1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
فٹ بالجرمنی

فیکٹ چیک: کیا ورلڈ کپ میچ میں ہٹلر سے مشابہ شخص موجود تھا؟

جاوید اختر (ٹامس اسپیرو)
16 جون 2026

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک تصویر میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جرمنی اور کوراساؤ کے درمیان فیفا ورلڈ کپ کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک مداح اڈولف ہٹلر سے مشابہت رکھتا تھا۔

https://p.dw.com/p/5FVUh
جرمنی کی کوراساؤ کے خلاف فتح کے دوران مبینہ طور پر ہٹلر سے مشابہ شخص کی موجودگی دکھانے والی  تصویر کا اسکرین شاٹ
جرمنی کی کوراساؤ کے خلاف فتح کے دوران اسٹیڈیم میں مبینہ طور پر ہٹلر سے مشابہ شخص کی موجودگی دکھانے والی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اسے لاکھوں بار دیکھا گیاتصویر: reddit

جرمنی کی کوراساؤ کے خلاف 7-1 کے فرق سے بڑی فتح کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں ایک شخص جرمن ٹیم کی شرٹ پہنے، جرمن پرچم تھامے اور اڈولف ہٹلر جیسی شکل و صورت کے ساتھ اسٹیڈیم میں موجود دکھائی دیتا ہے۔ اس تصویر کو مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں مرتبہ دیکھا اور شیئر کیا گیا۔

اس وائرل تصویر بظاہر میچ کی ٹی وی نشریات کا ایک اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے، جس پر پہلے ہاف کے اضافی وقت کا ٹائم کوڈ بھی موجود ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جرمن کھلاڑی کائی ہاورٹز کے پنلٹی گول کے بعد شائقین خوشی منا رہے تھے۔ لیکن حقیقت میں یہ تصویر اصلی نہیں۔

تقابلی تصویر
یہ تقابلی تصویر واضح کرتی ہے کہ میچ کی اصل ٹی وی نشریات میں ڈیجیٹل رد و بدل کر کے ایک ہٹلر سے مشابہ شخص کو مصنوعی طور پر شامل کیا گیا، جبکہ اصل فوٹیج میں ایسا کوئی فرد موجود نہیں تھاتصویر: Facebook

ڈی ڈبلیو اس نتیجے پر کیسے پہنچا؟

یہ منظر اس وقت کا ہے جب جرمنی کے کھلاڑی کائی ہاورٹز نے پنلٹی پر گول کر کے اپنی ٹیم کی برتری 3-1 کر دی تھی، جس کے بعد اسٹیڈیم میں موجود شائقین خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔

تاہم میچ کی اصل ٹی وی نشریات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ ہاورٹز کے گول کے بعد جشن منانے والے شائقین کا یہی گروپ گو کہ اسکرین پر نظر آتا ہے، تاہم ایک اہم فرق کے ساتھ ۔ فرق یہ کہ وائرل ہو جانے والی تصویر میں دکھایا گیا مبینہ طور پر ''ہٹلر سے مشابہ‘‘ شخص اصل فوٹیج میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔

اس کی جگہ ایک سفید بالوں والا شخص نظر آتا ہے، جس کی شکل اڈولف ہٹلر سے کسی بھی طور مماثلت نہیں رکھتی۔

مزید برآں فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلوں کی مرکزی نشریات تمام براڈکاسٹرز کو ایک ہی عالمی فیڈ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے مختلف چینلز پر بنیادی مناظر ایک جیسے ہوتے ہیں۔

فوٹو ایجنسیوں کی تصاویر بھی اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔ میچ کی کوریج کرنے والی برلن میں قائم فوٹو ایجنسی امیگو سمیت دیگر اداروں کی تصاویر میں بھی اسی گروپ کے شائقین کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ان میں کہیں بھی ''ہٹلر سے مشابہ‘‘ مبینہ شخص تو موجود ہی نہیں۔

کوراساؤ کے خلاف جرمنی کے میچ کے دوران جرمن شائقین
میچ کی کوریج کے لیے منظور شدہ فوٹوگرافروں کی جانب سے لی گئی تصاویر کے جائزے میں شائقین کا وہی گروپ نظر آتا ہے، تاہم ان میں مبینہ ہٹلر سے مشابہ شخص کہیں بھی موجود نہیں، جس سے وائرل تصویر کے جعلی ہونے کی مزید تصدیق ہوتی ہےتصویر: Joao Bravo/Sports Press Photo/IMAGO

کیا تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی؟

اس تصویر کی جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مختلف ٹولز استعمال کیے گئے۔ اوپن اے آئی کے تجزیاتی نظام نے اس تصویر میں SynthID واٹر مارک کی موجودگی کی نشاندہی کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اس تصویر کو اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تخلیق یا تبدیل کیا گیا۔

اسی طرح گوگل کے جیمینائی ٹول نے بھی اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ گوگل کے اے آئی سسٹمز استعمال ہوئے، تاہم اس نے واضح کیا کہ بصری تجزیے اور سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تصویر میں ڈیجیٹل رد و بدل کیا گیا ہے۔

ادھر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے اے آئی چیٹ بوٹ گروک نے بھی اس تصویر کو 'کلاسک جعلی تصویر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں 2026 کے ورلڈ کپ کے ہجوم میں اڈولف ہٹلر کی شبیہ ڈیجیٹل طریقے سے شامل کی گئی۔

ماہرین کا موقف

حقائق جانچنے والے ماہرین کے مطابق اگر واقعی کسی ورلڈ کپ میچ کے دوران اڈولف ہٹلر سے مشابہ کوئی شخص نمایاں انداز میں موجود ہوتا، تو یہ فوری طور پر ایک بڑا تنازعہ یا کم از کم واقعہ  بن جاتا، جس کی طرف براڈکاسٹرز، اسٹیڈیم حکام اور دیگر شائقین کی توجہ ضرور جاتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ورلڈ کپ کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار یا تبدیل کی گئی گمراہ کن تصاویر اور جھوٹی معلومات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔