیواڈا کے نائب صدر Taco Gilbert کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کو کبھی وضاحت پیش نہیں کی گئی تھی۔
گزشتہ برس سیرا نیواڈا نے طیارہ ساز کمپنی ایمبرائر کے ساتھ مل کر ہاکر بیچ کرافٹ کو پچھاڑتے ہوئے یہ معاہدہ حاصل کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایئرفورس نے اس معاہدے کے لیے نئی بولی کا فیصلہ یہ جاننے کے بعد کیا کہ قبل ازیں کانٹریکٹ دینے کے لیے اس کا اپنا طریقہ کار ناکافی تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مقدمے نےافغان فورسز کو طیاروں کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کو ہوا دی ہے، جو پہلے ہی تاخیر کی شکار ہے۔ امریکی حکام اس منصوبے کو افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کے تناظر میں اہم قرار دیتے ہیں۔
ng/shs (Reuters)