1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتایران

ایران میں جاری انٹرنیٹ بندش کے خلاف بڑھتی عوامی ناراضی

جاوید اختر اے پی کے ساتھ
1 مئی 2026

ایران میں پچھلے چار مہینوں سے انٹرنیٹ بندش جاری ہے اور موجودہ حالات کے مدنظر حکومت نے اس بندش کو ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ پہلے ہی متاثرہ معیشت کو مزید تباہ کر رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/5D7OU
جنوری سے پہلے ایرانی عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی تھی لیکن اب ورلڈ وائڈ ویب تک تمام رسائی بند کر دی گئی ہے
جنوری سے پہلے ایرانی عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی تھی لیکن اب ورلڈ وائڈ ویب تک تمام رسائی بند کر دی گئی ہےتصویر: DW

2026 کے دوران اب تک ایران کے 9 کروڑ باشندے زیادہ تر انٹرنیٹ سے کٹے رہے ہیں، جو دنیا کی طویل ترین اور سخت ترین قومی بندشوں میں سے ایک ہے۔ اس کا تباہ کن اثر آن لائن معیشت پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کے سبب کافی متاثر تھی۔ فیشن سے لے کر فٹنس تک اور اشتہارات سے لے کر ریٹیل تک، بہت سے شعبوں کی آمدنی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ غیر یقینی فائر بندی کے باوجود، ایرانی حکمرانوں نے اس بندش کو ختم کرنے سے انکار کر دیا اور اسے جنگی ضرورت قرار دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے کیونکہ یہ اہم صنعتوں پر حملوں اور تاحال جاری امریکی ناکہ بندی کے باعث ہونے والی بڑے پیمانے پر بے روزگاری میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

جنوری سے پہلے ایرانی عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی تھی، حالانکہ حکام نے بہت سا مواد بلاک کر رکھا تھا۔ اب ورلڈ وائڈ ویب تک تمام رسائی بند کر دی گئی ہے۔ کچھ متبادل راستے موجود ہیں، مگر وہ انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں اور زیادہ تر ایرانیوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

ایران کے ایوان صنعت و تجارت کے ایک رکن افشین کولاہی نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے ملکی معیشت کو روزانہ تقریباﹰ 3 سے 4 کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ بالواسطہ نقصانات اس سے دگنے ہو سکتے ہیں۔

8 جنوری 2026 کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایرانی حکام نے ملک بھر میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ کر دی تھی
8 جنوری 2026 کو حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایرانی حکام نے ملک بھر میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ کر دی تھیتصویر: Fatemeh Bahrami/Anadolu Agency/IMAGO

بندش کے سبب آن لائن معیشت مفلوج

ایران میں برسوں سے جاری معاشی بحران، جو پابندیوں اور بدانتظامی کے باعث پیدا ہوا، کے دوران واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نے چھوٹے کاروباروں کو گاہک تلاش کرنے اور لوگوں کو بنیادی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے کے لیے اضافی آمدنی کمانے میں مدد دی۔

ایرانی حکام نے پہلی بار جنوری میں حکومت مخالف بڑے مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ بند کیا۔ یہ بندش ابھی کچھ کم ہونا شروع ہی ہوئی تھی کہ 28 فروری کو حکومت نے مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔

ایران کی ڈیجیٹل معیشت کی ایک نمایاں کمپنی، آن لائن ریٹیلر'ڈیجی کلا‘نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ 200 ملازمین کو فارغ کر رہی ہے، جو اس کی افرادی قوت کا تقریباً 3 فیصد ہیں۔ قومی سطح پر ڈیجیٹل کاروباروں کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ کے سربراہ، رضا الفت نسب کے مطابق اس بحران کا اثر ''پیداوار، بیرونی تجارت اور یہاں تک کہ روایتی کاروبار‘‘ تک بھی پھیل چکا ہے۔

انٹرنیٹ بندش کے نتیجے میں کمپنیوں نے بہت سے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے
انٹرنیٹ بندش کے نتیجے میں کمپنیوں نے بہت سے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے تصویر: Fatemeh Bahrami/Anadolu Agency/IMAGO

متبادل راستے ’انتہائی خراب‘ ہیں

کئی برسوں سے ایران میں حکام یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر فلٹرز نافذ کرتے اور مواد کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔ لیکن جنگ سے پہلے ایرانی سستے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) اور دیگر آسان طریقوں کے ذریعے ان پابندیوں سے بچ جاتے تھے۔

اب اس بندش نے بلیک مارکیٹ میں وی پی اینز کی قیمتیں بہت بڑھا دی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا اکثر ایسے افراد کی گرفتاریوں کی خبریں نشر کرتا ہے جو غیر قانونی وی پی این یا امریکی سیٹلائٹ سسٹم اسٹارلنک استعمال کرتے ہیں، جس پر گزشتہ سال پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو ’’وائٹ‘‘ سم کارڈز دیے جاتے ہیں، جو انہیں عالمی انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ معاشی نقصان کو کم کرنے کے دباؤ کے تحت حکومت اب کچھ مخصوص پیشوں، کاروباروں اور میڈیا کے لیے نسبتاً کم پابندیوں والا انٹرنیٹ فراہم کر رہی ہے۔

تہران میں ایک ای کامرس تجارتی گروپ نے بدھ کے روز ایرانی میڈیا میں اس درجہ بندی والے نظام کی مذمت کی اور اسے ''ہر شہری کی واضح ضرورت کا استحصال‘‘ قرار دیا۔ اس گروپ کا کہنا تھا کہ یہ بندش ''ہمارے اپنے فیصلہ سازوں کے ہاتھوں ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی‘‘ کا باعث بن سکتی ہے۔

زیادہ تر لوگوں کے پاس ایران کے قومی انٹرنیٹ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

ایران میں انٹرنیٹ کی بندش سے ملکی معیشت متاثر

سڑکوں پر دکانداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد

انٹرنیٹ کی بندش نے ایران کے کبھی مضبوط اور تعلیم یافتہ متوسط طبقے پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے، جو پہلے ہی جنگ سے قبل ملکی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے باعث مشکلات کا شکار تھا۔

ایران میں معاشی زوال نے حکومت مخالف مظاہروں کی کئی لہریں پیدا کی ہیں، جو حالیہ دسمبر میں دیکھنے میں بھی آئیں۔ ایک سافٹ ویئر ڈویلپر کے مطابق مزید ایرانی ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اس ڈویلپر نے، جس نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہا کہ انٹرنیٹ بندش نے ریموٹ کام کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ان کی کمپنی نے تقریباً تمام ملازمین کو فارغ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ خود بھی بے روزگار ہو گئے۔

اس کے اثرات تہران میں سڑکوں پر بڑھتے ہوئے خوانچہ فروشوں کی صورت میں واضح نظر آ رہے ہیں۔ 32 سالہ رضا امیری، جو پہلے ایک انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی میں ملازم تھے، اب ایک میٹرو اسٹاپ کے قریب ٹوپیاں اور چھتریاں فروخت کرتے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔