نیپالی الیکشن سے قبل قدیم ترین سیاسی جماعت دو حصوں میں تقسیم
15 جنوری 2026
ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس جنوبی ایشیائی ریاست کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق نیپال میں گزشہ برس موسم خزاں میں ہونے والے حکومت مخالف لیکن خونریز عوامی مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہو گئی تھی۔ یہ عوامی مظاہرے ملک میں وسیع تر کرپشن اور ابتری کا شکار ملکی معیشت کے خلاف تھے۔
اب مستحکم داخلی سیاسی صورت حال کے لیے مارچ میں وہاں جو نئے قومی انتخابات ہونے والے ہیں، ان سے قبل ملک کی سب سے پرانی اور انتہائی بااثر سیاسی جماعت نیپالی کانگریس اپنے رہنماؤں اور ان کے حامی ارکان کے مابین اختلافات کے باعث عملاﹰ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
نیپال: دو سالہ بچی ’نئی دیوی‘ منتخب
اس تقسیم کے بعد، جس دوران منحرف دھڑے نے اپنا نیا مرکزی صدر بھی منتخب کر لیا، نیپال میں پہلے ہی سے ٹوٹ پھوٹ اور زیر و بم سے عبارت سیاسی ماحول مزید غیر مستحکم ہو گیا ہے۔
’یہاں کچھ نہیں‘: روزگار کی کمی کے سبب نیپالی نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور
نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے کے نو منتخب سربراہ گگن تھاپا نے جمعرات کی صبح کھٹمنڈو میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ''میں ان تمام ساتھی کارکنوں کا شکرگزار ہوں، جنہوں نے مجھے نیا پارٹی صدر منتخب کیا ہے۔‘‘
گگن تھاپا نے کہا، ''آپ نے مجھے نیپالی کانگریس جیسی پارٹی کی صدارت کی ذے داری سونپی ہے، جو کوئی چھوٹی ذمےداری نہیں ہے۔ میں دل سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ کو ناامید نہیں کروں گا۔‘‘
کون سا دھڑا غیر منقسم پارٹی کا جانشین؟
کھٹمنڈو سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اس سب سے پرانی اور بہت بااثر سیاسی جماعت کی تقسیم کے بعد اہم ترین سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کون سا دھڑا غیر منقسم پارٹی کا حقیقی جانشین ہو گا؟
اس کے علاوہ یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ پانچ مارچ کو ہونے والے آئندہ قومی انتخابات میں شرکت کے لیے اس جماعت کا روایتی اور مشہور انتخابی نشان 'درخت‘ کس ذیلی دھڑے کو ملے گا اور کون سا دھڑا اس پارٹی کا جھنڈا بھی استعمال کر سکے گا؟
اس بارے میں نیپالی الیکشن کمیشن کے ترجمان نارائن پرشاد بھٹہ رائے نے نیوز ایجنسی اے ایف ہی کو بتایا، ''اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو خطوط مل گئے ہیں اور کمیشن حقائق کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گا۔‘‘
پانچ مرتبہ وزیر اعظم رہنے و الے شیر بہادر دیوبا
غیر منقسم نیپالی کانگریس کے صدر تجربہ کار سیاستدان شیر بہادر دیوبا تھے، جو 2016ء سے اس پارٹی کے سربراہ چلے آ رہے تھے اور مجموعی طور پر پانچ مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔
پھر منحرف رہنماؤں نے ایک ایسا خصوصی پارٹی کنوینشن طلب کر لیا تھا، جس کا مقصد مرکزی قیادت میں تبدیلی تھا۔ اس پارٹی کو تقسیم سے بچانے کی کوششیں بدھ 14 جنوری تک جاری رہیں مگر بالآخر ناکام ہو گئیں۔
نیپال: موجودہ سیاسی بحران کے بعد ملک کس کروٹ بیٹھے گا؟
ان مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات میں سے نمایاں ترین یہ تھیں کہ ایک تو منحرف اور غیر منحرف دھڑوں کے مابین کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا اور دوسرے یہ کہ اس بارے میں بھی پارٹی لیڈر اختلافات کا شکار تھے کہ آیا شیر بہادر دیوبا کو پارٹی کی صدارت سے الگ ہو جانا چاہیے۔
نیپال: ہلاکت خیز مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی ختم
اس مذاکراتی ناکامی کے بعد غیر منقسم نیپالی کانگریس نے 49 سالہ گگن تھاپا اور دو دیگر منحرف رہنماؤں کی پارٹی رکنیت معطل کر د ی تھی۔ اس کے بعد منحرف دھڑے کے پارٹی ممبران نے گگن تھاپا کو نیا صدر منتخب کر لیا، جو پارٹی کی مقابلتاﹰ کم عمر قیادت میں سے سب سے معروف لیڈر ہیں اور دھڑے بندی سے قبل نیپالی کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پرفائز تھے۔
نیپالی کانگریس کی اگلے عام انتخابات سے قریب ڈیڑھ ماہ قبل اس تقسیم کو ملکی سیاست کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ