1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

انتخابات میں آٹھ افراد نے مل کر دھاندلی کی، عمران خان کا الزام

شکور رحیم، اسلام آباد11 اگست 2014

عمران خان نے گزشتہ برس ہونے واے انتخابات میں جن افراد پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے، ان میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج خلیل الرحمان رمدے کے نام بھی شامل ہیں۔

https://p.dw.com/p/1CsZf
تصویر: Reuters

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ فوج انقلاب نہیں لا سکتی اور چودہ اگست کو ان کے احتجاجی مارچ کا مقصد ملک میں مارشل لاء کا نفاذ نہیں۔

عمران خان نے گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں جن افراد پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے، ان میں مبینہ طور پر سابق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج خلیل الرحمان رمدے، الیکشن کمشن کے رکن ریاض کیانی ،پنجاب کے الیکشن کمشنر انور محبوب ،سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق خان ،اس وقت کے سیکرٹری خزانہ طارق باجوہ سیکرٹری داخلہ شاہد خان کے علاوہ پنجاب کے سابق نگران وزیر اعلیٰ اور صحافی نجم سیٹھی شامل ہیں۔

عمران خان نے الزم لگایا کہ مذکورہ افراد نے (ن) لیگ کو انتخابات جتوانے کے لئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’فراڈ کرنے والے وزیر اعظم‘ اور ان کی مدد کرنے والوں کو بڑے عہدوں سے نوازا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے حسنی مبار ک ہیں اور انہوں نے ملک میں بادشاہت قائم کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو حکومت مخالف آزادی مارچ پر امن ہو گا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فوج انقلاب نہیں لا سکتی اگر ایسا ہوتا تو اب تک انقلاب آگیا ہوتا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پھر سے کہتا ہوں کہ فوج ملک کو درپیش مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ حل نواز شریف کے پاس ہے، اگر وہ واقعی پاکستان میں جمہوریت کو بچانا چاہتا ہے، اپنی بادشاہت کو نہیں بچانا چاہتا تو نواز شریف کو دوبارہ انتخابات کرانے میں کس چیز کا ڈر ہے؟‘‘

عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے مؤقف میں فرق کے باوجود دونوں جماعتوں کے حکومت مخالف مشرکہ مارچ پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم قادری صاحب کو شفاف انتخابات کے اپنے ایجنڈے پر لے آئیں گے۔

اس سے قبل پیر کے روز اسلام آباد میں پیر کے روز وفاقی حکومت کے منصوبے ’’وژن 2025 ء‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نواز شریف نے عمران خان کو ایک مرتبہ پھر بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اگر دھاندلی کے خلاف مارچ کرنا تھا توانتخابات کے فوری بعد کرتے یا پھر 14 اگست کے بعد کر لیتے۔ طاہرالقادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا سے بھاگ کر آنے والے انقلاب لانے کے لئے بے تاب ہیں۔ انہوں نےکہا کہ دو چار سو ووٹ لینے سے انقلاب نہیں آتا۔وزیراعظم نے کہا، ’’پہلے بھائی بتاؤ قصور کیا ہے حکومت کا کہ آپ اس طرح سے جو یلغار کر رہے ہو ؟ اور یہ جو لارہے ہو یہاں پر ایک انقلاب ،اس انقلاب کی وجہ کیا ہے؟ اس کے پیچھے منطق کیا ہے آپ کا ایجنڈا کیا ہے؟‘‘

دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی بحران کےسبب پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر کراچی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی۔ایک سو انڈیکس میں بارہ سو پوائنٹس کی کمی نوٹ کی گئی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنی تقریر میں اس صورتحال کے بارے میں کہا، ’’ہماری اسٹاک ایکسچینج تیس ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گئی تھی۔ لیکن یہ پچھلے چار پانچ دنوں سے اس وقت یہ انقلاب کی جو باتیں ہو رہی ہیں اور یہاں پر لانگ مارچ کی جو باتیں ہو رہی ہیں اس کی وجہ سے اس میں گراوٹ آئی ہے۔‘‘

دریں اثناء پاکستانی بری فوج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس پیر کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی سر براہی میں ہونے والی اس کانفرنس میں ملک کی مجموعی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں آپریشن ضرب عضب کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔