جب پوری قوم نکل آئے گی تو کنٹینرز روک نہیں پائیں گے: تحریک انصاف
10 اگست 2014
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی صدارت میں پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس آج اتوار کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ تحریک انصاف کے چودہ اگست کو حکومت کے خلاف ‘‘آزادی مارچ’’ سے چار دن قبل پارٹی کی اعلٰی قیادت کے اس اجلاس کو خاصہ اہم قرار دیا جارہا تھا۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے تحریک انصاف کی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے عمران خان کو گرفتار کرنے یا حفاظتی تحویل میں لینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف پارٹی کے کارکن مزاحمت کریں گے۔ انہوں حکومت سے کہا کہ وہ مخلتف جگہوں پر سے کنٹینرز ہٹائے اور پٹرول اسٹیشنز کھولے۔
انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ شیرں مزاری نے کہا، "کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کوئی مطالبات پیش نہیں کیے جائیں گے چودہ اگست سے پہلے ، آزادی مارچ ہوگا ہرحال میں اس کے بعد ہم اگلا لائحہ عمل بتائیں گے کہ کیا ہماری ڈیمانڈز ہیں؟جب ہم اسلام آباد پہنچ جائیں گے تو حکومت کی روکاوٹیں ناکام ہوں گی ۔ جب قوم پوری نکل کر آئے گی تو کوئی کنٹینر روک نہیں سکے گا۔ یہ آزادی مارچ آئے گا اسلام آباد تک حکومت کو ہٹنا پڑے گا اور میاں نواز شریف کو استعفی دینا پڑے گا" ۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کل بروز پیر مئی دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے طریقہ کار اور اس میں ملوث افراد کے ناموں سے پردہ اٹھائیں گے۔
دوسری جانب دارالحکومت اسلام آباد کی انتظا میہ نے تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاجی مارچ سے چار روز قبل ہی حفاظتی نقطہ نظر سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات شروع کر رکھے ہیں۔ اسلام آباد کو جڑواں شہر راولپنڈی سے ملانے والے تمام راستوں پر نہ صرف کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں بلکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کہ شہریوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ ڈیوٹی پرموجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے سخت تلاشی لینے کے عمل کے دوران اور شہریوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں بعض مقامات پر پٹرول اسٹیشن بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناہے جو پٹرول اسٹیشن کھلے ہوئے ہیں وہاں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے تکالیف اور دشواریوں کا سامنا کرنے پر شہریوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فساد کے خطرے کے پیش نظر مجبوری میں سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب اشارہ کرتے ہو ئے کہا کہ فسادی جدید اسلحے سے لیس ہیں اور املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان آزادی نہیں بلکہ بربادی مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لئے کمیٹی بنا دی ہے تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ کمیٹی میں آکر تجاویز دے۔
دریں اثناء ملکی آئین توڑنے کے الزمات پر سنگین غداری کے مقدمے کا سامنا کرنے والے پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بھی اتوار کو تین ماہ بعد خاموشی توڑ دی ہے۔ کراچی سے ٹیلی فون پر اسلام آباد میں اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو مستعفی ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روز گاری بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں بھاگ رہے بلکہ اپنی بیمار والدہ کی عیادت کے لئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے اور وہ واپس پاکستان ہی آئیں گے۔اس سے قبل ان کی جماعت کے کنونشن میں پرویز مشرف کو پارٹی کاچیئرمین منتخب کر لیا گیا۔