حد سے زیادہ سیاحوں سے متاثرہ یورپی شہر
شاندار فن تعمیر اور ثقافت پر فخر کرنے والے ایمسٹرڈیم اور روم جیسے یورپی شہر لاتعداد سیاحوں کے لیے مقناطیسی کشش تو رکھتے ہیں لیکن یہ بات مقامی لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بھی ہے۔

وینس
وینس یورپ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ بدقسمتی سے اس کی خوبصورتی اسے بہت مہنگی پڑ رہی ہے کیونکہ لاکھوں سیاح ہر سال شہر میں آتے ہیں اور یہاں کے مکینوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتے ہیں۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے شہر کے حکام ڈے ٹرپرز کی انٹری فیس پر غور کر رہے ہیں۔ بہت سے سیاح بحری جہازوں سے وینس میں اترتے ہیں۔ وینس میں حالیہ برسوں میں باقاعدگی سے سیاحوں کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔
فلورنس
فلورنس ایک اور یورپی شہر ہے، جو یورپ میں خوبصورت فن تعمیر اور عالمی معیار کے عجائب گھروں کی وجہ سے سیاحوں کے لیے اتنی دلچسپی کا باعث ہے کہ وہ یہاں آئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا اندرون شہر سیاحوں سے اس قدر بھرا رہتا ہے کہ یہاں بمشکل کوئی مقامی باشندہ نظر آتا ہے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے حکام نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روم
روم کا کوئی مشہور نشان اپنے پاس رکھنا بہت نایاب سمجھا جاتا ہے۔ اطالوی شہر کے بہت سے تاریخی اور ثقافتی پرکشش مقامات سیاحوں کے لیے ایک حقیقی مقناطیس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 2019ء میں، روم میں رات کا قیام کرنے والے سیاحوں کی ریکارڈ تعداد، قریب 26 ملین تھی۔ حکام نے ٹریوی فاؤنٹین تک رسائی کو محدود کر کے اور ہسپانوی اسٹیپس پر بیٹھنے کی اجازت نہ دے کر سیاحت کے انتظامات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
پراگ
چیک دارالحکومت میں دیکھنے اور اسے اپنی یادداشت میں سجا لینے کے متعدد حیسن مناظر اور مقامات پائے جاتے ہیں۔ چارلس برج پر ٹہلنا، چیک بئیر نوش کرنا، گولڈن پراگ کی حسین یاد اور بہت کچھ سیاحوں کے لیے منفرد کشش رکھتا ہے۔ کورونا وبا سے قبل اس شہر میں ہر سال سات تا آٹھ ملین سیاح آیا کرتے تھے۔ 1.3 ملین آبادی والے اس شہر میں کورونا کے دور سے لے کر حالیہ دنوں تک سیاحوں کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔
دوبروونیک
جب سے اس شہر کا نام ٹیلی ویژن سیریز "گیم آف تھرونز" میں شامل ہوا، تب سے دوبروونیک ہر کسی کی زبان پر ہے۔ اس کا دلکش پرانا شہر یونیسکو کےعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ کئی سالوں سے سیاحوں کی تعداد اس چھوٹے سے قصبے پر بوجھ بنتی جا رہی ہے، جو 2011 ء میں پانچ لاکھ تھی جبکہ سے 2019 ء تک ہونے والے اضافے سے یہ 1.5 ملین ہو گئی۔ حکام اس کےتاریخی مرکز تک رسائی کو محدود کرنے پرغور کر رہے ہیں۔
ایمسٹرڈیم
ایمسٹرڈیم برسوں سے سیاحوں کی ضرورت سے زیادہ تعداد سے متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ اسے’لذت پسندوں‘ کے لیے جنت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مقامی لوگ اس سے پریشان ہیں اورمحسوس کرتے ہیں کہ شہر کی سڑکوں پرسیاحوں کی بھیڑ کی وجہ سے ان کا معیار زندگی گرتا جا رہا ہے۔ شہری حکام بعض علاقوں میں شراب کے استعمال اور بھنگ پر بھی پابندی لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 2023ء میں تقریباً 18 ملین سیاحوں کی ایمسٹرڈیم آمد متوقع ہے۔
بارسلونا
2019 ء میں، بارسلونا میں سیاحوں کی تعداد 12 ملین ریکارڈ کی گئی تھی حالانکہ اس کی آبادی صرف 1.6 ملین ہے۔ اگرچہ کووڈ وبائی مرض کے باعث سیاحوں کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی لیکن اس کے باوجود مقامی باشندے سیاحوں کی بھیڑ کے اثرات سے تنگ آ چکے ہیں۔ 2022 ء میں شہر نے وسطی بارسلونا کے گائیڈڈ ٹورز پر پابندی عائد کر دی تھی۔
لزبن
کورونا وبائی مرض سے پہلے یہاں ہر سال چار سے چھ ملین سیاح آتے تھے جبکہ پرتگال کے دارالحکومت کی آبادی صرف نصف ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر سیاحت مقامی ہاؤسنگ سیکٹر پر زبردست دباؤ کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ بہت سے اپارٹمنٹس کو تعطیلاتی رہائشوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور کم آمدنی والے لوگوں کو مضافاتی علاقوں میں رہنا پڑ رہا ہے۔