1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برطانوی بادشاہ چارلس کا امریکی کانگریس سے اہم خطاب

جاوید اختر روئٹرز، اے پی کے ساتھ
28 اپریل 2026

ایسے وقت پر جب ایران جنگ کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں، برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم منگل کو کانگریس سے خطاب میں امریکہ کے ساتھ اتحاد کی اہمیت اور جمہوری اقدار کے دفاع کی ضرورت پر زور دیں گے۔

https://p.dw.com/p/5Cxcy
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ پیر کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس پہنچنے پر برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کیملا کا استقبال کر رہے ہیں
طویل عرصے سے طے شدہ یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہےتصویر: Alex Brandon/AP Photo/picture alliance

کنگ چارلس 1991 میں اپنی والدہ ملکہ الزبتھ ثانی کے بعد امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے پہلے برطانوی حکمران ہوں گے۔ تب اپنے خطاب میں ملکہ نے دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ اور جمہوری اقدار کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا، اور توقع ہے کہ بادشاہ چارلس بھی منگل کو انہی نکات کو دہرائیں گے۔

اس طرح کے خطاب کا موقع صرف دنیا کے نمایاں ترین رہنماؤں کو ہی دیا جاتا ہے، جن میں پوپ فرانسس، واسلاو ہاویل اور ونسٹن چرچل بھی شامل رہے ہیں۔

شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا امریکہ کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ امریکہ کے اپنے اس دورے کا آغاز صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے ساتھ کریں گے۔

امریکی کانگریس سے خطاب شاہ چارلس کے دورے کے دوران سب سے اہم عوامی بیان ہو گا، جس کا مقصد برطانیہ اور اس کی سابق نوآبادی کے درمیان گزشتہ 250 برسوں میں قائم ہونے والے تعلقات کو اجاگر کرنا ہے، جنہیں حالیہ دہائیوں میں ''خصوصی تعلقات‘‘ کا نام دیا جاتا رہا ہے۔

کنگ چارلس صدر ٹرمپ اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے درمیان سیاسی کشیدگی سے دور رہیں گے، لیکن وہ دونوں ممالک کی مشترکہ اقدار، جیسے امن، ہمدردی اور جمہوریت کے فروغ، تحفظ ماحول اور مذہبی آزادی پر زور دیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان پر برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کیملا کے اعزاز میں دوپہر کی چائے کی ضیافت کی میزبانی کر رہے ہیں
ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ کے ساتھ ملانے کی کوششوں اور نیٹو سے علیحدگی کی دھمکیوں کے ذریعے روایتی ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو بھی چیلنج کیا ہےتصویر: Suzanne Plunkett/Avalon/Photoshot/picture alliance

یہ دورہ اہم کیوں؟

طویل عرصے سے طے شدہ یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ٹرمپ بار بار برطانیہ کو اس فوجی کارروائی کی حمایت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، جبکہ پینٹاگون کی ایک اندرونی ای میل میں یہ عندیہ بھی دیا گیا تھا کہ واشنگٹن برطانیہ کے جزائر فاک لینڈز پر دعوے کی حمایت پر نظرثانی بھی کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے برطانیہ پر محصولات بھی عائد کیے ہیں اور مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی بھی دی ہے، حالانکہ اس سال کے اوائل میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے ایسے یکطرفہ اقدامات کو زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر برطانیہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد ڈیجیٹل سروسز ٹیکس ختم نہیں کرتا تو وہ اس پر ''بڑا ٹیرف‘‘ لگا دیں گے۔

ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکہ کے ساتھ ملانے کی کوششوں اور نیٹو سے علیحدگی کی دھمکیوں کے ذریعے روایتی ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کو بھی چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کینیڈا، جو برطانوی دولت مشترکہ کا رکن ہے، پر بھی بارہا ٹیرف عائد کیے اور اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔

بادشاہ چارلس کو امریکہ کے دورے کے دوران کانگریس کے کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی درپیش ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے ملاقات کریں۔ تاہم اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ وہ ایسا کریں گے، جبکہ اس جنسی اسکینڈل میں شاہ چارلس کے بھائی کا نام بھی آیا ہے، جنہیں فروری میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ خود کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔