بھارتی خلائی ادارے اسرو کو اپنے مشن میں ناکامی کا سامنا
12 جنوری 2026
بھارتی خلائی ادارے اسرو کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل کے ایک مشن کو پیر کے روز اس وقت بڑا دھچکا لگا، جب تکنیکی خرابی کی وجہ سے وہ طے شدہ پرواز کے راستے سے بھٹک گیا اور اس کے سیٹلائٹس کی تعیناتی کا ابھی تک کچھ اتا پتہ نہیں ہے۔
260 ٹن وزنی پی ایس ایل وی-ڈی ایل ماڈل صبح 10 بج کر 17 منٹ پر گرج دار آواز کے ساتھ فضا میں بلند ہوا اور حکام کے مطابق پہلے دو مراحل کی کارکردگی ٹھیک تھی، تاہم تیسرے مرحلے پر وہ راستے سے ہٹ گیا۔
بھارتی خلائی اداے اسرو کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن کا کہنا ہے کہ اس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور خلائی ادارہ جلد از جلد تفصیلات فراہم کرے گا، تاہم انہوں نے مشن کو کامیاب یا ناکام قرار دینے سے بھی گریز کیا۔
یہ پرواز 2025 میں ناکامی کے بعد لانچ وہیکل کے لیے ایک نہایت اہم مرحلہ سمجھا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ مجموعی طور پر سولہ سیٹ لائٹس مدار میں پہنچنی تھیں، جن کا اس مرحلے پر کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں پہنچیں اور کس حال میں ہیں۔
اس مشن میں برازیل، نیپال اور برطانیہ سمیت کئی غیر ملکی ممالک کے سیٹلائٹ شامل تھے۔
بھارت کے خلائی عزائم کو اس وقت بڑا دھچکا پہنچا جب اسرو کا پی ایس ایل وی-سی 62 مشن ناکامی سے دوچار ہوا۔ 12 جنوری 2026 کو سری ہری کوٹا سے شاندار لانچ کے باوجود تمام 16 سیٹلائٹ خلا میں ضائع ہو گئیں۔
حکام کے مطابق تیسرے مرحلے کے مشن کنٹرول میں اچانک خاموشی چھا گئی، کیونکہ ٹیلی میٹری کو کوئی تازہ معلومات موصول نہ ہو سکیں۔ اس سے مدار میں سیٹلائٹ داخل کرنے میں ناکامی کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ گزشتہ سال کے پی ایس ایل وی-سی 61 کے سانحے سے مشابہ ہے۔ اس مشن کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اسرو کو بڑا دھچکا
اگر اس مشن کو سرکاری طور پر ناکام قرار دیا جاتا ہے تو یہ پی ایس ایل وی کی 64 لانچز میں پانچویں ناکامی ہو گی۔ اپنی 63ویں پرواز تک پی ایس ایل وی چار ناکامیوں کا پہلے ہی سامنا کر چکا ہے۔
اگرچہ 64 لانچز میں پانچ ناکامیاں مجموعی طور پر خراب کارکردگی نہیں سمجھی جاتیں، تاہم اس کے باوجود یہ نتیجہ بھارتی خلائی پروگرام کے لیے ایک دھچکا ہو گا۔ تاہم یہ دھچکا صرف اسرو تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ اس مشن میں برازیل، نیپال اور برطانیہ سمیت کئی غیر ملکی ممالک کے سیٹلائٹ شامل تھے۔
پی ایس ایل وی کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد لانچ وہیکل سمجھا جاتا ہے اور یہ بھارت کے تجارتی خلائی عزائم میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم کئی بار یہ اپنے مقصد میں پوری طرح سے ناکام رہا ہے۔