سولہ بھارتی سیلرز ایک ماہ سے زائد عرصے سے ایران کی تحویل میں
16 جنوری 2026
نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ بھارتی حکام ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ حکومت ایران میں پھنسے بھارتی شہریوں کی واپسی کے انتظامات کر رہی ہے اور جلد انخلا کی پروازیں بھیجی جا سکتی ہیں۔
اس دوران متاثرین کے اہل خانہ نے وزیر اعظم مودی سے مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے شوہر، بھائی اور عزیز جلد وطن واپس آئیں گے۔
معاملہ کیا ہے؟
بھارتی میڈیا ادارے’انڈیا ٹوڈے‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ایک تجارتی جہاز پر سوار 16 بھارتی سیلرز گزشتہ ایک ماہ کے زائد عرصے سے ایران کی پاسدارانِ انقلاب فورسز کی تحویل میں ہیں۔ پاسداران انقلاب نے جہاز کو بین الاقوامی پانیوں میں تعاقب کے بعد قبضے میں لیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران جہاز کو کچھ نقصان پہنچا اور عملے کے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 8 دسمبر کو کپتان ونود پرمار کو اپنے بھائی کی پریشان کن کال موصول ہوئی، جو متحدہ عرب امارات کے قریب ٹینکر ویلیئنٹ روار کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ گھبرائے ہوئے کپتان وجے کمار نے بتایا کہ ان کا جہاز، جس میں 18 افراد سوار تھے، بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے تعاقب میں ہے۔ اس کے بعد لائن منقطع ہو گئی۔
متاثرین نے مدد کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا
جہاز کے عملے کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود وہ لوگ اپنے اہلِ خانہ اور بیرونی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، جبکہ ایران میں حالیہ خونریز بدامنی نے صورتِ حال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
متاثرین کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ہر گزرتا دن اذیت ناک انتظار میں بدل رہا ہے۔ کئی ہفتے گزر چکے ہیں مگر حکومت یا ایران میں بھارتی سفارت خانے کی جانب سے خاطر خواہ مدد نہیں ملی۔ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ بندش نے معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کسی اور راستے کے نہ ہونے پر اہلِ خانہ نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے رِٹ پٹیشن دائر کی ہے، جس پر عدالت نے مرکز کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
متاثرین کے اہلِ خانہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ایران نے عملے کو تحویل میں کیوں لیا؟
ایران کا الزام ہے کہ یہ جہاز چھ ملین لیٹر ڈیزل اسمگل کر رہا تھا، تاہم جہاز کے کپتان پرمار کے مطابق ٹینکر میں صرف کم سلفر فیول آئل تھا اور اس کی لیبارٹری رپورٹ ان کے پاس موجود تھی۔
عملے کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ ایرانی حکام کی جانب سے اب تک نہ تو باضابطہ حراستی احکامات جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی جہاز ضبط کرنے کی کوئی وجہ بتائی گئی ہے۔
عملے میں 16 بھارتیوں کے علاوہ ایک سری لنکن اور ایک بنگلہ دیشی بھی شامل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور ایران دونوں میری ٹائم لیبر کنونشن 2006 کے دستخط کنندہ ہیں، جو سمندری ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
دریں اثنا جمعرات کو بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ صورتحال سے آگاہ ہے اور سیلرز کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ادارت: صلاح الدین زین