ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کی داخلی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا
7 مارچ 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک داخلی سطح پر تشدد کی بڑھتی ہوئی لہروں سے نمٹ پر مجبور ہو چکے ہیں کیونکہ سماجی وفاداریاں اور سیاسی نظام آزمائش کا شکار ہو چکا ہے۔
مراکش کے شہر رباط میں محمد پنجم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد شتاتو نے اس ہفتے اسرائیل ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا، ''مشرق وسطیٰ جل رہا ہے۔ صرف ایک آگ سے نہیں بلکہ بیک وقت بھڑکتی ہوئی آگ کی متعدد لہروں سے، جو اپنی اپنی منطق کے مطابق پھیلتی اورشدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔‘‘
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے متعدد محققین نے اسی ہفتے شائع ہونے والی ایک مشترکہ تجزیاتی تحریر میں لکھا کہ 'مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے کا خطہ نئے پرتشدد بحران میں گِھر چکا ہے اور اس میں کسی وقت بھی مزید بگاڑ آ سکتا ہے‘۔
عراق میں توازن میں بگاڑ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد عراق میں کئی دن تک امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج جاری رہا۔ یہ مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں شامل کئی افراد کو ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے وہاں بھیجا یا جانے کی ترغیب دی۔
یہ ملیشیا گروہ عراق بھر میں بشمول نیم خود مختار عراقی کردستان کے علاقے میں امریکی فوجی اور ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں حال ہی میں کردستان میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھی، جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ امریکہ ایرانی کردوں کی ایران کے اندر ممکنہ بغاوت کی حمایت کر سکتا ہے۔
ایرانی کرد مخالف جماعتوں کے دفاتر عراقی کردستان میں موجود ہیں تاہم ان جماعتوں نے ایران میں جنگجو بھیجنے کی تردید کی ہے۔ واضح رہے کہ ایران عراقی کردوں کے ٹھکانوں پر پہلے ہی بمباری کر چکا ہے۔
ACLED مانیٹرنگ پراجیکٹ کے مشرق وسطیٰ ریسرچ مینیجر معاذ عبداللہ نے اس ہفتے لکھا، ’’اکثریتی کرد علاقوں میں بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مضافاتی علاقے عدم استحکام کا شکار ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال طویل داخلی بدامنی اور علاقائی سکیورٹی پر وسیع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔‘‘
ان حالات نے عراقی کرد رہنماؤں کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ کردستان اس تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔
اس کے باوجود ایرانی کرد بغاوت کی افواہوں نے عراقی کردستان اور بغداد کی وفاقی حکومت کے درمیان پہلے سے چلے آ رہے تنازعات کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔
عراق کی وفاقی حکومت میں بڑی تعداد ایران نواز شیعہ سیاست دانوں کی ہے۔ اگر کرد حکام کسی طرح ایران کے اندر بغاوت کی حمایت کرتے ہیں، تو یہ نہایت سنگین اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
بحرین میں داخلی خطرات
خلیج کی چھوٹی ریاست بحرین میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج پرتشدد ہو چکا ہے۔ بعض افراد کو آن لائن جنگ مخالف پیغامات پوسٹ کرنے یا ایران سے ’’ہمدردی کے اظہار‘‘ پر گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح بحرین بھی ایک بادشاہت ہے اور اس ملک میں سیاسی اختلاف کو سختی سے دبا دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک اہم فرق یہ ہے کہ بحرین کا حکمران خاندان سنی ہے، جبکہ آبادی کی اکثریت یعنی تقریباً 50 فیصد سے کچھ زائد شیعہ ہے۔
2011ء میں عرب اسپرنگ کے دوران بحرین میں بڑے پیمانے پر جمہوری نظام کے حق میں احتجاج ہوا تھا تاہم اس تحریک کو سختی سے کچل دیا گیا تھا۔ اس کریک ڈاؤن میں سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے بھی بحرین حکومت کی مدد کی تھی۔
لبنان میں سماجی کشیدگی میں اضافہ
حالیہ صورتحال نے لبنان کی حکومت اور ایران نواز طاقتور شیعہ گروہ حزب اللہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے لیکن اس گروہ نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
لبنان کی حکومت بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی حامی ہے تاکہ اسرائیلی جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔ تاہم لبنانی فوج اتنی طاقتور نہیں کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کر سکے۔
حزب اللہ کی طرف سے پیر کے روز اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد اسرائیل کی شدید جوابی کارروائی کے بعد لبنان کی حکومت نے دو مارچ کو اس جنگجو گروہ کی تمام عسکری و سکیورٹی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی، یوں لبنانی فوج اور حزب اللہ کے درمیان ٹکراؤ کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔
لبنان میں سماجی سطح پر بھی شدید کشیدگی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لبنانی اب حزب اللہ کے خلاف ہو چکے ہیں۔ ان میں ایسے کئی شیعہ شہری بھی شامل ہیں، جو پہلے اس ایران نواز جنگجو گروہ کے حامی تھے۔
لبنانی اخبار L’Orient Today نے کئی شیعہ خاندانوں کے انٹرویوز کے بعد لکھا، ’’یکجہتی کا ماحول اب ایسی بڑھتی ہوئی ناراضی میں بدل چکا ہے، جسے لوگ بے مقصد اور خودکشی کے مترادف سمجھتے ہیں۔‘‘
لبنان میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور در بدر ہونے والے لوگوں کے پاس کہیں جانے کی جگہ نہیں۔ کچھ علاقوں میں تو لوگ حزب اللہ کے خلاف شدید عوامی غصے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
ایران کی جنگ کے باعث لبنان کے انتخابات بھی کم از کم دو سال کے لیے ملتوی ہونے کا امکان ہے۔ لبنان میں الیکشن مئی میں ہونا طے ہیں۔
آگے کیا ہو گا؟
امریکی تجزیہ کار محمد الباشا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کئی تجزیہ کار آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے پر پیدا ہونے والی صورتحال کا مذہبی اور جذباتی تعلق سمجھنے میں ناکام ہیں، ''بہت سوں کے لیے سپریم لیڈر صرف سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک مقدس نظام کا حصہ ہے۔‘‘
الباشا کے مطابق خامنہ ای بعض شیعہ گروہوں کے لیے وہی روحانی حیثیت رکھتے تھے، جو زیادہ تر کیتھولک مسیحیوں کے لیے پوپ رکھتے ہیں، ''ان کی وفاداری صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی بھی ہے۔‘‘
تاہم تمام شیعہ گروہ جیسا کہ یمن کے حوثی، غزہ کی حماس اور شام کے بعض دھڑے سپریم لیڈر کو اس نظر سے نہیں دیکھتے۔ الباشا کا کہنا ہے کہ جو گروہ خامنہ ای کی روحانی اتھارٹی کو تسلیم کرتے تھے، مستقبل میں اُن کی جانب سے شدید ردعمل کا زیادہ امکان ہے۔
انہوں نے کہا، ’’حزب اللہ اور بعض عراقی ملیشیا گروہ لبنان اور عراق کو مزید گہرے علاقائی تنازعے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ لیکن بحرین، سعودی عرب اور کویت میں شیعہ گروہوں کے حکومت کو براہ راست چیلنج کرنے کا امکان کم ہے تاہم چھوٹے پیمانے پر پیدا ہونے والے ردعمل کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘‘