1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمشرق وسطیٰ

رفح میں دہشت گردوں پر حملے میں تین ہلاک، اسرائیل

کشور مصطفیٰ اے ایف پی، ڈی پی اے کے ساتھ
30 جنوری 2026

اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز کہا کہ اس نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ’’آٹھ دہشت گردوں‘‘ پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ان میں سے تین مارے گئے۔ اس فلسطینی علاقے میں جنگ بندی بدستور ’’نازک‘‘ ہی قرار دی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/57kSE
غزہ پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد رفح پر اُٹھتا ہوا دھواں
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ علاقے میں مزید حملے بھی کیے گئے ہیں تصویر: Tamer Ibrahim/ZUMA/picture alliance

 جمعہ 30 جنوری کو جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ایسے  ''آٹھ عسکریت پسندوں‘‘ کی نشاندہی کی جو زیرِ زمین راستوں سے باہر نکلے تھے اور فضائیہ نے ہدف بنا کرکارروائی کی، جس کے نتیجے میں ''تین عسکریت پسند ہلاک  ہو گئے۔‘‘

تفصیلات فراہم کیے بغیر فوج نے بتایا کہ علاقے میں مزید حملے بھی کیے گئے ہیں اور ’’فوجی اہلکار علاقے کی تلاشی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ تمام عسکریت پسندوں کو تلاش کر کے کارروائی مکمل کی جا سکے۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز ''جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنی تعیناتی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی فوری خطرے کو ختم کرنے کے لیے سرگرم  ہیں۔‘‘

جنگ بندی کی صورتحال 

امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے تاہم تشدد کے   اکا دکا واقعات بدستور رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ دونوں فریق جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔  

جنوری کے شروع میں واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی اپنے دوسرے مرحلے تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام ہونے کا الزام بھی لگایا۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی افواج ''جنگ بندی معاہدے کے مطابق تعینات ہیں اور کسی بھی فوری خطرے کو دور کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گی۔‘‘

رم اللہ کے قریب کفر عقب کے محلے میں فوجی چھاپے کے دوران مسافر ، جن میں بچے بھی شامل ہیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس سے گزر رہے ہیں
امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی برقرار ہے تاہم تشدد کے اکا دکا واقعات بدستور رپورٹ کیے جا رہے ہیںتصویر: Zain Jaafar/AFP

حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ

اسرائیل نے اتوار کے روز کہا تھا کہ وہ رفح کراسنگ کو محدود طور پر دوبارہ کھولنے کی اجازت دے گا، جس میں صرف پیدل چلنے والوں کو گزرنے کی اجازت ہو گی۔ اسرائیل کی یہ پیشکش امدادی گروپوں اور غزہ کے باشندوں کی اُمیدوں سے کم ہے۔

کیا نیا سال غزہ پٹی کے باسیوں کے لیے خوشی کی کوئی خبر لائے گا؟

اقوام متحدہ کے مطابق اس علاقے میں 20 لاکھ سے زیادہ لوگ بدستور تشویشناک صورتحال میں زندگی بسر کر رہے ہیں، زیادہ تر آبادی بے گھر ہو گئی ہے اور بہت سے لوگ خیموں میں رہتے ہیں، جن میں سخت سردیوں کے موسم سے بچنے اور حفظان صحت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

رفح کو دوبارہ کھولنے سے غزہ کی نگرانی کے لیے جنگ بندی  کے ایک حصے کے طور پر تشکیل دی گئی 15 رکنی ٹیکنوکریٹک انتظامی کمیٹی کے غزہ میں  داخلے کی اجازت بھی متوقع ہے۔

یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حماس کو ایک دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں۔ اسی لیے جنگ بندی  کے دوسرے مرحلے کا ایک اہم نکتہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔ تاہم حماس ہتھیار ڈالنے کی شرط پر  شدید مزاحمت دکھا رہی ہے۔ حماس کے غیر مسلح ہونے کے بدلے، اسرائیل کو اپنی فوج کو غزہ سے مکمل طور پر واپس بلانا ہے ، جو غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر تعینات ہے جبکہ اس کی جگہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کر دی جائے گی۔

حماس کے جنگجو گھریلو ساختہ راکٹ لانچر کے ساتھ
بینجمن نیتن یاہو نے گزشتہ سال کے آخر میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ حماس کے پاس غزہ پٹی میں اب بھی 60,000 کے قریب کلاشنکوفیں موجود ہیںتصویر: UPI Photo/IMAGO

'حماس کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘

امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یقین ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس امن منصوبے کے تحت غیر مسلح ہو جائے گی۔ وٹکوف کے بقول، ''ہم نے دہشت گردوں کو وہاں سے نکال دیا ہے اور وہ غیر مسلح ہونے جا رہے ہیں۔ وہ ایسا کریں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی توقع ہے۔‘‘ وٹکوف نے امریکی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ حماس کو خاص طور پر AK-47 اسالٹ رائفلوں، جنہیں کلاشنکوف بھی کہا جاتا ہے، ترک کرنا ہو گا۔

امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ

ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا قیام شامل ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے سال کے آخر میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ حماس کے پاس غزہ پٹی میں اب بھی 60,000 کے قریب کلاشنکوفیں موجود ہیں۔

 

غزہ میں جنگ کے خاتمے کی دم توڑتی امیدیں

حماس غزہ پٹی کا کنٹرول چھوڑنے پر آمادہ ہے لیکن وہ  غیر مسلح ہونے سے سختی سے انکار کر رہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے حماس نے غزہ پٹی میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کے لیے کئی  اقدامات کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت حاصل تھی۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا ہدف اسرائیل اور حماس کےدرمیان جنگ کا  خاتمہ اور غزہ کی ساحلی پٹی کی تعمیر نو کرنا ہے ، جو دو سال کی جنگ میں بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے۔

 

ادارت: عاطف بلوچ/ شکور رحیم