امریکا منگولیا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا خواہاں
8 اگست 2019
منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں نئے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے مقامی دفاعی اہلکاروں کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کی۔ منگولیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر خطوط پر استوار کرنے کو امریکا کی نئے دفاعی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس مشرقی ایشیائی ملک کا روس اور چین کے درمیان واقع ہونا خیال کیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع ایشیا اور پیسیفک کے مختلف ممالک کے ایک ہفتے کے دورے پر ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اپنا فوکس چین کی پالیسیوں پر رکھا۔ ٹرمپ انتظامیہ ترجیحی بنیاد پر چین کی مختلف علاقائی پالیسیوں کو جارحانہ قرار دیتی ہے اور ایسپر ان کے حوالے سے اپنے حکومتی موقف کی وضاحت کرتے رہے ہیں۔
ایسپر کے طویل دورے کی منازل میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا اور منگولیا شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے اس دورے کے دوران اتوار کو کہا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اہم اسٹریٹیجک نوعیت کے علاقائی معاملات کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ خطے کی سکیورٹی ضروریات پورا کرنے پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے اپنے منگولین ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد کہا کہ اس دورے سے انہیں محسوس ہوا ہے کہ امریکی منگولین تعلقات کو مختلف خطوط پر آگے بڑھانے کے ساتھ انہیں مستحکم بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسپر منگولیا میں چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت کے لیے رہے۔ انہیں اس دورے کے دوران منگولین نسل کے گھوڑے کا تحفہ بھی دیا گیا۔ مارک ایسپر نے اس گھوڑے کا نام جنرل جارج مارشل کی یاد میں مارشل رکھا۔
منگولیا کو اپنی آزادی اور علاقائی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے روس اور چین کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہتر رکھنے پر بھی توجہ مرکوز رکھنی پڑ رہی ہے۔ منگولیا کے ویسے تو دو ہی ہمسایہ ملک ہیں۔ ایک روس جب کہ دوسرا چین ہے لیکن مقامی حلقے امریکا کو اپنا تیسرا ہمسایہ قرار دیتے ہیں۔
منگولیا رقبے کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہے لیکن آبادی محض تیس لاکھ ہے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ ملک امریکی ریاست ٹیکساس سے دوگنا ہے۔
ع ح، ا ب ا، اے پی اور نیوز ایجنسیاں