1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتعالمی

روسی صدر نے جوہری تجربات کی تیاری کے لیے تجاویز طلب کر لیں

شکور رحیم اے پی، ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز
وقت اشاعت 5 نومبر 2025آخری اپ ڈیٹ 5 نومبر 2025

ولادیمیر پوٹن کی جانب سے یہ ہدایت اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری تجربات کی بحالی کے بیان کے بعد دی گئی ہے۔ روسی وزیر دفاع نے صدر پوٹن کو ’فوری طور اور مکمل پیمانے پر‘ جوہری تجربات کی تیاری کا مشورہ دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/537HU
 سوویت یونین نے 1990 میں آخری بار جوہری تجربہ کیا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے آج تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا
سوویت یونین نے 1990 میں آخری بار جوہری تجربہ کیا تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے آج تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا۔ تصویر: Russian Presidential Press Office/AP Photo
آپ کو یہ جاننا چاہیے سیکشن پر جائیں

آپ کو یہ جاننا چاہیے

  • جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں کے بعد فوج تعینات
  • روسی صدر نے جوہری تجربات کی تیاری کے لیے تجاویز طلب کر لیں
  • میکسیکو کی صدر سے چھیڑ چھاڑ اور زبردستی بوسہ لینے کی کوشش کرنے والا شخص گرفتار
  • جرمن نرس کو 10 مریضوں کے قتل پر عمر قید کی سزا
  • بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت کے دوران لوٹے گئے ہتھیار واپس کرنے پر نقد انعامات کا اعلان
  • غزہ میں مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل سے موصول، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
  • یورپی یونین 2040 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 90 فیصد کمی پر متفق
  • ایران میں قید دو فرانسیسی شہری ’اسلامی رحم دلی‘ کے تحت رہا
  • فلپائن میں سمندری طوفان کالمیگی کی تباہ کاریاں، 85 افراد ہلاک اور 75 لاپتہ
  • امریکا میں تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن 
  • وسطی سوڈان میں جنازے پر حملے میں 40 افراد ہلاک، اقوام متحدہ

 

ادارت: مقبول ملک، رابعہ بگٹی

جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں کے بعد فوج تعینات سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

جاپان میں ریچھوں کے بڑھتے حملوں کے بعد فوج تعینات

جاپانی وزارت ماحولیات کے مطابق اپریل سے اب تک ریچھوں کے ایسے حملوں میں 12 افراد مارے جا چکے ہیں
جاپانی وزارت ماحولیات کے مطابق اپریل سے اب تک ریچھوں کے ایسے حملوں میں 12 افراد مارے جا چکے ہیںتصویر: Sakura Murakami/REUTERS

جاپان نے شمالی صوبے اکیٹا کے پہاڑی علاقوں میں ریچھوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر قابو پانے کے لیے بدھ کے روز وہاں فوجی دستے تعینات کر دیے۔

 جاپانی وزارت ماحولیات کے مطابق اپریل سے اب تک ریچھوں کے ایسے حملوں میں 12 افراد مارے جا چکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بھورے اور سیاہ ریچھ سردیوں کی نیند (ہائبرنیشن) سے قبل خوراک کی تلاش میں اکثر رہائشی علاقوں، اسکولوں، ریلوے اسٹیشنوں، سپر مارکیٹوں اور حتیٰ کہ گرم پانی کے چشموں والی ریزورٹس تک پہنچ رہے ہیں۔

وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ فوجی ریچھوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے بلکہ وہ جال لگا کر انہیں پکڑنے، مقامی شکاریوں کی مدد اور مردہ ریچھوں کو ٹھکانے لگانے میں تعاون کریں گے
وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ فوجی ریچھوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے بلکہ وہ جال لگا کر انہیں پکڑنے، مقامی شکاریوں کی مدد اور مردہ ریچھوں کو ٹھکانے لگانے میں تعاون کریں گےتصویر: Hidenori Nagai/The Yomiuri Shimbun/AP Photo/picture alliance

حکام کے مطابق جاپان میں ریچھوں کی آبادی 54 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انسانوں کی مقامی آبادی کے تیزی سے بوڑھے ہوتے جانے اور شکاریوں کی کمی نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔

وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ فوجی ریچھوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے بلکہ وہ جال لگا کر انہیں پکڑنے، مقامی شکاریوں کی مدد اور مردہ ریچھوں کو ٹھکانے لگانے میں تعاون کریں گے۔ اکیٹا کے گورنر کینتا سوزوکی نے کہا کہ عملے کی کمی کے باعث مقامی حکام ’’انتہائی پریشان‘‘ ہیں۔ نائب کابینہ سیکرٹری فومیتوشی ساٹو کے مطابق، ’’روزانہ ریچھ رہائشی علاقوں میں گھس رہے ہیں، اس کا فوری حل نکالنا ضروری ہے۔‘‘

Japan Hida 2025 | Warnschild nach Bärenangriff auf spanischen Touristen
تصویر: VCG/IMAGO

اکیٹا میں مئی سے اب تک ریچھ 50 سے زائد افراد پر حملے کر چکے ہیں، جن میں سے کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ زیادہ تر واقعات رہائشی علاقوں میں پیش آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریچھوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے انہیں تلفی کے ذریعے محدود کرنا ناگزیر ہے۔ جاپانی حکومت نے ریچھوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کی ہے، جو نومبر کے وسط تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

حکام کے مطابق ریچھ خوراک کی تلاش میں اکثر رہائشی علاقوں، اسکولوں، ریلوے اسٹیشنوں، سپر مارکیٹوں اور حتیٰ کہ گرم پانی کے چشموں والی ریزورٹس تک پہنچ رہے ہیں
حکام کے مطابق ریچھ خوراک کی تلاش میں اکثر رہائشی علاقوں، اسکولوں، ریلوے اسٹیشنوں، سپر مارکیٹوں اور حتیٰ کہ گرم پانی کے چشموں والی ریزورٹس تک پہنچ رہے ہیںتصویر: Kyodo News/IMAGO


 

https://p.dw.com/p/539OA
روسی صدر نے جوہری تجربات کی تیاری کے لیے تجاویز طلب کر لیں سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

روسی صدر نے جوہری تجربات کی تیاری کے لیے تجاویز طلب کر لیں

صدرپوٹن نے گزشتہ ماہ ایک کروز اور ایک بین البراعظمی میزائل کے کامیاب تجربات کا اعلان کیا تھا
صدرپوٹن نے گزشتہ ماہ ایک کروز اور ایک بین البراعظمی میزائل کے کامیاب تجربات کا اعلان کیا تھاتصویر: RU-RTR Russian Television/AP Photo/picture alliance

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے  آج پانچ نومبر بروز بدھ اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ تجربات کے لیے تجاویز تیار کریں۔ ان کی جانب سے یہ ہدایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ دوبارہ جوہری تجربات شروع کرے گا۔
پوٹن نے کہا کہ روس نے ہمیشہ  جوہری تجربات پر پابندی کے جامع  معاہدے (CTBT) کی مکمل پاسداری کی ہے، تاہم اگر امریکہ یا کوئی اور جوہری طاقت کوئی نیا جوہری تجربہ کرتی ہے تو روس بھی ایسا ہی کرے گا۔
روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے صدر پوٹن کو بتایا کہ امریکہ کے حالیہ بیانات اور اقدامات کے پیش نظر ’’فوری طور اور مکمل پیمانے پر جوہری تجربات کی تیاری‘‘ مناسب ہو گی۔
بیلوسوف کے مطابق روس کی آرکٹک ٹیسٹنگ سائٹ نَوایا زِملیا ایسے تجربات مختصر نوٹس پر کر سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ ماہ جوہری تجربات کی بحالی کا اعلان کیا تھا
صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ ماہ جوہری تجربات کی بحالی کا اعلان کیا تھا تصویر: Kevin Lamarque/REUTERS


صدر پوٹن نے کہا، ’’میں وزارت خارجہ، وزارت دفاع، خفیہ اداروں اور متعلقہ سول ایجنسیوں کو ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر مزید معلومات جمع کریں، انہیں روسی سلامتی کونسل میں تجزیے کے لیے پیش کریں اور جوہری تجربات کی تیاری کے ممکنہ آغاز پر مشترکہ تجاویز دیں۔‘‘
امریکہ نے آخری بار 1992 میں جوہری تجربہ کیا تھا، چین اور فرانس نے 1996 میں، جب کہ سوویت یونین نے 1990 میں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس نے آج تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا۔
 

https://p.dw.com/p/539M5
میکسیکو کی صدر سے چھیڑ چھاڑ اور زبردستی بوسہ لینے کی کوشش کرنے والا شخص گرفتار سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

میکسیکو کی صدر سے چھیڑ چھاڑ اور زبردستی بوسہ لینے کی کوشش کرنے والا شخص گرفتار

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤمتصویر: Luis Barron/ZUMA/IMAGO

 

میکسیکو سٹی میں ایک شخص کو صدر کلاؤڈیا شین باؤم سے چھیڑ چھاڑ اور زبردستی ان کا بوسہ لینے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔

یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب شین باؤم صدارتی محل کے قریب ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں اور راستے میں اپنے حامیوں سے مصافحہ کر رہی اور تصاویر بھی بنوا رہی تھیں۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ایک شخص ان کے قریب آیا، ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اور دوسرے ہاتھ سے ان کے جسم کو چھوتے ہوئے اس نے خاتون صدر کی گردن کا بوسہ لینے کی کوشش بھی کی۔

صدارتی سکیورٹی کے ایک اہلکار نے فوری طور پر اس شخص کو ہٹا دیا، جو بظاہر نشے کی حالت میں تھا۔ اس کے باوجود شین باؤم نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ تصویر بنوائی اور کندھے پر ہاتھ رکھا۔

 یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب شین باؤم صدارتی محل کے قریب ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں (فائل فوٹو)
یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب شین باؤم صدارتی محل کے قریب ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں (فائل فوٹو)تصویر: Aurea Del Rosario/AP Photo/picture alliance

بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ اس شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

خواتین کے امور کی ملکی وزیر سیتلالی ہرنانڈیز نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ ’’مردانہ برتری‘‘ کی علامت ہے جو خواتین کے جسمانی احترام کی پامالی کو معمول بنا لیتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق میکسیکو میں 15 سال سے زائد عمر کی تقریباً 70 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موقع پر جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔
 

https://p.dw.com/p/5397S
جرمن نرس کو 10 مریضوں کے قتل پر عمر قید کی سزا سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

جرمن نرس کو 10 مریضوں کے قتل پر عمر قید کی سزا

استغاثہ کے مطابق اس مرد نرس نے رات کی شفٹوں میں کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے زیادہ تر عمر رسیدہ مریضوں کو نشہ آور ادویات یا درد کم کرنے والی دواؤں کے خطرناک ٹیکے لگائے
استغاثہ کے مطابق اس مرد نرس نے رات کی شفٹوں میں کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے زیادہ تر عمر رسیدہ مریضوں کو نشہ آور ادویات یا درد کم کرنے والی دواؤں کے خطرناک ٹیکے لگائےتصویر: Anna Tolipova/AnnaStills/picture alliance

جرمنی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ایک نرس کو 10 مریضوں کے قتل اور 27 دیگر کو جان سے مارنے کی کوشش پر عمر قید کی سزا سنائی۔ مغربی شہر آخن کی عدالت نے 44 سالہ ملزم کو دسمبر 2023 سے مئی 2024 کے دوران آخن کے قریب ویؤرزیلین کے ایک ہسپتال میں کیے گئے جرائم کا مجرم قرار دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس کے جرائم ’’غیر معمولی سنگینی‘‘ کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے اسے 15 سال بعد رہائی کا حق نہیں ملے گا۔

استغاثہ کے مطابق اس مرد نرس نے رات کی شفٹوں میں کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے زیادہ تر عمر رسیدہ مریضوں کو نشہ آور ادویات یا درد کم کرنے والی دواؤں کے خطرناک ٹیکے لگائے۔ اس پر ’’زندگی اور موت کا مالک بننے‘‘ کا شوق رکھنے کا الزام تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس نرس نے مارفین اور میڈازولام جیسی دوائیں استعمال کیں، جو امریکا میں سزائے موت دینے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ اس نے اپنے عمل پر کوئی ندامت ظاہر نہیں کی۔

اس مرد نرسنگ ورکر  نے 2007 میں اپنی تربیت مکمل کی تھی اور مختلف ہسپتالوں میں کام کیا تھا، جبکہ 2020 سے وہ ویؤرزیلین ہسپتال میں ملازم تھا۔ اسے 2024 کی گرمیوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔

استغاثہ نے بتایا کہ مزید ممکنہ متاثرین کی شناخت کے لیے قبریں کھودی گئی ہیں اور ملزم کے خلاف ایک اور مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2019 میں 85 مریضوں کو قتل کرنے والے نرسنگ سٹاف ممبر  نیلز ہیؤگل کے کیس کی یاد دلاتا ہے، جسے جدید جرمنی کا بدترین سلسلہ وار قاتل قرار دیا گیا تھا۔
 

https://p.dw.com/p/538Ma
بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت کے دوران لوٹے گئے ہتھیار واپس کرنے پر نقد انعامات کا اعلان سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

بنگلہ دیش میں عوامی بغاوت کے دوران لوٹے گئے ہتھیار واپس کرنے پر نقد انعامات کا اعلان

پولیس کے مطابق اگست 2024 کی خونریز بغاوت کے دوران تقریباً چھ ہزار ہتھیار پولیس کے اسلحہ خانوں سے چوری کیے گئے تھے
پولیس کے مطابق اگست 2024 کی خونریز بغاوت کے دوران تقریباً چھ ہزار ہتھیار پولیس کے اسلحہ خانوں سے چوری کیے گئے تھےتصویر: Mohammad Ponir Hossain/REUTERS

بنگلہ دیش نے بدھ کے روز ایک سال قبل ہونے والی بغاوت کے دوران لوٹے گئے ہتھیار واپس لینے کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا ہے، تاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل سینکڑوں بندوقیں اور مشین گنیں جمع کرائی جا سکیں۔

پولیس کے مطابق اگست 2024 کی خونریز بغاوت کے دوران تقریباً چھ ہزار ہتھیار پولیس کے اسلحہ خانوں سے چوری کیے گئے تھے، جن میں سے ابھی تک 1300 سے زائد لاپتہ ہیں۔

پولیس ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مشین گن واپس کرنے پر 4 ہزار ڈالر، رائفل کی واپسی پر 800 ڈالر اور شاٹ گن یا پستول کی واپسی پر 400 ڈالر انعام دیا جائے گا، جب کہ گولہ بارود کی واپسی پر بھی نقد ادائیگی کی جائے گی۔

شیخ حسینہ کی حکومت الٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر مظاہروں میں تشدد اور لوٹ کھسوٹ کے واقعات رونما ہوئے تھے
شیخ حسینہ کی حکومت الٹانے کے لیے بڑے پیمانے پر مظاہروں میں تشدد اور لوٹ کھسوٹ کے واقعات رونما ہوئے تھےتصویر: AFP

انہوں نے کہا، ’’بنگلہ دیش پولیس مکمل رازداری کی ضمانت دیتی ہے۔‘‘ انہوں نے  عوام سے اپیل کی کہ وہ یہ ہتھیار واپس کریں۔ ملک میں گزشتہ سال شیخ حسینہ کی سخت گیر حکومت کے خاتمے کے بعد سے سیاسی عدم استحکام جاری ہے، جب کہ فروری 2026 کے انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں میں اقتدار کی کشمکش بھی بڑھ گئی ہے۔

انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’’اودھیکار‘‘ کے مطابق بغاوت کے بعد سے سیاسی تشدد میں تقریباً 300 افراد مارے گئے، جب کہ ہجوم کے حملوں میں 150 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

ادھر تفتیش کار اب بھی 18 اکتوبر کو ڈھاکا ایئر پورٹ کے کارگو کمپلیکس میں لگنے والی آتشزدگی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ بمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی ایک سینئر عہدیدار بشریٰ اسلام نے بتایا کہ ٹیم کو ایک ٹوٹی ہوئی تجوری ملی ہے، جو اسلحہ اور قیمتی سامان جیسے سونا اور ہیروں کی ذخیرہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

اسلام نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں،  ’’کتنے ہتھیار غائب ہوئے ہیں، اگر ہوئے بھی ہیں تو۔‘‘
ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ آگ لگنے کے چند دن بعد تجوری کو کھلا ہوا پایا گیا۔ حکومت نے آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے غیر ملکی ماہرین کی مدد حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

بنگلہ دیش میں طلبہ کے مظاہروں کا خونریز ترین دن

https://p.dw.com/p/538e7
غزہ میں مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل سے موصول، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

غزہ میں مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں اسرائیل سے موصول، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار

Palästinensische Gebiete Khan Younis 2025 | Internationales Rotes Kreuz transportiert Leichen von Palästinensern
غزہ کے سب سے بڑے فعال ہسپتال کے حکام کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر دیں تصویر: Mohammed Salama/APA Images/IMAGO

غزہ پٹی کے سب سے بڑے فعال ہسپتال کے حکام کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر دیں، جو گزشتہ ماہ ہونے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے تحت تبادلے کے عمل کا حصہ ہیں۔

ریڈ کراس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 285 لاشیں اسرائیلی تحویل سے غزہ منتقل کی جا چکی ہیں۔ تاہم غزہ پٹی میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کے باعث شناخت کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

اسرائیل نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے پاس کتنی لاشیں موجود ہیں یا انہیں کہاں سے حاصل کیا گیا، البتہ ہر اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی جا رہی ہیں۔

بدھ کو خان یونس کے ناصر ہسپتال میں یہ لاشیں موصول ہوئیں۔ اس سے ایک روز قبل حماس نے ایک اور اسرائیلی فوجی کی لاش واپس کی تھی، جسے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنایا گیا تھا۔

ریڈ کراس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 285 لاشیں اسرائیلی تحویل سے غزہ منتقل کی جا چکی ہیں
ریڈ کراس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 285 لاشیں اسرائیلی تحویل سے غزہ منتقل کی جا چکی ہیںتصویر: Abed Rahim Khatib/Anadolu Agency/IMAGO

یہ تبادلے امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے ابتدائی مرحلے کا مرکزی حصہ ہیں، جس کے تحت حماس کے لیے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں جلد از جلد واپس کرنا لازمی ہے۔

اس کے باوجود فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ بعض اوقات حماس نے جزوی باقیات واپس کیں یا لاشوں کی برآمدگی کے مناظر کو ’’ڈرامائی‘‘ انداز میں پیش کیا۔

دوسری جانب حماس کا موقف ہے کہ غزہ پٹی میں وسیع تر تباہی کے باعث لاشوں کی بازیابی مشکل ہے، اور اس نے ایک سے تین تک لاشیں ہر چند دن بعد واپس کی ہیں۔ حماس کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی شہریوں پر فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی ڈال رہا ہے۔

   ایک روز قبل حماس نے ایک اور اسرائیلی فوجی کی لاش واپس کی تھی، جسے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنایا گیا تھا
  ایک روز قبل حماس نے ایک اور اسرائیلی فوجی کی لاش واپس کی تھی، جسے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں یرغمال بنایا گیا تھاتصویر: Menahem Kahana/AFP/Getty Images
https://p.dw.com/p/537sm
یورپی یونین 2040 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 90 فیصد کمی پر متفق سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

یورپی یونین 2040 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 90 فیصد کمی پر متفق

Belgien Brüssel 2025 | EU-Flaggen vor dem Hauptquartier der Europäischen Union
تصویر: Virginia Mayo/AP Photo/picture alliance

یورپی یونین کے رکن ممالک نے 1990 کی سطح کے مقابلے میں 2040 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کم از کم 90 فیصد کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس بات کا اعلان ڈنمارک کے وزیر ماحولیات لارس آگارڈ نے  بدھ کے روز کیا۔

اس منصوبے کے تحت یورپی یونین کے باہر ماحولیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری، جیسے فضا میں کاربن کا اخراج کم کرنے کے اقدامات کو ’’کاربن کریڈٹس‘‘ کی شکل میں یونین میں داخلی کمی کے طور پر شمار کیا جا سکے گا۔

یہ ہدف وقتاً فوقتاً نظر ثانی کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ڈنمارک کے وزیر ماحولیات لارس آگارڈ (دائیں جانب)
ڈنمارک کے وزیر ماحولیات لارس آگارڈ (دائیں جانب)تصویر: Bo Amstrup/Ritzau Scanpix/picture alliance

یہ معاہدہ اس وقت ممکن ہوا، جب کئی یورپی ممالک معاشی خدشات اور جغرافیائی تبدیلیوں کے باعث نئے ماحولیاتی اہداف پر اختلاف کر رہے تھے۔ فیصلے کی منظوری کے لیے 27 میں سے کم از کم 15 ممالک اور یورپی یونین کی 65 فیصد آبادی کی نمائندگی درکار تھی۔

یہ قانون آئندہ چند ماہ میں یورپی پارلیمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے بعد حتمی شکل اختیار کر لے گا۔ ماحولیاتی ہدف پر اتفاق رائے نے برازیل میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کاپ تھرٹی سے قبل پیرس معاہدے کے تحت 2040 کے لیے نئے عالمی اہداف طے کرنے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔
 

https://p.dw.com/p/537WC
ایران میں قید دو فرانسیسی شہری ’اسلامی رحم دلی‘ کے تحت رہا سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

ایران میں قید دو فرانسیسی شہری ’اسلامی رحم دلی‘ کے تحت رہا

 سیسیل کوہلر اور ان کے ساتھی ژاک پاریس تین سال سے زائد عرصے سے ایران میں قید تھے اور انہیں جاسوسی کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی
سیسیل کوہلر اور ان کے ساتھی ژاک پاریس تین سال سے زائد عرصے سے ایران میں قید تھے اور انہیں جاسوسی کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھیتصویر: Abdul Saboor/REUTERS

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج بروز بدھ سرکاری میڈیا کو بتایا کہ  ایران نے دو فرانسیسی شہریوں کو ’’اسلامی رحم دلی‘‘ کے تحت رہا کر دیا ہے، تاہم وہ تاحال ایران میں ہی موجود ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران نے سیسیل کوہلر اور ان کے ساتھی ژاک پاریس کو رہا کر دیا ہے، جو تین سال سے زائد عرصے سے ایران میں قید تھے اور انہیں جاسوسی کے الزامات میں سزا سنائی گئی تھی۔

عراقچی کے مطابق یہ دونوں اس وقت تہران میں فرانسیسی سفارت خانے میں موجود ہیں، جبکہ ایک ایرانی خاتون، جسے رواں سال کے اوائل میں پیرس نے رہا کیا تھا، فرانس میں ایرانی سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔


فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران نے سیسیل کوہلر اور ان کے ساتھی ژاک پاریس کو رہا کر دیا ہے
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایران نے سیسیل کوہلر اور ان کے ساتھی ژاک پاریس کو رہا کر دیا ہےتصویر: Yves Herman/REUTERS
https://p.dw.com/p/537Uz
فلپائن میں سمندری طوفان کالمیگی کی تباہ کاریاں، 85 افراد ہلاک اور 75 لاپتہ سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

فلپائن میں سمندری طوفان کالمیگی کی تباہ کاریاں، 85 افراد ہلاک اور 75 لاپتہ

 فلپائن کے وسطی علاقوں میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘ نے کم از کم 66 افراد کی جان لے لی اور 26 لاپتہ ہیں
 فلپائن کے وسطی علاقوں میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘ نے کم از کم 66 افراد کی جان لے لی اور 26 لاپتہ ہیںتصویر: Jam Sta Rosa/AFP

 

 فلپائن کے وسطی علاقوں میں سمندری طوفان ’’کالمیگی‘‘ نے کم از کم 85 افراد کی جان لے لی اور 75 دیگر لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں شدید سیلاب کے باعث ہوئیں جن میں درجنوں لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں۔

مرنے والوں میں فلپائن کی ایئر فورس کے چھ اہلکار بھی شامل ہیں، جن کا ہیلی کاپٹر جنوبی صوبے اگوسان دیل سور میں گر کر تباہ ہو گیا۔ فوج کے مطابق یہ عملہ طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے جا رہا تھا۔

حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں شدید سیلاب کے باعث ہوئیں
حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں شدید سیلاب کے باعث ہوئیںتصویر: Eloisa Lopez/REUTERS

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کالمیگی بدھ کی دوپہر سے پہلے پالاوان صوبے کے مغرب سے بحیرہ جنوبی چین کی جانب بڑھ گیا، جہاں ہواؤں کی رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جھکڑوں کی رفتار 180 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

حکام کے مطابق سب سے زیادہ تباہی وسطی صوبے سیبو میں ہوئی، جہاں طوفان نے منگل کو شدید بارشوں اور طغیانی کے باعث دریا اور ندی نالوں کو لبریز کر دیا۔ پانی کے تیز بہاؤ نے رہائشی علاقے ڈبو دیے، اور سینکڑوں افراد چھتوں پر چڑھ کر مدد کے لیے پکارنے لگے۔ فلپائن ریڈ کراس نے بتایا کہ سیبو کے متاثرہ علاقوں سے درجنوں امدادی کالیں موصول ہوئیں، جن میں لوگوں نے گھروں کی چھتوں سے ریسکیو کیے جانے کی درخواست کی۔

لپائن ریڈ کراس نے بتایا کہ سیبو کے متاثرہ علاقوں سے درجنوں امدادی کالیں موصول ہوئیں
لپائن ریڈ کراس نے بتایا کہ سیبو کے متاثرہ علاقوں سے درجنوں امدادی کالیں موصول ہوئیںتصویر: Jacqueline Hernandez/AP Photo/dpa/picture alliance
https://p.dw.com/p/537Sg
امریکا میں تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

امریکا میں تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن

 امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن بدھ کو 36ویں دن میں داخل ہو کر ملک کی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن گیا ہے
امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن بدھ کو 36ویں دن میں داخل ہو کر ملک کی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن گیا ہے تصویر: Celal Gunes/Anadolu/picture alliance

 

امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن بدھ کو 36ویں دن میں داخل ہو کر ملک کی تاریخ کا طویل ترینشٹ ڈاؤن بن گیا ہے، کیونکہ کانگریس تاحال وفاقی بجٹ منظور کرنے میں ناکام ہے۔

اس سے قبل سب سے طویل شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں 2018 سے 2019  کے دوران ہوا تھا، جو پانچ ہفتے سے زیادہ جاری رہا تھا۔

وفاقی اخراجات رک جانے سے متعدد سرکاری ادارے مفلوج ہو چکے ہیں اور صرف وہی محکمے فعال ہیں جنہیں ’’اہم‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ ہزاروں سرکاری ملازمین کو اکتوبر سے تنخواہیں نہیں ملیں، ایئر پورٹوں پر طویل قطاریں لگ رہی ہیں اور غذائی امداد کے منتظر شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل سب سے طویل شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں 2018 سے 2019  کے دوران ہوا تھا، جو پانچ ہفتے سے زیادہ جاری رہا تھا
اس سے قبل سب سے طویل شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں 2018 سے 2019  کے دوران ہوا تھا، جو پانچ ہفتے سے زیادہ جاری رہا تھاتصویر: Allison Robbert/CNP/picture alliance

شٹ ڈاؤن کی مدت کا انحصار اس بات پر ہے کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنما کب تک وفاقی بجٹ پر اتفاق کر پاتے ہیں۔ امریکی سینیٹ بدھ کو مزید ووٹنگ کرے گی، جب کہ ایوان نمائندگان کا اجلاس اس ہفتے کے لیے طے شدہ نہ ہونے کے باوجود ہنگامی طور پر بلایا جا سکتا ہے۔

کانگریس کو نیا وفاقی بجٹ ستمبر کے آخر تک منظور کرنا تھا لیکن ریپبلکن پارٹی کی عبوری بجٹ تجاویز اکثریت حاصل نہ کر سکیں، جبکہ اس سے قبل ڈیموکریٹس کی پیشکش بھی مسترد کر دی گئی تھی۔
 

https://p.dw.com/p/537Rm
وسطی سوڈان میں جنازے پر حملے میں 40 افراد ہلاک، اقوام متحدہ سیکشن پر جائیں
5 نومبر 2025

وسطی سوڈان میں جنازے پر حملے میں 40 افراد ہلاک، اقوام متحدہ

سوڈان اپریل 2023 میں جاری خانہ جنگی میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں
سوڈان اپریل 2023 میں جاری خانہ جنگی میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیںتصویر: AFP/Getty Images

اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین افیئرز کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کا کہنا  ہے کہ سوڈان کے وسطی علاقے کردفان کے اہم شہر الابیض میں ایک جنازے پر حملے میں 40 افراد ہلاک ہو گئے۔

اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ حملہ کب ہوا یا اس کے پیچھے کون تھا، تاہم حالیہ دنوں میں نیم فوجی دستے (آر ایس ایف) کے اس شہر پر حملے کی تیاریاں جاری تھیں جبکہ فوجی دستے دفاع کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ او سی ایچ اے نے کہا کہ کردفان خطے میں سلامتی کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ خیال رہے کہ کردفان کے بعض علاقوں میں قحط کی صورتحال ہے۔
دنیا میں بھوک کے مسئلے کی نگرانی کرنے والے مانیٹرنگ گروپ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن ( آئی پی سی) نے دو روز قبل جنگ زدہ سوڈان کے دو علاقوں میں قحط کی حالت پیدا ہونے کے حوالے سے متنبہ کیا تھا، جن میں دارفور کا اہم شہرالفاشر اور جنوبی کردفان کا کدوگلی سٹی شامل ہیں، جبکہ دارفور اور کردفان کے مزید 20 علاقے قحط کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔

سوڈان اپریل 2023ء سے ملکی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان اقتدار کی لڑائی کی وجہ سے تقسیم ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس خانہ جنگی میں اب تک 40  ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم امدادی گروپوں کے مطابق اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

الفاشر پر آر ایس ایف کا قبضہ، سوڈان دو حصوں میں تقسیم

https://p.dw.com/p/537O7
مزید پوسٹیں