1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت، عارضی ملازمین اور فری لانسرز کے حقوق کی جدوجہد

صلاح الدین زین مرلی کرشن
11 جنوری 2026

بھارت میں گیگ ورکرز یعنی عارضی طور پر کام کرنے والے ملازمین اور فری لانسرز اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان 'گیگ ورکرز کو اکثر کم اجرت، غیر محفوظ حالات اور سوشل سکیورٹی کی کمی کا' سامنا کرنا پڑتا ہے۔

https://p.dw.com/p/56NuJ
زوماٹو کا ڈیلیوری بوائے
صارفین کی جانب سے ریٹنگ کم ہونے یا کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ایسے عارضی ملازمین کو کبھی بھی ایک جھٹکے میں انہیں کام سے فارغ کر دیا جاتا ہےتصویر: Niharika Kulkarni/NurPhoto/picture alliance

بھارت میں لاکھوں غیر رسمی کارکن ایپ پر مبنی پلیٹ فارمز پر ہی پوری طرح منحصر ہوتے ہیں، جن کی روزی روٹی اس سے وابستہ ہے۔ تاہم ایسے کام کرنے والے افراد کو اب کئی طرح کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

راجو کمار بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں معروف آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم زوماٹو کے لیے ڈیلیوری ورکر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

27 سالہ راجو کمار کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ تقریباً 10 گھنٹے کام کرتے ہیں اور گاہکوں تک آرڈر پہنچانے کے لیے انہیں شہر کی شدید ٹریفک میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ انہیں وقت پر ڈیلیوری مکمل کرنے کے لیے بھیڑ بھری سڑکوں پر تیزی سے سفر کرنا پڑتا ہے اور وہ صارفین کی کسی بھی شکایت سے بچنے کی پوری کوشش بھی کرتے ہیں۔

ڈیلیوری بوائے یا گیگ ورکر کے طور پر کمار اس عارضی کام کے ذریعے روزانہ تقریباً 700 سے 900 روپے کماتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "لیکن اس میں جاب سکیورٹی نہیں ہے۔ صرف ایک صارف کی شکایت یا اچانک آئی ڈی بلاک ہونا ہی کافی ہے اور بس مجھے بغیر کسی نوٹس کام سے فارغ کر دیا جائے گا۔" 

وہ اس عمل کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس کے تحت زوماٹو اور اوبر جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنے والوں کے اکاؤنٹس شکایت ملنے پر بند کر دیے جاتے ہیں۔

صارفین کی جانب سے ریٹنگ کم ہونے یا کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں ایسا کبھی بھی ہو سکتا ہے لیکن بعض اوقات یہ محض ایک تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

کمار نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ایپ میں ایک الگورتھمک مسئلے کی وجہ سے ان کا اکاؤنٹ ایک ہفتے کے لیے غیر فعال کر دیا گیا جس سے ان کی آمدن متاثر ہوئی اور وہ اپنے گھر کا کرایہ ادا نہیں کر سکے تھے۔

مغربی بھارت کے شہر ممبئی، جو ملک کا تجارتی مرکز ہے، وہاں 31 سالہ سنتوش پوار بلنکٹ نامی کمپنی کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ کمپنی روزمرہ کی اشیائے ضرورت کی ڈیلیوری کی سروس فراہم کرتی ہے۔ سنتوش کو بھی کمپنی کی دس منٹ میں ڈیلیوری کی شرط پوری کرنے کے لیے شہر کی سڑکوں پر تیزی سے سفر کرنا پڑتا ہے۔

دہلی میں گیگ ورکرز
آن لائن پلیٹ فارمز کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی وضاحت کے  کارکنوں کے اکاؤنٹس جب چاہیں معطل کر دیں، جس سے ان کی آمدن اچانک ختم ہو جاتی ہے  تصویر: Priyanshu Singh/REUTERS

پوار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "گزشتہ ماہ میں پانی سے بھری سڑک پر پھسل گیا اور میری کلائی ٹوٹ گئی تھی۔ کمپنی نے مجھے نہ کوئی معاوضہ دیا اور نا ہی کوئی طبی سہولت، صرف ایک پیغام آیا کہ میں دوبارہ کب آن لائن آؤں گا، یعنی میں کام پر کب لوٹ سکتا ہوں۔" 

پوار درد کے باوجود کام کرتے رہے، جن کا کہنا ہے، "اگر میں ڈیلیوری نہ کروں تو ہم کھانا کہاں سے کھائیں گے۔"

بڑھتا ہوا غصہ اور مایوسی

جیسے جیسے گیگ ورکرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ہی کام کے حالات کے حوالے سے غصہ اور مایوسی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

مثال کے طور پر ایسے پلیٹ فارمز کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ بغیر کسی وضاحت کے  کارکنوں کے اکاؤنٹس جب چاہیں معطل کر دیں، جس سے ان کی آمدن اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ 

ایسے ملازمین کام کے دوران اگر بیمار پڑ جاتے ہیں یا زخمی ہو جائیں، تو عموماً ان کے لیے نہ تو کوئی انشورنس ہوتی ہے اور نہ ہی تنخواہ سمیت رخصتی کا کوئی طریقہ۔

اس صورتحال میں تمام طرح کے خطرات کارکنوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ کمپنیاں مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں۔

اسی پس منظر میں، بعض مزدور تنظیموں نے نئے سال کے موقع پر ہڑتال کا اہتمام  کیا جو ڈیلیوری کے لحاظ سے سال کے مصروف ترین اوقات میں سے ایک ہوتا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہر گیگ ورکر کے لیے کم از کم ماہانہ آمدن مقرر کی جائے جو 24,000 سے 40,000 روپے تک کے درمیان ہو۔ اس کے ساتھ ہی ادائیگی کے شفاف نظام کو یقینی بنایا جائے۔

آل انڈیا گیگ اینڈ پلیٹ فارم ورکرز یونین (اے آئی جی پی ڈبلیو یو) کے صدر سنجے گابا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہمارا مشن یہ ہے کہ گیگ ورکرز کو محض عارضی مزدور سمجھنے کے تصور کو چیلنج کیا جائے۔ اس کے بجائے ہم انہیں ایک ایسی متحدہ مزدور تحریک کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ان کے کام کو وقار کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور انہیں محفوظ اور مستحکم کام کے ماحول میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔"

گیگ ورکرز
گیگ ورکرز ہم چاہتے ہیں کہ پلیٹ فارمز ایک ایسے فلاحی فنڈ میں حصہ ڈالیں، جو صحت بیمہ، حادثہ پیش آنے کی صورت میں امداد، پنشن اور دیگر ایسی سہولیات فراہم کریںتصویر: REUTERS

مزید ہڑتالوں کی وارننگ

بھارتی حکومت نے حال ہی میں نئے لیبر قوانین متعارف کرائے ہیں جس کے تحت قومی سطح پر کم سے کم اجرت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ایسے غیر منظم شعبے اور گیگ ورکرز تک سماجی تحفظ کے فوائد کو بھی وسعت دی گئی ہے۔

انڈین فیڈریشن آف ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ ورکرز (آئی ایف اے ٹی) کے صدر پرشانت سوارڈیکر نے گیگ ورکرز کی مدد کے لیے ایک فلاحی فنڈ قائم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، "ہم چاہتے ہیں کہ پلیٹ فارمز ایک ایسے فلاحی فنڈ میں حصہ ڈالیں، جو صحت بیمہ، حادثہ پیش آنے کی صورت میں امداد، پنشن اور دیگر ایسی سہولیات فراہم کریں جن سے فی الوقت کارکن مکمل طور پر محروم ہیں۔"

انہوں نے مزید ہڑتالوں کی وارننگ دیتے ہوئے کہا، "نئے سال کی شام پر ہم نے صرف ایک جھلک دیکھی ہے۔ اصل جدوجہد اب شروع ہو رہی ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ہم اپنے مطالبات کے لیے دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔" 
ادارت: رابعہ بگٹی

مرلی کرشنن

سری لنکا: چائے چننے والے مزدور صحت کی سہولیات سے محروم

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔