ایران جنگ: اب صدر ٹرمپ کے پاس کیا راستہ ہے؟
27 اپریل 2026
امریکی کانگریس کے دونوں ایوان یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، کی منظوری کے بغیر کوئی بھی فوجی کارروائی صرف 60 دن تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس مدت کے بعد کسی بھی کارروائی کو جاری رکھنے کے لیے اس کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ ایران جنگ کے حوالے سے یہ ڈیڈ لائن یکم مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ خود کو ایک مضبوط صدر کے طور پر پیش کرنا پسند کرتے ہیں اور امریکی آئین کے تحت دیے گئے اختیارات کو مکمل طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بطور کمانڈر اِن چیف، انہیں فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن انہیں 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو مطلع کرنا ہوتا ہے۔ ایران جنگ کے معاملے میں انہوں نے 2 مارچ کو بروقت ایسا کر دیا تھا۔
لیکن اب ایک دوسری ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔کانگریس کے دونوں ایوان یعنی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر کوئی بھی فوجی کارروائی صرف 60 دن تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ مدت یکم مئی کو ختم ہو جائے گی۔
اگر اس وقت تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کا کوئی حل نہیں نکل سکا، تو صدر کو ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو قانونی جواز دینے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کے پاس کیا راستہ ہے؟
تقریباً 240 سال قبل امریکہ کے بانیوں نے آئین میں جنگ کے اختیارات کو تقسیم کیا تھا۔ صدر مسلح افواج کا کمانڈر اِن چیف ہوتا ہے، لیکن جنگ کا اعلان صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔
لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ آخری بار کانگریس نے 4 جون 1942 کو بلغاریہ، ہنگری اور رومانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا، جو دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے اتحادی تھے۔
قانون کے مطابق صدر ابتدائی 60 دن کی مدت کو بالخصوص فوج کے منظم انخلا کے لیے ایک بار مزید 30 دن کے لیے بڑھا سکتا ہے۔
اسپن انسٹیٹیوٹ جرمنی کی سربراہ اسٹورمی انیکا ملڈنر کے مطابق یہ سب سے زیادہ ممکنہ منظرنامہ ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میرا خیال ہے کہ ٹرمپ اضافی 30 دن کا فائدہ اٹھائیں گے،وہ یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ پیش رفت ہو چکی ہے، جنگ بندی قائم ہے اور جنگ کے خاتمے کے آثار ہیں، اس لیے عمل مکمل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔‘‘
تاہم اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید بگڑتی ہے اور فائربندی کی بار بار خلاف ورزی ہوتی ہے، تو یہ مؤقف کمزور پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اگر اب تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے، تو ان 30 دنوں کو نافذ کرنا یا اس کا جواز پیش کرنا پہلے سے بھی زیادہ متنازع ہو جائے گا۔‘‘
اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ ٹرمپ یہ دلیل دیں کہ 60 دن کا قانون اس خاص معاملے پر لاگو نہیں ہوتا۔ ان کے پیش رو براک اوباما نے 2011 میں لیبیا میں اقوام متحدہ کی منظور شدہ فضائی کارروائیوں کے حوالے سے اسی طرح کا مؤقف اختیار کیا تھا۔
اسٹورمی انیکا ملڈنر کا کہنا تھا، ''قراردادیں منظور کرنے کے علاوہ کانگریس کے پاس جنگ کو فعال طور پر ختم کرنے کے محدود ذرائع ہیں۔ ایک مؤثر طریقہ فنڈنگ روکنا ہو سکتا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ تقریباً ناممکن ہے۔
امریکی فوج معاشرے میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے، اور فوج کے لیے فنڈنگ روکنے کو غالباً عوامی حمایت حاصل نہیں ہو گی۔
وسط مدتی انتخابات کا انتظار
تاہم، اب تک کی پانچ ووٹنگز کا یہ مطلب نہیں کہ 60 دن کی مدت کے بعد چھٹی ووٹنگ کا نتیجہ بھی یہی ہو گا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کئی ریپبلکن ارکان پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔
یوٹاہ سے ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے یکم اپریل کو اپنے ایک مضمون میں واضح کیا،''میں 60 دن کی مدت سے آگے جاری رہنے والی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کروں گا جب تک کانگریس کی منظوری حاصل نہ ہو۔''
تاہم ملڈنر کے مطابق اس منظوری کے ملنے کا ''زیادہ امکان نہیں‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، "بہت سے ریپبلکنز کے لیے جنگ کے خاتمے کی قراردادوں کے خلاف ووٹ دینا سیاسی طور پر زیادہ آسان ہے، بہ نسبت اس کے کہ وہ جنگ کے جاری رہنے کی باقاعدہ منظوری دیں۔ کیونکہ اس صورت میں انہیں آپریشن کی مدت، لاگت اور خطرات کی واضح مشترکہ ذمہ داری اٹھانی پڑے گی اور یہ خاص طور پر وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں ایک بڑی سیاسی کمزوری بن سکتی ہے۔
بروکنگس انسٹیٹیوشن سے وابستہ امریکی سیاسی تجزیہ کار جوناتھن کاٹز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امیدوار، خاص طور پر ان ریاستوں اور حلقوں میں جہاں سخت مقابلہ متوقع ہے، رائے عامہ کے جائزوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ''اس کے باوجود وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہوئے ٹرمپ کی فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دینا سیاسی طور پر ایک خطرناک قدم ہے۔ ریپبلکن ارکانِ کانگریس کسی ٹکراؤ کے بجائے ایک محفوظ راستہ تلاش کریں گے، کیونکہ صدر کا ریکارڈ رہا ہے کہ وہ ان ریپبلکنز کو نشانہ بناتے ہیں جنہیں وہ وفادار نہیں سمجھتے۔‘‘
صدرٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی ہے، جو ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مزید بڑھ گئی ہے۔
اسی لیے صدر پر شدید دباؤ ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے کوئی ایسا حل نکالیں جس سے ان کی ساکھ برقرار رہے۔ چاہے اس میں کانگریس کا کردار جو بھی ہو۔
ادارت: شکور رحیم
یہ مضمون پہلی بار جرمن زبان میں شائع ہوا تھا۔