1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستنیپال

نیپالی الیکشن سے قبل قدیم ترین سیاسی جماعت دو حصوں میں تقسیم

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
15 جنوری 2026

نیپال میں مارچ میں ہونے والے اگلے قومی انتخابات سے قبل ملک کی قدیم ترین سیاسی جماعت نیپالی کانگریس جمعرات 15 جنوری کے روز عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ پارٹی کے منحرف دھڑے نے اپنا نیا صدر بھی منتخب کر لیا ہے۔

https://p.dw.com/p/56tOs
نیپالی شہر بیرگنج میں سکیورٹی کے لیے ایک سڑک پر تعینات مسلح پولیس اہلکار
نیپالی شہر بیرگنج میں سکیورٹی کے لیے ایک سڑک پر تعینات مسلح پولیس اہلکارتصویر: Jiyalal Saah/AP Photo/picture alliance

ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع اس جنوبی ایشیائی ریاست کے دارالحکومت کھٹمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق نیپال میں گزشہ برس موسم خزاں میں ہونے والے حکومت مخالف لیکن خونریز عوامی مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہو گئی تھی۔ یہ عوامی مظاہرے ملک میں وسیع تر کرپشن اور ابتری کا شکار ملکی معیشت کے خلاف تھے۔

اب مستحکم داخلی سیاسی صورت حال کے لیے مارچ میں وہاں جو نئے قومی انتخابات ہونے والے ہیں، ان سے قبل ملک کی سب سے پرانی اور انتہائی بااثر سیاسی جماعت نیپالی کانگریس اپنے رہنماؤں اور ان کے حامی ارکان کے مابین اختلافات کے باعث عملاﹰ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔

نیپال: دو سالہ بچی ’نئی دیوی‘ منتخب

اس تقسیم کے بعد، جس دوران منحرف دھڑے نے اپنا نیا مرکزی صدر بھی منتخب کر لیا، نیپال میں پہلے ہی سے ٹوٹ پھوٹ اور زیر و بم سے عبارت سیاسی ماحول مزید غیر مستحکم ہو گیا ہے۔

غیر منقسم نیپالی کانگریس کے طویل عرصے سے صدر چلے آ رہے شیر بہادر دیوبا جو پانچ مرتبہ ملکی وزیر اعظم رہ چکے ہیں
غیر منقسم نیپالی کانگریس کے طویل عرصے سے صدر چلے آ رہے شیر بہادر دیوبا جو پانچ مرتبہ ملکی وزیر اعظم رہ چکے ہیںتصویر: Ian Forsyth/AFP/Getty Images

’یہاں کچھ نہیں‘: روزگار کی کمی کے سبب نیپالی نوجوان بیرون ملک جانے پر مجبور

نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے کے نو منتخب سربراہ گگن تھاپا نے جمعرات کی صبح کھٹمنڈو میں خطاب کرتے ہوئے کہا، ''میں ان تمام ساتھی کارکنوں کا شکرگزار ہوں، جنہوں نے مجھے نیا پارٹی صدر منتخب کیا ہے۔‘‘

گگن تھاپا نے کہا، ''آپ نے مجھے نیپالی کانگریس جیسی پارٹی کی صدارت کی ذے داری سونپی ہے، جو کوئی چھوٹی ذمےداری نہیں ہے۔ میں دل سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ کو ناامید نہیں کروں گا۔‘‘

کون سا دھڑا غیر منقسم پارٹی کا جانشین؟

کھٹمنڈو سے ملنے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ملک کی اس سب سے پرانی اور بہت بااثر سیاسی جماعت کی تقسیم کے بعد اہم ترین سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کون سا دھڑا غیر منقسم پارٹی کا حقیقی جانشین ہو گا؟

نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے کے نئے صدر گگن تھاپا
نیپالی کانگریس کے منحرف دھڑے کے نئے صدر گگن تھاپاتصویر: Aryan Dhimal/Zuma/picture alliance

اس کے علاوہ یہ پہلو بھی بہت اہم ہے کہ پانچ مارچ کو ہونے والے آئندہ قومی انتخابات میں شرکت کے لیے اس جماعت کا روایتی اور مشہور انتخابی نشان 'درخت‘ کس ذیلی دھڑے کو ملے گا اور کون سا دھڑا اس پارٹی کا جھنڈا بھی استعمال کر سکے گا؟

اس بارے میں نیپالی الیکشن کمیشن کے ترجمان نارائن پرشاد بھٹہ رائے نے نیوز ایجنسی اے ایف ہی کو بتایا، ''اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو خطوط مل گئے ہیں اور کمیشن حقائق کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گا۔‘‘

پانچ مرتبہ وزیر اعظم رہنے و الے شیر بہادر دیوبا

غیر منقسم نیپالی کانگریس کے صدر تجربہ کار سیاستدان شیر بہادر دیوبا تھے، جو 2016ء سے اس پارٹی کے سربراہ چلے آ رہے تھے اور مجموعی طور پر پانچ مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں۔

پھر منحرف رہنماؤں نے ایک ایسا خصوصی پارٹی کنوینشن طلب کر لیا تھا، جس کا مقصد مرکزی قیادت میں تبدیلی تھا۔ اس پارٹی کو تقسیم سے بچانے کی کوششیں بدھ 14 جنوری تک جاری رہیں مگر بالآخر ناکام ہو گئیں۔

نیپال: موجودہ سیاسی بحران کے بعد ملک کس کروٹ بیٹھے گا؟

نیپال میں احتجاج کرتے مظاہرین
نیپال میں گزشہ برس موسم خزاں میں ہونے والے خونریز حکومت مخالف عوامی مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہو گئی تھیتصویر: Jiyalal Saah/AP Photo/picture alliance

ان مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات میں سے نمایاں ترین یہ تھیں کہ ایک تو منحرف اور غیر منحرف دھڑوں کے مابین کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا اور دوسرے یہ کہ اس بارے میں بھی پارٹی لیڈر اختلافات کا شکار تھے کہ آیا شیر بہادر دیوبا کو پارٹی کی صدارت سے الگ ہو جانا چاہیے۔

نیپال: ہلاکت خیز مظاہروں کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی ختم

اس مذاکراتی ناکامی کے بعد غیر منقسم نیپالی کانگریس نے 49 سالہ گگن تھاپا اور دو دیگر منحرف رہنماؤں کی پارٹی رکنیت معطل کر د ی تھی۔ اس کے بعد منحرف دھڑے کے پارٹی ممبران نے گگن تھاپا کو نیا صدر منتخب کر لیا، جو پارٹی کی مقابلتاﹰ کم عمر قیادت میں سے سب سے معروف لیڈر ہیں اور دھڑے بندی سے قبل نیپالی کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پرفائز تھے۔

نیپالی کانگریس کی اگلے عام انتخابات سے قریب ڈیڑھ ماہ قبل اس تقسیم کو ملکی سیاست کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

نیپالی نوجوان روسی فوج میں کیوں بھرتی ہو رہے ہیں؟

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔