’جی ٹوئنٹی میں کرنسی کی قدر میں کمی کا رجحان خطرناک ہے‘
12 فروری 2015
بھارت کے دورے پر گئے امریکا کے وزیر خزانہ جیک لیُو کا کہنا ہے کہ جی ٹوئنٹی گروپ کے بعض ملکوں میں کرنسی کی قدر میں کمی کا جو رجحان موجود ہے، امریکا اُس کے خلاف بھرپور جوابی اقدامات تجویز کرتے ہوئے اِس عمل کو روکے گا۔ جیک لیُو کے مطابق کرنسی کی قدر میں کمی کر کے بعض ملک غیر اُصولی تجارتی مُنفعت کا حصول چاہتے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے کرنسی کی قدر میں کمی کے رجحان کو کمزور ایکسچینج ریٹ سے بھی نتھی کیا ہے۔
ترقی پذیر اور ترقی یافتہ اقوام کے گروپ جی ٹوئنٹی کا سالانہ سربراہ اجلاس رواں برس بحیرہ رُوم پر واقع ترک سیاحتی و ساحلی شہر انطالیہ میں منعقد ہو گا۔ اِس سمٹ کے ایجنڈے کی تیاری کے سلسلے میں جی ٹوئنٹی کے وزرائے خزانہ کا اجلاس نو اور دس فروری کو ترکی ہی کے تاریخی شہر استنبول میں منعقد کیا گیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ نے استنبول کے وزارتی اجلاس میں بھی کرنسی کی قدر کے رجحان پر امریکی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ جیک لیُو نے جہاں اپنی تشویش کا اظہار کیا وہاں اُن ملکوں کے نام نہیں بتائے جو کرنسی کی قدر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارت میں اپنے قیام کے دوران امریکی وزیر خزانہ نے نیو دہلی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کرنسی کی قدر میں کمی پیدا کرنے والے ملکوں کا غیر منضفانہ تجارتی فائدے اٹھانے کے عمل کو اُن مالیاتی مشکلات کے شکار ممالک سے موازنہ کیا جو قرضوں کے حصول سے ملکی پیداواری عمل کو بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیُو نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ تجارت میں غیر اصولی فائدے حاصل کرنے والوں کی شدید مخالفت کی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِس وقت کئی ملکوں میں کرنسی کی قدر میں کمی کی دوڑ جاری ہے اور یہ انجام کار ایک بہت بڑی غلطی کے طور پر سامنے آئی گی۔ بھارت نے کرنسی میں قدر کی دوڑ میں امریکا کو اپنا تعاون پیش کیا ہے۔
امریکی اقتصادیات کے حوالے سے جیک لیُو کا کہنا تھا کہ اُن کے ملک میں حالیہ سالوں میں پائیدار معاشی ترقی ظاہر ہوئی ہے اور اِس باعث روزگار کے مواقع جہاں پیدا ہوئے ہیں وہاں اجرتوں میں بہتری اور ریئل اسٹیٹ بزنس میں ریکوری ظاہر ہوئی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق یورپی اقوام مالیات کے زری اصولوں کے استعمال کیے بغیر شرحِ پیدوار میں بہتر ی دکھانا چاہتے ہیں اور ایسا ممکن نہیں۔ لیُو کے خیال میں یورپ کو اِس وقت یوکرائن کے تنازعے اور یونان کے مالیاتی بحران کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔