ایران پر امریکی، اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کے منافی؟
14 مارچ 2026
اٹھائیس فروری کو ایران پر کیے گئے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اس بارے میں بھی بحث شروع ہو چکی ہے کہ بظاہر 'اپنے دفاع کے لیے‘ کیے گئے یہ فضائی حملے قانوناﹰ کس حد تک جائز تھے۔ ان حملوں کی 'دفاعی نوعیت‘ سے متعلق کیے گئے دعوؤں کے متنازعہ ہونے سے لے کر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے تک سبھی اہم ترین پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے کئی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے ضابطوں کے خلاف تھے۔
ایسے میں ان حملوں پر ایران کے جواب اور ملے جلے بین الاقوامی ردعمل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی قانون اپنا اثر کھوتا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی قانون ایسے حملوں کی اجازت دیتا ہے؟
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش ایران پر 28 فروری کو کیے گئے امریکی اسرائیلی فضائی حملوں اور ان کے بعد ایران کے خلاف انہی دونوں ممالک کی طرف سے ابھی تک جاری ایسی کارروائیوں کی مذمت کر چکے ہیں۔ اپنے مذمتی بیان میں گوٹیرش نے اقوام متحدہ کے چارٹر کا حوالہ بھی دیا، جس کے تحت کسی بھی رکن ملک کے خلاف طاقت کا استعمال ممنوع ہے۔ ساتھ ہی گوٹیرش نے کہا تھا کہ یہ حملے ''بین الاقوامی سلامتی اور امن کے لیے شدید خطرہ‘‘ ہیں۔
ایران کا خطے میں اقتصادی مراکز اور بینکوں کو ہدف بنانے کا اعلان
انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، ماہر قانون اور اٹلانٹک کونسل کے اسٹریٹیجک لیٹیگیشن پروجیکٹ کی ڈائریکٹر گیسو نیا نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''میرے خیال میں بین الاقوامی قانون کے زیادہ تر ماہرین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ حملے قانوناﹰ جائز نہیں تھے۔‘‘
انہوں نے کہا، ''ہم ایران پر ایسے حملے دیکھ رہے ہیں، جو صاف ظاہر ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھی جائز نہیں، اور خود امریکہ کے ان قوانین کے تحت بھی ناجائز ہیں، جو اس بارے میں ہیں کہ آپ جنگ کا فیصلہ کب اور کیسے کرتے ہیں۔‘‘
بین الاقوامی قانون کی ماہر گیسو نیا نے تاہم یہ بھی کہا، ''بین الاقوامی قانون تو اس بات کو یقینی بنانے میں بھی ناکام رہا ہے کہ ایران کے ان 92 ملین باشندوں کی زندگی کچھ آسان بنائی جائے، جن میں سے بہت سے بین الاقوامی قانون کی سالہا سال سے جاری خلاف ورزیوں اور ان جرائم کا بھی نشانہ بنے ہیں، جو ایران میں گزشتہ 47 برسوں سے حکمرانوں کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔‘‘
یہ امریکی فوجی کارروائیوں پر لگنے والا پہلا سوالیہ نشان نہیں
کئی قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف فضائی حملوں کے قانوناﹰ جائز ہونے کے حوالے سے اب مسلسل جو سوالات پوچھے جا رہے ہیں، وہ ایسا کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ کی طرف سے بیرون ملک کی گئی کسی فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت کو مشکوک سمجھا گیا ہو۔
امریکہ اور اسرائیل کے تازہ حملے، جوابی ایرانی کارروائیاں جاری
ماضی میں 2003ء میں عراق میں امریکی فوجی مداخلت کے برعکس، اس مرتبہ امریکی حکومت کو تو اس بارے میں کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی کہ وہ بین الاقوامی برادری کو اس امر کا قائل کرنے کی کوشش کرے کہ وہ ایران پر فضائی حملے بین الاقوامی قانون کے مطابق کر رہی تھی۔
ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب
اس کا ایک ثبوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سات جنوری 2026ء کو اخبار نیو یارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں دیا جانے والا یہ بیان بھی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا، ''مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میرا عام لوگوں کو تکلیف پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں۔‘‘
حملوں سے متعلق ذاتی دفاع کی دلیل کافی؟
امریکی اور اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے ساتھ ایران کی وجہ سے پیدا شدہ خطرات کا تدارک کر رہے تھے، خاص طور پر ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار تیار کرنے اور استعمال کرنے کا خطرہ۔ لیکن بہت سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات تو واضح ہی نہیں کہ ایسا کوئی خطرہ اتنا شدید تھا کہ اس کے تدارک کے لیے اقوام متحدہ کے 'ذاتی دفاع‘ سے متعلق بہت سخت ضاطبوں کے تحت ایسی کوئی فوجی کارروائی کی جا سکتی۔
’چوغے کے پیچھے اصل طاقت‘ قرار دیے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای کتنے بااثر ہیں؟
اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت کوئی ملک اپنے دفاع میں طاقت کا استعمال صرف اسی صورت میں کر سکتا ہے کہ اس پر کوئی مسلح حملہ کیا گیا ہو۔ مزید یہ کہ انٹرنیشنل لاء کی تفصیلی وضاحت کے تحت طاقت کا ایسا کوئی بھی استعمال صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے، جب ''فوری خطرہ‘‘ موجود ہو۔ لیکن یہ بات بھی انتہائی متنازعہ ہے کہ آیا ایران کی طرف سے ایسا کوئی ''فوری خطرہ‘‘ موجود تھا۔
ایرانی حکام سرکاری طور پر بھی ماضی میں کئی مرتبہ اسرائیل کو ''تباہ کرنے‘‘ کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی جارحانہ بیان بازی اکیلی ہی اس بات کو جائز نہیں بنا دیتی کہ کسی ملک کے خلاف ''قبل از وقت تدارک کے لیے طاقت کا استعمال‘‘ کیا جائے۔
امریکی بیانات میں حقائق کا تضاد
ایران پر 28 فروری کے فضائی حملوں سے قبل، جب امریکہ خلیج کے خطے میں اپنی فوجی اور جنگی بحری طاقت جمع کر رہا تھا، کئی سرکردہ امریکی نمائندوں حتیٰ کہ صدر ٹرمپ کے مندوب اسٹیو وٹکوف نے بھی 21 فروری کو کہا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں خطرناک ہیں اور وہ ''صنعتی پیمانے کا، جوہری بم بنانے کے لیے استعمال ہونے والا مواد تیار کرنے سے غالباﹰ صرف ایک ہفتہ دور‘‘ تھا۔
ایران پر کسی بھی طرح کے حملوں میں شامل نہیں ہوں گے، اماراتی سفیر
لیکن یہ دعویٰ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے متصادم ہے۔ صدر ٹرمپ نے 2025ء میں ایران پر کیے جانے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔
خامنہ ای کی ہلاکت ایک غیر قانونی اقدام؟
بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی دشمن ملک کے سربراہ مملکت کو قتل کرنا ایک انتہائی متنازعہ عمل ہے۔ کسی جنگ کے دوران جنگجو حریفوں کو ہلاک کرنے کے لیے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر سیاسی رہنماؤں کی دانستہ ہلاکت کو بطور قتل ہی دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز نہ ہو۔
ٹرمپ کا ایران پر ’بہت سخت ضرب‘ لگانے کا انتباہ
اس پہلو سے ایران کے گزشتہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاکت اس مسلح تنازعے کا اب تک کا ''قانوناﹰ حساس ترین اقدام‘‘ ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ میں ایک ایسا ضابطہ بھی ہے، جو اہم شخصیات کی ہلاکت کے عمل میں امریکی شمولیت کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ پابندی پہلی بار صدر جیرالڈ فورڈ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ساتھ 1976ء میں لگائی تھی، جس کی بعد میں آنے والے امریکی صدور توثیق بھی کرتے رہے۔
ایران جنگ جاری رہی تو جلد ہی توانائی برآمدات رک سکتی ہیں، قطر
اس پابندی کے تحت ''امریکی حکومت کا ملازم یا اس کے لیے کام کرنے والا کوئی بھی فرد کسی ایسی سرگرمی میں نہ تو شامل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سازش کر سکتا ہے، جس کا مقصد قتل ہو۔‘‘
لیکن یہ بات بھی تو سچ ہے کہ امریکہ میں گزشتہ عشروں کے دوران اسی قانونی ممانعت کی خلاف ورزی یا اسے نظر انداز کرتے رہنے کا عمل بھی مسلسل رواج پاتا رہا ہے۔
ادارت: جاوید اختر، رابعہ بگٹی