1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صحت عامہ کے مہنگے جرمن نظام میں بہتری کے لیے 66 نکاتی تجاویز

مقبول ملک (بین نائٹ)
5 اپریل 2026

جرمنی میں صحت عامہ کے بہت مہنگے نظام میں بہتری اور ہوش ربا اخراجات میں کمی کے لیے ایک خصوصی کمیشن نے اپنی 66 نکاتی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ یہ بات لیکن یقینی نہیں ہے کہ آیا وفاقی حکومت ان تجاویز پر عمل بھی کر سکے گی۔

https://p.dw.com/p/5BdUr
جرمنی میں مختلف ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کی طرف سے ان کے صارفین کو جاری کردہ ڈیجیٹل انشورنس کارڈز
جرمنی میں مختلف ہیلتھ انشورنس کمپنیوں کی طرف سے ان کے صارفین کو جاری کردہ ڈیجیٹل انشورنس کارڈزتصویر: AP

جرمن پبلک ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری کے لیے یہ تجاویز ایک 66 نکاتی پیکج کی صورت میں ایک خصوصی کمیشن نے ابھی حال ہی میں پیش کیں اور ان کا ایک بنیادی مقصد ان مالی ادائیگیوں میں کمی کرنا بھی ہے، جو یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں عام صارفین کو اپنی ہیلتھ انشورنس کے لیے کرنا پڑتی ہیں۔

جرمن پبلک ہیلتھ کیئر سسٹم دنیا میں اپنی نوعیت کے مہنگے ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی میں ریاستی سطح پر کام کرنے والے ہیلتھ انشورنس ادارے اس نظام میں صحت عامہ کے تحفظ کے لیے روزانہ اوسطاﹰ تقریباﹰ ایک بلین یورو (1.15 بلین ڈالر) ادا کرتے ہیں، اور خدشہ ہے کہ ان سرکاری اخراجات میں آئندہ چند برسوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

جرمنی میں بچوں کے جسم میں پلاسٹیسائزرز کی موجودگی کا انکشاف

اسی دوران عام جرمن صارفین اپنے لیے ہیلتھ انشورنس کی خاطر اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کو جو ادائیگیاں کرتے ہیں، ان میں اس سال اوسطاﹰ تین فیصد کا اضافہ پہلے ہی ہو چکا ہے، جبکہ گزشتہ برس بھی ان ادائیگیوں میں 2.5 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔

جرمنی میں ایک سرجن اپنے ایک مریض کو اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مسئلے کی ایک ماڈل کے ساتھ طبی وضاحت کرتے ہوئے
جرمنی میں ایک سرجن اپنے ایک مریض کو اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مسئلے کی ایک ماڈل کے ساتھ طبی وضاحت کرتے ہوئےتصویر: Christian Creon/Funke Foto Services/IMAGO

مستقبل کی ممکنہ تشویشناک صورت حال

عام صارفین کی طرف سے ہیلتھ انشورنس کے لیے کی جانے والی ادائیگیوں میں اضافے کے باوجود جرمن اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

یہ فرق اس وقت بھی ہوش ربا حد تک زیادہ ہے اور خدشہ ہے کہ 2027ء میں یہ بڑھ کر سالانہ 15.3 بلین یورو اور 2030ء میں 40.4 بلین یورو ہو جائے گا۔

جرمن شہریوں کا یومیہ دس گھنٹوں سے زائد بیٹھے رہنے کا ’تشویشناک ریکارڈ‘

خصوصی کمیشن نے اس موضوع پر جو 66 نکاتی تجاویز پیش کی ہیں، ان میں صرف اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس اداروں کی آمدنی اور اخراجات میں فرق کو ہی کم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ اس بات پر بھی دھیان دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مالی بچتی اقدامات کہاں کہاں اور کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔

اس کمیشن میں، جس کے ارکان کی تعداد 10 تھی، اقتصادیات، طب اور سماجی اور قانونی شعبوں کے متعدد ماہرین شامل تھے۔

جرمن اکثریت نوعمروں میں شراب نوشی پر سخت قوانین چاہتی ہے

کمیشن نے اپنی جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کے بارے میں ناقدین کو یہ شکایت بھی ہے کہ تجویز کردہ اقدامات بہت زیادہ ہیں اور حکومت کے لیے ان سب پر عمل درآمد سیاسی مشکلات کے علاوہ بھی عملاﹰ کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

ایک جرمن ہسپتال میں ایک مریض اور اس کا بلڈ پریشر چیک کرتی ہوئی ایک نرس
جرمنی میں کسی مریض کا علاج کے لیے ہسپتال میں داخل ہونا بہت مہنگا ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے اخراجات متعلقہ ہیلتھ انشورنس کمپنی ادا کرتی ہےتصویر: Ina Fassbender/AFP/Getty Images

کمیشن کی پیش کردہ چند کلیدی تجاویز

اس اسپیشل کمیشن نے اپنی 480 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مجموعی طور پر جو 66 تجاویز پیش کی ہیں، ان میں یہ بھی شامل ہیں:

  • الکوحل اور تمباکو مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافہ

  • میٹھے سافٹ ڈرنکس پر نیا اضافی ٹیکس

  • مریضوں کے طبی آپریشنوں کے لیے زیادہ بہتر منصوبہ بندی، جیسے گھٹنے کی تبدیلی کے آپریشن سے پہلے کسی دوسرے ڈاکٹر یا سرجن کی لازمی غیر جانبدارانہ رائے کا لیا جانا، اس لیے کہ جرمنی میں ایسے طبی آپریشنوں کی سالانہ ملکی اوسط یورپی یونین کے رکن کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

  •  مستقبل میں مریضوں کو ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات کے لیے اپنی جیب سے اب تک کے مقابلے میں زیادہ رقوم کی ادائیگی پر قانوناﹰ پابند بنانا۔

  • کسی بھی گھرانے میں اگر کمانے والا ایک ہی ہو اور اس گھرانے میں چھ سال سے کم عمر کے کوئی بچے نہ ہوں، تو شریک حیات کے لیے شوہر یا بیوی کی وجہ سے مفت ہیلتھ انشورنس کے سماجی طرز عمل کا خاتمہ اور ایسی صورت میں ہیلتھ انشورنس کے لیے اضافی مالی  ادائیگی۔

  • ایسے باشندے جو بے روزگار ہوں، ان کو ملنے والی ہیلتھ کیئر سہولیات کے لیے ادائیگی ہیلتھ انشورنس کمپنیاں نہ کریں بلکہ ایسے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے۔ صرف اس طرح ہی اسٹیٹ ہیلتھ انشورنس ادارےسالانہ تقریباﹰ 12 بلین یورو کی بچت کر سکتے ہیں۔

برلن کے مشہور شاریٹے ہسپتال میں نرسنگ سٹاف کی رکن چند خواتین اپنی وارڈ کے استقبالیے پر
برلن کے مشہور شاریٹے ہسپتال میں نرسنگ سٹاف کی رکن چند خواتین اپنی وارڈ کے استقبالیے پرتصویر: Political-Moments/IMAGO

جرمنی کے قریب ستر فیصد عوامی ہسپتال خسارے میں، سروے

وفاقی جرمن وزیر صحت نینا وارکن نے کہا ہے کہ ان کی وزارت ہیلتھ انشورنس سے متعلق اس خصوصی کمیشن کی پیش کردہ تجاویز کا جلد از جلد تفصیلی جائزہ لے گی اور انہی تجاویز کی روشنی میں ایک ایسا نیا مسودہ قانون تیار کیا جائے گا، جسے اسی سال موسم گرما میں بحث کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔

ادارت: شکور رحیم

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔