1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتمتحدہ عرب امارات

دبئی کی مالیاتی مرکز کے طور پر ساکھ کئی سوالات کے گھیرے میں

جاوید اختر (مصنف: نِک مارٹن)
5 مئی 2026

ایران جنگ کے سبب امیر طبقہ خاموشی سے دبئی سے اپنا سرمایہ اور دیگر اثاثے سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ منتقل کر رہا ہے، اور یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ ایک محفوظ کاروباری مرکز کے طور پر اس امارت کی شہرت کتنی حقیقی ہے؟

https://p.dw.com/p/5DHid
برج خلیفہ ، دبئی
دبئی ایسے بظاہر ناممکن منصوبوں کی ایک طویل فہرست کا مرکز ہے جو عالمی شناخت بن چکے ہیں، جیسے برج خلیفہ جو دنیا کی بلند ترین عمارت ہےتصویر: David Davies/empics/PA Wire/picture alliance

متحدہ عرب امارات کی دوسری امیر ترین امارت نے خود کو ایک محفوظ مالیاتی مرکز کے طور پر پیش کیا، جہاں زیادہ دولت رکھنے والے افراد اعتماد کے ساتھ اپنا سرمایہ رکھ سکتے تھے، اپنے کاروبار چلا سکتے تھے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکتے تھے۔

تاہم بڑی محنت سے بنائی گئی یہ ساکھ ایران جنگ کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

خلیجی اہداف پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے شدید معاشی دھچکا دیا، جس کے نتیجے میں دبئی اور پڑوسی امارت ابوظہبی کی اسٹاک مارکیٹوں کی قدر میں ابتدائی طور پر 120 بلین ڈالر (103 بلین یورو) کی کمی واقع ہوئی۔

لندن میں قائم اقتصادی تحقیقی ادارے کیپیٹل اکنامکس کے مطابق اسی دوران سیاحت میں نمایاں کمی ہوئی اور ہوٹلوں کی بکنگ معمول کے 70 سے 80 فیصد تک کے مقابلے میں کم ہو کر صرف 20 فیصد رہ گئی، جبکہ دبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے آنے جانے والی پروازیں بھی تقریباً دو تہائی تک کم ہو گئیں۔

اگرچہ ایک عارضی فائر بندی کے دوران فضائی آمد و رفت، سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو رہی تھیں، تاہم پیر چار مئی کی شام متحدہ عرب امارات کے فجیرہ آئل کمپلیکس پر ایک نئے ایرانی ڈرون حملے نے یہ تلخ یاد دہانی کرائی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی جتنی زیادہ دیر تک جاری رہے گی، دبئی کی عالمی کاروباری مرکز کے طور پر ساکھ کو اتنا ہی زیادہ خطرہ لاحق رہے گا۔

ایک شخص دبئی میں اسٹاک ایکسچینج میں نصب اسکرین کے قریب بیٹھ کر اپنے موبائل فون پر نظر ڈال رہا ہے، جہاں اسٹاک انڈیکسزدکھائی دے رہے ہیں
ایران جنگ کے آغاز (فروری 2026) کے فوراً بعد، دبئی کی مارکیٹ میں شدید گراوٹ آئی۔ مرکزی انڈیکس تقریباً 20 فیصد سے زیادہ نیچے چلا گیا اور بعض دنوں میں 4–5 فیصد تک کی تیزی سے کمی بھی دیکھی گئیتصویر: GIUSEPPE CACACE/AFP

محفوظ کاروباری مرکز کی حیثیت معطل

کچھ بہت زیادہ دولت مند افراد، جنہوں نے دبئی کو امیروں اور مشہور شخصیات کے لیے ایک تفریحی مقام کے طور پر اپنا رکھا تھا، اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ واقعی وہ محفوظ جگہ ہے، جس کا اس نے ایسے امراء سے وعدہ کیا تھا۔ بہت سے افراد نے اپنے کم از کم کچھ اثاثے رکھنے کے لیے دو دیگر بڑے مالیاتی مراکز، سنگاپور اور سوئٹزرلینڈ کا رخ بھی کر لیا ہے۔

دونوں ممالک میں ویلتھ ایڈوائزرز نے اپنی حالیہ رپورٹوں میں کہا ہے کہ دبئی میں مقیم کلائنٹس کی جانب سے کیے جانے والے رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سوئس نجی بینکار تو خلیجی ممالک سے دسیوں بلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کی آمد کی توقع بھی کر رہے ہیں۔

سنگاپور میں مقیم وکیل اور بے فرنٹ لا کے ڈائریکٹر ریان لِن کے مطابق یہ دونوں مراکز ایک دوسرے کے حریف ہونے کے بجائے مختلف نوعیت کی دولت کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

لِن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''سوئٹزرلینڈ عموماً یورپی اورگلوبل کلائنٹس کے لیے زیادہ پرکشش ہوتا ہے، جبکہ سنگاپور ایشیائی نژاد دولت مندوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘

سنگاپور نے اس ماڈل کی بنیاد رکھی جسے بعد میں دبئی نے اپنایا، جہاں فیملی آفسز کے لیے ایک جدید نظام تشکیل دیا گیا۔ یہ نجی ادارے ہوتے ہیں، جو سرمایہ کاری، ٹیکس اور جائیداد کی منصوبہ بندی کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ سہولیات خاص طور پر چین، بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے بہت امیر خاندانوں کے لیے پرکشش ہیں۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ نجی بینکاری کی اپنی طویل روایت اور غیر جانبداری کی ساکھ پر انحصار کرتا ہے۔ سوئس نجی بینک بیرگوس کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر ٹل کرسٹیان بوڈیلمان کے مطابق، ''جو لوگ دبئی سے اپنے کچھ اثاثے منتقل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ تبدیلی اکثر ترقی اور تحفظ کے درمیان انتخاب‘‘ ہوتی ہے۔

بوڈیلمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''سنگاپور ایشیائی ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہترین ہے، لیکن سوئٹزرلینڈ اب بھی سرمائے کے تحفظ کے لیے دنیا کا سب سے اہم مرکز ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ ''جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے مراکز سے ایک ایسا فاصلہ فراہم کرتا ہے جو سنگاپور ہمیشہ یقینی نہیں بنا سکتا۔‘‘

دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ
جنگ سے قبل دبئی کے حکمران محمد بن راشد المکتوم نے ایسے منصوبے شروع کیے تھے جن کے تحت دبئی کے نئے ہوائی اڈے کو دنیا کا سب سے بڑا ہوابازی مرکز بنایا جائے گا اور 2033 تک معیشت کا حجم دوگنا کیا جائے گاتصویر: Dubai government/AP/picture alliance

امید ابھی قائم ہے

ریان لِن کے دبئی میں مقیم کلائنٹس میں سے تقریباً پانچواں حصہ وہیں رہنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس عدم استحکام کو عارضی سمجھتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔

تاہم بہت سے دیگر افراد کے لیے کہیں اور قدم جمانا اب ایک ضروری حفاظتی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔

ایران جنگ سے پہلے دبئی کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی۔ 2025 میں اس امارت نے پہلے نو مہینوں میں تقریباً 4.7 فیصد اقتصادی ترقی کی شرح ریکارڈ کی تھی۔

کنسلٹنسی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق گزشتہ سال ریکارڈ 9,800 کروڑ پتی افراد دبئی منتقل ہوئے تھے، جو اپنے ساتھ تقریباﹰ 63 بلین ڈالر کی نئی دولت بھی لائے تھے۔

یو اے ای کی یہ امارت ذاتی آمدنی پر صفر ٹیکس، وراثتی ٹیکس کی عدم موجودگی، اور تقریباً 100,000 ڈالر سے زائد منافع پر صرف 9 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ فری ٹریڈ زونز میں کام کرنے والی کمپنیاں اہل آمدنی پر بالکل کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔

مقبولیت کی مضبوط وجوہات

ایک معمولی صحرائی بستی سے لے کر آج تک دبئی نے گزشتہ 50 برسوں میں جدت اور انجینئرنگ کی حدود کو مسلسل آگے بڑھایا ہے۔

دبئی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے اور اعتماد جلد بحال ہو جاتا ہے، تو یہ شہر تیزی سے سنبھل سکتا ہے۔ وہ اس بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں کہ دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ اور دیگر بظاہر ناممکن منصوبوں کے مرکز کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہو گا، جو آج عالمی شناخت بن چکے ہیں۔

اگرچہ بہت سے انتہائی امیر سرمایہ کار اپنے خطرات کو متوازن بنا رہے ہیں، تاہم مکمل طور پر دبئی چھوڑنا ایک سنسنی خیز اور کاسموپولیٹن صحرائی زندگی کو چھوڑنے کے مترادف ہو گا۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔