1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت میں امریکہ مخالف جذبات خاموشی سے بڑھتے ہوئے

جاوید اختر (مصنفہ: مہیما کپور)
28 اپریل 2026

بھارت میں امریکہ مخالف جذبات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایران جنگ کے باعث بھارتی عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور صدر ٹرمپ سے متعلق رائے عامہ منفی ہوتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ایک عرصے سے پیدا ہو رہا تھا۔

https://p.dw.com/p/5Cvvz
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، بائیں جانب، ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، دائیں جانب، واشنگٹن ڈی سی میں 13 فروری 2025 کو وائٹ ہاؤس کے ایسٹ روم میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیکھ رہے ہیں
مودی کو کبھی "دوست" کہنے والے ٹرمپ نے بھارت کے بارے میں اپنا مؤقف سخت کر لیا ہے اور کہا ہے کہ روسی تیل خرید کر اس نے یوکرین کی جنگ کو مالی مدد فراہم کی (فائل فوٹو: 13 فروری 2025)تصویر: Molly Riley/White House/Planet Pix/ZUMA/picture alliance

گزشتہ ہفتے نئی دہلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر دیے گئے ان بیانات کو ''نامناسب‘‘ قرار دے دیا، جن میں انہوں نے بھارت کو ''جہنم جیسی جگہ‘‘ کہا تھا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا، ''یہ بیانات ہرگز بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے، جو طویل عرصے سے باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی رہے ہیں۔‘‘

یہ تبصرے ایسے وقت پر سامنے آئے، جب بھارت میں معاشی دباؤ کے وسیع تر عوامل امریکہ کے حوالے سے عوامی جذبات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

مرکزی ٹریڈ یونینز کے کارکنان نے 13 اگست 2025 کو کولکاتا میں امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پتلا نذرِ آتش کیا
ٹرمپ کے بعض اقدامات جیسے کہ جولائی 2025 میں بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصولات عائد کرنے کے اعلان نے عام بھارتی شہریوں کو امریکہ سے ناراض کر دیا تصویر: Samir Jana/Hindustan Times/Sipa USA/picture alliance

بھارتی امریکی تعلقات

بھارت اور امریکہ کے تعلقات مشترکہ معاشی، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی مفادات پر قائم ہیں۔ لیکن امریکہ کے بارے میں بھارت کا کبھی پرامید اور مثالی تصور اب بتدریج بدل رہا ہے۔

گزشتہ سال امریکی صدر اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان اس وقت سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب صدر ٹرمپ نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا اور خود کو اس کا ثالث قرار دیا تھا۔

جولائی 2025 میں امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی محصولات عائد کرے گا،جو دنیا میں اپنی نوعیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔ اگست 2025 میں دہلی پالیسی گروپ تھنک ٹینک کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سابق سفارتکار ہیمنت کرشن سنگھ نے کہا تھا، ''امریکہ اور بھارت کے تعلقات ایک اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے، اعتماد متزلزل ہو گیا ہے، غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اور بھارت میں عوامی حمایت کمزور پڑ گئی ہے۔‘‘

گزشتہ ماہ نئی دہلی میں امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے کہا، ''بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ ہم وہی غلطیاں بھارت کے ساتھ نہیں دہرائیں گے جو ہم نے چین کے ساتھ کی تھیں۔‘‘

سابق بھارتی سفیر برائے امریکہ نوجیت سرنا کے مطابق، ''یہ گزشتہ ایک سال میں ہونے والے واقعات کا نتیجہ تھا، اور امریکی نائب وزیر خارجہ کا اس طرح کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ بھارت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔‘‘

لوگ اپنی دو پہیوں والی گاڑیوں میں پیٹرول بھرانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں کیونکہ ممکنہ سپلائی میں خلل کا خدشہ ہے، یہ صورتحال امریکہ-اسرائیل اور ایران کے جاری تنازع کے دوران احمد آباد، بھارت میں 24 مارچ 2026 کو دیکھی گئی
بھارت اپنی خام تیل کی درآمدات کے 40 فیصد سے زیادہ کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اور توانائی کے بحران کے باعث ایندھن کے لیے لمبی قطاریں لگ گئی ہیںتصویر: Amit Dave/REUTERS

وہ امریکی اقدامات جن سےعام بھارتی شہری متاثر ہوئے

ماہرین نے مزید کئی واقعات کی نشاندہی کی ہے، جن میں ایچ ون بی ویزا پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہیں، نیز صدر ٹرمپ سے وابستہ انفلوئنسرز کی جانب سے بھارت کے بارے میں نسلی تعصب پر مبنی بیانیوں کو فروغ دینا، اور خود ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو عارضی طور پر روسی تیل خریدنے کی 'اجازت‘ دینا بھی شامل ہے۔

صحافی کیرن ریبیلو کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے ''صورتحال کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔‘‘

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''بھارتی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، اسٹاک مارکیٹ میں خسارے ہوئے، سپلائی چین متاثر ہوئیں۔ عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثرات پڑے، اور اس سے بھارت میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔‘‘

بھارت کے دائیں بازو کے ووٹرز، جن میں بڑی تعداد چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروباری افراد پر مشتمل ہے، نظریاتی مماثلت کی وجہ سے بڑی حد تک ٹرمپ کے حامی رہے ہیں۔

ریبیلو کے مطابق، ''دونوں مذہب پر زور دیتے ہیں، دونوں قدامت پسند اور تجارت کے حامی ہیں، اور دونوں مسلم اقلیتوں کو دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ تاہم روایتی حمایت اب خاموش مایوسی میں بدل رہی ہے کیونکہ لوگوں کے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

ہندو سینا کے کارکنان، جو ایک ہندو دائیں بازو کا گروہ ہے، 3 نومبر 2020 کو نئی دہلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے
ہندو قوم پرست جماعتیں ایک وقت ٹرمپ کو انتہائی عقیدت اور امید سے دیکھتی تھیںتصویر: Adnan Abidi/REUTERS

امریکہ سے متعلق بھارتی میڈیا کے موقف میں تبدیلی

نریندر مودی حکومت نے موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے عمومی طور پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سرنا نے کہا، ''بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھے گا جو مسلسل کوششوں کے نتیجے میں تعمیر ہوا ہے، تاکہ سب کچھ ضائع نہ ہو جائے۔‘‘ حتیٰ کہ بھارت نے ایسے مواقع پر بھی تحمل کا مظاہرہ کیا، جب سخت موقف اپنانا جائز ہو سکتا تھا۔

تاہم جہاں حکومت نے احتیاط برتی، وہیں حکومت کے حامی انفلوئنسرز نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان انفلوئنسرز نے ایسے مواد شائع کیے جو ’’اچھے دوست‘‘ والے بیانیے سے ہٹ کر ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں تو ٹرمپ کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔

سندیپ نروانی، جو بھارت میں قائم اے آئی ریسرچ فرم 'نیریٹیو ریسرچ لیب‘ کے شریک بانی ہیں، نے کہا، ''امریکہ مخالف جذبات حالیہ عرصے میں یقیناً اپنی بلند ترین سطح پر ہیں۔‘‘

نروانی کے مطابق مرکزی دھارے کے بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی اپنا پہلے والا ٹرمپ نواز موقف چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''ماضی میں ٹی وی چینلز زیادہ تر امریکہ کے حامی تھے، لیکن اب کوریج میں واضح توازن محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی 25 فروری 2020 کو نئی دہلیارت میں مشترکہ بیان دینے کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں
نریندر مودی حکومت نے موجودہ ٹرمپ انتظامیہ کے حوالے سے عمومی طور پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہےتصویر: Manish Swarup/AP/picture alliance

موجودہ صورت حال کا بھارتی امریکی تعلقات پر آئندہ اثر

فی الحال بھارت میں عوامی جذبات کی تبدیلی سے امریکی بھارتی تعلقات پر بہت زیادہ منفی اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ تاہم ظاہری سطح کے نیچے جاری تبدیلی کو نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

بہت سے بھارتیوں کے لیے امریکہ اب صرف ایک شراکت دار یا قابل تقلید ماڈل نہیں رہا بلکہ ایک ایسی طاقت بن گیا ہے، جس کے فیصلے اس کی اپنی سرحدوں سے بہت دور بھی عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ نئی سوچ، جو نہ صرف جغرافیائی سیاست بلکہ حقیقی معاشی مشکلات سے بھی جنم لے رہی ہے، ممکن ہے کہ کسی سفارتی تنازعے سے کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہو۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔