سابق ترک صدر سلیمان دیمیرل انتقال کر گئے
17 جون 2015
خبر رساں ادارے اے پی کی انقرہ سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سلیمان دیمیرل آج بدھ سترہ جون کو علی الصبح دو بج کر پانچ منٹ پر جوفن ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق سانس کی انفیکشن میں مبتلا دیمیرل کی موت حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے ہوئی۔
دیمیرل سن 1993 تا 2000ء صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ ان کے چالیس سالہ سیاسی کیریئر کا عروج تھا۔ قبل ازیں وہ سات مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بھی منتخب ہوئے تھے۔ دو مرتبہ ان کی حکومت کو فوجی بغاوت کی وجہ سے تحلیل بھی کیا گیا۔ دیمیرل 1964ء تا 1990ء جسٹس پارٹی کے سربراہ رہے تھے۔
سن 1980ء میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں متعدد ترک سیاستدانوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور دیمیرل انہی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ 1987ء میں جب یہ پابندی ختم ہوئی تو دیمیرل ایک مرتبہ پھر سیاسی میدان میں آ گئے۔ دیمیرل کے مطابق 1960ء تا 1970ء کے دوران ان کا دور اقتدار ترکی کی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی دوران دیمیرل کی پالیسیوں نے ایک زرعی ملک تصور کیے جانے والے ترکی کو صنعتی ترقی بخشی اور ملکی اقتصای ڈھانچے میں واضح تبدیلی رونما ہوئی۔
اگرچہ اس عشرے کے دوران ترک آبادی کے ایک مخصوص طبقے کا معیار زندگی ہی بلند ہوا لیکن ناقدین کے مطابق دیمیرل کی حکومت ایک ایسے کلچر کی علامت بنی، جہاں اقرباء پروری کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ اس کی ایک مثال وہ بدنام زمانہ ’فیملی فوٹوگراف‘ بھی ہے، جس میں دیمیرل اپنے ایسے رشتہ داروں، عزیزوں اور بزنس پارٹنرز کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، جن میں سے متعدد کو بعد ازاں بدعنوانی کے الزامات کے تحت سزائیں کاٹنا پڑیں۔
دیمیرل کا سیاسی سفر
ترکی میں 1960ء کی فوجی بغاوت کے بعد دیمیرل نے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ یہ وہ دور تھا جب فوج نے عدنان میندریس کی حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں انہیں اور ان کی کابینہ میں شامل دو وزراء کو ایک عدالت نے ملکی آئین کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہو جانے پر پھانسی کی سزا سنا دی تھی۔ اس پیشرفت کے بعد ایک سیاسی خلاء پیدا ہو گیا اور اُس دور میں غیر مقبول دیمیرل نے اپنی پارٹی کی بنیاد رکھتے ہوئے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر دیمیرل نے 1965ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
سن1971ء میں مختلف سیاسی دھڑوں کے مابین پائے جانے والے تنازعات کے پرتشدد ہو جانے کے بعد ملک کی طاقتور فوج نے دیمیرل کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔ تاہم فوج کی حمایت یافتہ ٹیکنوکریٹ حکومت بھی اس صورتحال کو نہ سنبھال سکی۔ 1975ء میں دیمیرل کو ایک مرتبہ پھر موقع ملا کہ وہ حکومت بنائیں لیکن اس مرتبہ اسلام پسندوں اور قوم پرستوں کے اتحاد سے بنائی گئی حکومت ترکی میں پائے جانے والے انتشار پر قابو نہ پا سکی۔
یہ صورتحال جاری رہی اور 1980ء میں فوج نے ایک مرتبہ پھر حکومت کا تختہ الٹ دیا اور دیمیرل سمیت متعدد سیاستدانوں پر پابندی عائد کر دی۔ ایک ریفرنڈم کے تحت 1987ء میں یہ پابندی ختم ہوئی تو دیمیرل ایک مرتبہ بھی فعال ہو گئے۔ وہ 1991ء میں ساتویں مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے اور بعد ازاں 1993ء میں صدر ترگت اوزال کی وفات کے بعد صدر بن گئے۔ سلیمان دیمیرل کی اہلیہ نظمیہ دیمیرل کا انتقال مئی 2013ء میں ہوا تھا جبکہ ان دونوں کی کوئی اولاد نہیں ہے۔