1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ترکی، حکومت مخالف ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر پولیس کے چھاپے

عابد حسین14 دسمبر 2014

پولیس نے ترکی کے مختلف شہروں میں چھاپے اُن میڈیا ہاؤسز پر مارے جو ایردوآن مخالف تصور کیے جاتے ہیں اور مبلغ فتح اللہ گُلین کے حامی ہیں۔ پولیس نے گُلین کے دو درجن کے قریب حامیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1E3wf
تصویر: Reuters/M. Sezer

پولیس نے تیرہ مختلف شہروں میں بیک وقت چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا۔ تاریخی شہر استنبول کے نواح میں واقع اخبار زمان کے دفتر پر بھی اتوار کی علی الصبح پولیس نے دھاوا بولا۔ پولیس اخبار کے دفتر میں تلاشی کا کام کر رہی تھی کہ یہ خبر سارے علاقے میں پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ کا ایک جم غفیر زمان اخبار کے دفتر کے باہر جمع ہو کر نعرے بازی کرنے لگا۔ اِس دوران ہلکی سی بگھدڑ بھی مَچی لیکن صورت حال سنبھل گئی۔ پولیس بھی لوگوں کی بھیٹر کے تناظر میں تلاشی کا عمل چھوڑ کر چلتی بنی۔ یہ اخبار بھی امریکا میں جلا وطنی کی زندگی بسر کرنے والے مبلغ فتح اللہ گُلین کے قریب خیال کیا جاتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ فتح اللہ گُلین اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔ ماضی میں یہ ایک دوسرے کے دوست اور کارباری حلیف بھی بتائے جاتے ہیں۔ ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق بتیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اخبار زمان سے انسدادِ دہشت گردی کی پولیس کے واپس جانے کے بعد ایڈیٹر اکرم دُمانلی نے باہر کھڑے ہجوم سے خطاب بھی کیا۔ اس میں دُمانلی کا کہنا تھا کہ حکومتی ہتھکنڈوں سے صحافت کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ زمان اخبار کے ایڈیٹر نے پولیس پر واضح کیا کہ وہ اُسے بھی گرفتار کر کے لے جائیں۔

Zechenmanager nach Grubenunglück in der Tükei festgenommen
پولیس چھاپوں کا سلسلہ ایردوان کے قریبی حلقوں کے خلاف اٹھنے والے کرپشن اسکینڈل کے تقریباً ایک سال بعد شروع ہوا ہےتصویر: picture-alliance/dpa

ترکی کے مختلف شہروں میں پولیس چھاپوں کا سلسلہ ایردوان کے قریبی حلقوں کے خلاف اٹھنے والے کرپشن اسکینڈل کے تقریباً ایک سال بعد شروع ہوا ہے۔ ایردوآن نے کرپشن اسکینڈل کو اپنی حکومت کو گرانے کا عمل قرار دیا تھا۔ حکومتی پارٹی کو یقین ہے کہ ایک سال پہلے کے کرپشن اسکینڈل کے پیچھے فتح اللہ گُلین اور اُن کے حامیوں کا ہاتھ تھا۔ ترک صدر کے الزامات کی اُن کے سابق حلیف تردید کرتے ہیں۔ گزشتہ برس کے کرپشن اسکینڈل کی تفتیش کے بعد ایردوان کے تین قریبی وزراء نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پولیس چھاپوں کو ترک صدر کے ایک حالیہ بیان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جھوٹوں کا ہر ممکن حد تک پیچھا کیا جائے گا۔ ایردوآن نے دارالحکومت انقرہ میں ایک کارباری فورم سے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جھوٹ بولنے والوں کو پہلے بھی نہیں چھوڑا گیا تھا اور اب بھی اُن کا تعاقب کیا جائے گا۔ ایردوآن حکومت نے اِن دنوں ایسی قانون سازی کی ہے، جس کے تحت عدلیہ پر بھی حکومتی کنٹرول بڑھ گیا ہے۔ ایک حالیہ دستوری ترمیم کے بعد خاص طور پر اعلیٰ ترین دستوری عدالت کی تشکیلِ نو کو اہم خیال کیا گیا ہے۔