سری لنکا میں چار لٹر پٹرول ’ذخیرہ‘ کرنے پر شہری کو سزائے قید
27 مارچ 2026
اس جنوبی ایشیائی جزیرہ ریاست کے دارالحکومت کولمبو سے جمعہ 27 مارچ کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق مقامی میڈیا نے بتایا کہ جس 48 سالہ شہری کو ایک مجسٹریٹ نے تین ہفتے قید کی سزا سنائی، اس نے کہا تھا کہ وہ یہ پٹرول اپنے گھر میں گھاس کاٹنے والی مشین کے لیے خریدنا چاہتا تھا۔
ایران کے خلاف جنگ: تیل مہنگا، قابل تجدید توانائی محفوظ حل
ملکی اخبار 'لنکادیپا‘ نے لکھا کہ اس شہری کو سزائے قید کا حکم کولمبو سے 125 کلومیٹر (78 میل) شمال مشرق میں نیکاویراتیا نامی شہر میں سنائی گئی اور ساتھ ہی اسے 1,500 روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔
پٹرول کی 'ذخیرہ اندوزی‘ کا الزام
پہلے ہی سے خراب اقتصادی حالات والے ملک سری لنکا کو بھی اس وقت ایران جنگ کی وجہ سے اپنے ہاں ایندھن کے بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور وہاں گاڑیوں کے ڈرائیور اب صرف ہر دوسرے دن ہی پٹرول خرید سکتے ہیں۔
سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے سے انکار
ایسے میں جس شہری کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں، اس پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے یہ چار لٹر پٹرول اس لیے خریدا تھا کہ بعد میں ایندھن کی قلت شدید تر ہو جانے کے بعد، جب حکومت 'فیول راشننگ‘ شروع کرتی، تو وہ یہ پٹرول بلیک مارکیٹ میں بہت مہنگا بیش سکے۔
ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب
امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو چکی ہے، جس کا بڑا سبب آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ عالمی منڈیوں کو تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔
ایندھن کی دستیابی کی صورت حال
ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے سری لنکا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک تہائی کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس پر ملکی معیشت کی پہلے ہی سے خراب صورت حال اور افراط زر کی اونچی شرح کے باعث عام شہری بہت پریشان ہیں۔
ایران کے خلاف جنگ کے پاکستان کی معیشت اور دفاع پر اثرات
جہاں تک ملک میں دستیاب ایندھن کے ذخائر کا تعلق ہے، تو حکام کے مطابق تاحال موجود ڈیزل مئی کے وسط تک کی قومی ضروریات کے لیے کافی ہو گا لیکن پٹرول کے موجودہ ذخائر صرف ایک ہفتے میں ہی ختم ہو جائیں گے۔
عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں؟
اسی دوران ملکی صدر ڈسانائیکے کے دفتر نے کہا کہ سربراہ مملکت نے سری لنکا کے دورے پر آئے ہوئے روسی نائب وزیر توانائی رومان مارشاوین کے ساتھ ملاقات میں تیل کی نئی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کی۔
صدارتی دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق روسی نائب وزیر توانائی نے صدر ڈسانائیکے کو بتایا، ''روس مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا شدہ اور سری لنکا کو درپیش توانائی سے متعلق کسی بھی چیلنج سے نمٹنے میں کولمبو کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
ادارت: شکور رحیم