1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سپریم کورٹ کا عمران خان کے طبی معائنہ کا حکم

جاوید اختر ڈی پی اے
12 فروری 2026

سابق وزیرِ اعظم کی جانب سے اپنی دائیں آنکھ کی بینائی میں 85 فیصد کمی کی شکایت کے بعد عدالت نے حکومت کو عمران خان کے معائنے کے لیے ایک طبی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/58dJK
سابق وزیر اعظم خان 2023ء سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں
سابق وزیر اعظم خان 2023ء سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیںتصویر: Arif Ali/AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو حکومت کو ہدایت کی کہ جیل  میں بند عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے ایک میڈیکل ٹیم تشکیل دی جائے۔ سابق وزیرِ اعظم نے اپنی دائیں آنکھ کی بینائی میں 85 فیصد کمی کی شکایت کی تھی۔

تہتر سالہ عمران خان بدعنوانی کے متعدد مقدمات میں 2023 سے جیل میں ہیں، جن میں 2018 سے 2022 کے دوران اپنی حکومت کے دوران دیگر ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف چرانے کا الزام بھی شامل ہے۔ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اسلام آباد میں میڈیا کو بتایا کہ چند ماہ قبل ان کی دائیں آنکھ میں انفیکشن ہوا تھا جس کے نتیجے میں ان کی بینائی متاثر ہوئی۔

عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں صحت کے شدید مسائل کا سامنا ہونے کے باجود علاج معالجے کی سہولیات مہیا نہیں کی جارہیں
عمران خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہیں صحت کے شدید مسائل کا سامنا ہونے کے باجود علاج معالجے کی سہولیات مہیا نہیں کی جارہیںتصویر: Hussain Ali/ZUMA/picture alliance

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس ہفتے سلمان صفدر کو ہدایت دی تھی کہ وہ خان سے ملاقات کریں اور ان کی صحت کی صورتحال کی رپورٹ جمع کرائیں۔ صفدر نے جیل سیل میں خان سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی اور جمعرات کو عدالت کو بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

 کرکٹ اسٹار سے سیاستدان بننے والے عمران خان 2024 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی ناکامی کے باوجود پاکستان میں مقبول ہیں۔

حکومت نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران خان کی اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی حکم دیا کہ انہیں لندن میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

عمران خان کی آنکھ کے آپریشن کا معما ابھی حل نہیں ہوا، سہیل آفریدی

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔