1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتسری لنکا

سری لنکا میں چار لٹر پٹرول ’ذخیرہ‘ کرنے پر شہری کو سزائے قید

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
27 مارچ 2026

سری لنکا میں پٹرول کی قلت کے دور میں ایک شہری کو چار لٹر پٹرول ’ذخیرہ‘ کرنے کے جرم میں تین ہفتے قید کی سزا سنا دی گئی۔ دنیا کے بہت سے دیگر ممالک کی طرح سری لنکا کو بھی ایران جنگ کی وجہ سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/5BGRA
سری لنکا میں پٹرول کی قلت کے باعث ایک پمپ کے سامنے پٹرول خریدنے کے لیے قطار میں منتظر اور اپنے اپنے آٹو رکشے کھینچتے ہوئے ڈرائیور
سری لنکا میں پٹرول کی قلت کے باعث ایک پمپ کے سامنے پٹرول خریدنے کے لیے قطار میں منتظر اور اپنے اپنے آٹو رکشے کھینچتے ہوئے ڈرائیورتصویر: Eranga Jayawardena/AP Photo/picture alliance

اس جنوبی ایشیائی جزیرہ ریاست کے دارالحکومت کولمبو سے جمعہ 27 مارچ کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق مقامی میڈیا نے بتایا کہ جس 48 سالہ شہری کو ایک مجسٹریٹ نے تین ہفتے قید کی سزا سنائی، اس نے کہا تھا کہ وہ یہ پٹرول اپنے گھر میں گھاس کاٹنے والی مشین کے لیے خریدنا چاہتا تھا۔

ایران کے خلاف جنگ: تیل مہنگا، قابل تجدید توانائی محفوظ حل

ملکی اخبار 'لنکادیپا‘ نے لکھا کہ اس شہری کو سزائے قید کا حکم کولمبو سے 125 کلومیٹر (78 میل) شمال مشرق میں نیکاویراتیا نامی شہر میں سنائی گئی اور ساتھ ہی اسے 1,500 روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔

پٹرول کی 'ذخیرہ اندوزی‘ کا الزام

پہلے ہی سے خراب اقتصادی حالات والے ملک سری لنکا کو بھی اس وقت ایران جنگ کی وجہ سے اپنے ہاں ایندھن کے بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں اور وہاں گاڑیوں کے ڈرائیور اب صرف ہر دوسرے دن ہی پٹرول خرید سکتے ہیں۔

کولمبو میں پٹرول خریدنے کے لیے لگی ہوئی گاڑیوں کی ایک طویل قطار
کولمبو میں پٹرول خریدنے کے لیے لگی ہوئی گاڑیوں کی ایک طویل قطارتصویر: Pradeep Dambarage/NurPhoto/picture alliance

سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے سے انکار

ایسے میں جس شہری کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں، اس پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ اس نے یہ چار لٹر پٹرول اس لیے خریدا تھا کہ بعد میں ایندھن کی قلت شدید تر ہو جانے کے بعد، جب حکومت 'فیول راشننگ‘ شروع کرتی، تو وہ یہ پٹرول بلیک مارکیٹ میں بہت مہنگا بیش سکے۔

ایران جنگ: عالمی معیشت کے لیے ایک اور تاریک باب

امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو چکی ہے، جس کا بڑا سبب آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ عالمی منڈیوں کو تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔

ایندھن کی دستیابی کی صورت حال

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے سری لنکا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک تہائی کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس پر ملکی معیشت کی پہلے ہی سے خراب صورت حال اور افراط زر کی اونچی شرح کے باعث عام شہری بہت پریشان ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ کے پاکستان کی معیشت اور دفاع پر اثرات

کولمبو میں ایک پٹرول پمپ کے سامنے پارک کی گئی بہت سی موٹر سائیکلیں، سری لنکا کو 2022ء میں بھی ایندھن کی شدید قلت اور بڑے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا
کولمبو میں ایک پٹرول پمپ کے سامنے پارک کی گئی بہت سی موٹر سائیکلیں، سری لنکا کو 2022ء میں بھی ایندھن کی شدید قلت اور بڑے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھاتصویر: Dinuka Liyanawatte/REUTERS

جہاں تک ملک میں دستیاب ایندھن کے ذخائر کا تعلق ہے، تو حکام کے مطابق تاحال موجود ڈیزل مئی کے وسط تک کی قومی ضروریات کے لیے کافی ہو گا لیکن پٹرول کے موجودہ ذخائر صرف ایک ہفتے میں ہی ختم ہو جائیں گے۔

عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں؟

اسی دوران ملکی صدر ڈسانائیکے کے دفتر نے کہا کہ سربراہ مملکت نے سری لنکا کے دورے پر آئے ہوئے روسی نائب وزیر توانائی رومان مارشاوین کے ساتھ ملاقات میں تیل کی نئی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کی۔

صدارتی دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق روسی نائب وزیر توانائی نے صدر ڈسانائیکے کو بتایا، ''روس مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا شدہ اور سری لنکا کو درپیش توانائی سے متعلق کسی بھی چیلنج سے نمٹنے میں کولمبو کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔