ایران میں مزید دو فرانسیسی شہریوں کی حراست کا خدشہ
12 نومبر 2022
فرانسيسی حکومت نے ایران پر 'آمرانہ طرز عمل‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے شہریوں کو 'یرغمال‘ بنایا جا رہا ہے۔ قبل ازیں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شائع کی گئی تھی، جس میں ایک فرانسیسی جوڑا اقرار کر رہا ہے کہ وہ دونوں جاسوس ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔
کیتھرین کولونا نے لی پیرسین اخبار کو ایک انٹرویو میں بتایا، ''ہمیں اپنے دو مزید شہریوں کے بارے میں خدشات ہیں۔ ہم اس حوالے سے موصول ہونے والی متضاد معلومات کو چیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ گزشتہ جمعے کو فرانس کے لی فگارو اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ دونوں مذکورہ شہریوں کو ستمبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز سے قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
سعودی عرب کو ایرانی وارننگ: ہمارا صبر و تحمل ختم ہو سکتا ہے
تاہم ابھی تک فرانس کی حکومت نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اس فرانسیسی جوڑے کو کب اور کہاں گرفتار کیا گیا تھا۔
فرانس اور ایران کے مابین کشیدہ ہوتے تعلقات
حالیہ مہینوں کے دوران فرانس اورایران کے تعلقات خراب ہوئے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ مغربی ممالک کے جوہری مذاکرات بھی منجمد ہو چکے ہیں۔ ان مذاکرات میں بھی فرانس کا اہم کردار تھا۔ دونوں کے ایک دوسرے کے ملک میں سفیر بھی تعینات نہیں ہیں۔
امریکہ کے برعکس یورپی یونین کا ایران کے حوالے سے موقف ہمیشہ نرم رہا ہے لیکن مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد یورپی ممالک بھی امریکہ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں اور تہران حکومت کے خلاف جلد نئی پابندیاں عائد کرنے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کینیڈا اور برطانیہ بھی ان پابندیوں میں یورپی ممالک کا ساتھ دیں گے۔
ایک سفارت کار نے بتایا ہے کہ فرانس نے ایران کو ڈرون فروخت کرنے والوں اور ڈرونز کے لیے الیکٹرانک پرزوں کی برآمد میں شامل افراد پر بھی پابندی لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔
کیتھرین کولونا کا کہنا تھا، ''اگر ایران کا مقصد ہمیں بلیک میل کرنا ہے تو فرانس کے ساتھ معاملات طے کرنے کا یہ غلط طریقہ ہے۔‘‘
دوسری جانب جرمن چانسلر اولاف شولس نے بھی ہفتے کو عنديہ ديا ہے کہ ايران کے خلاف تازہ پابندياں عائد کی جا سکتی ہيں۔ پير کو برسلز ميں يورپی يونين کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہو رہا ہے، جس ميں امکاناً اضافی پابنديوں کی منظوری دے دی جائے گی۔ ہفتے کو برلن ميں بات کرتے ہوئے جرمن چانسلر نے ايران ميں جاری مظاہروں کے خلاف کريک ڈاؤن کو شديد تنقيد کا نشانہ بنايا اور کہا کہ يہ اب آزادی و انصاف کی لڑائی بن چکے ہيں۔
ا ا / ع س ( اے یف پی، روئٹرز)