منگول آندھی، جو چار کروڑ انسانوں کو نگل گئی
31 جنوری 2026
بارہویں صدی میں منگولیا کے صحرا سے اٹھنے والے منگول حملہ آوروں کے طوفان نے دیکھتے دیکھتے دنیا کے بائیس فیصد زمینی حصے کو اپنے قابو میں کر لیا۔ ان حملوں نے معاشی، سیاسی، عسکری اور دیگر بہت سے پہلوؤں سے دنیا کو بڑی حد تک متاثر کیا۔
منگولوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے حملوں اور پالیسیوں کی وجہ سے تقریباﹰ چار سے چھ کروڑ لوگ دنیا کے مختلف علاقوں میں ہلاک ہوئے۔
منگول اور ان کی سلطنت
گیارہ سو باسٹھ میں پیدا ہونے والا تمو جن، جس کو دنیا چنگیز خان کے نام سے جانتی ہے، نے پہلے اپنی قوم کے مختلف قبیلوں کو مطیع کیا اور پھر دنیا کے مختلف علاقوں میں ایسے حملے کیے، جس کی مثال عسکری تاریخ میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ منگول پہلے اطاعت کی دعوت دیتے تھے اور نہ ماننے پر بدترین بربریت کا مظاہرہ کرتے۔
جوجی، چغتائی، اوگادے، طولو، باطو، ہلاکو، قبلائی خان، منگو خان اور دوسرے منگول حملہ آوروں نے منگول سلطنت کی توسیع جاری رکھی۔
سن بارہ سو ستائیس میں چنگیزخان کا انتقال ہوا تو اس کے دو سال بعد یعنی سن بارہ سو انتیس تک منگول سلطنت مغرب میں بحیرہ کیسپیئن سے لے کر مشرق میں بحیرہ چین تک اور شمال میں سائیبریا سے لے کر جنوب میں تبت تک پھیلی ہوئی تھی۔ منگولوں نے وسطی ایشیا کے بادشاہ خوارزم شام کو سن بارہ سو اکتیس میں شکست دی، روس پر بارہ سو چالیس میں حملہ کیا، بغداد کو بارہ سو اٹھاون میں تاراج کیا اور بارہ سو انسٹھ میں شام کے تقریباﹰ تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے علاوہ شمالی چین کو سن بارہ سو پانچ سے نو کے درمیان مطیع کیا اور بارہ سو پندرہ میں بیجنگ کو فتح کیا۔
کئی دوسرے ممالک منگولوں کے حملوں کے خوف سے کانپتے رہے۔ منگولوں نے دنیا کی سب سے بڑی بری سلطنت قائم کی، جس کی انتظامیہ کا انتخاب قابلیت کی بنیاد پر کیا جاتا۔ منگولوں کے دور میں تجارت کو فروغ دیا گیا۔ دنیا کی پہلی موثر پوسٹل سروس قائم کی گئی جبکہ انہوں نے اپنی تمام تر بربریت کے باوجود مذہبی رواداری کی اعلیٰ مثالیں بھی قائم کیں۔
داستان خوں چکاں
منگولوں کے حملوں نے دنیا کے کئی علاقوں کو مقتل گاہوں میں تبدیل کر دیا اور ایک اندازے کے مطابق انہوں نے چار سے چھ کروڑ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ کچھ اندازوں کے مطابق یہ دنیا کی آبادی کا نو سے دس فیصد سے بھی زیادہ تھا۔
علم و ادب اور تجارت کے مرکز بغداد شہر کی دس لاکھ آبادی میں سے آٹھ لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس کے علاوہ منگول قتل و غارت گری کے سب سے بڑے شکار چینی باشندے بنے، جن کی ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اعداد و شمار ہیں۔ کچھ مورخین تو یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ چین میں تین کروڑ سے چھ کروڑ کے قریب لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔
مثال کے طور پہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جن بادشاہت کی طرف سے تیرہویں صدی کے ابتدائی برسوں میں شمالی چین میں کرائی جانے والی مردم شماری کے مطابق علاقے کی آبادی سات کروڑ 60 لاکھ تھی لیکن 1234ء میں جب منگولوں نے اس علاقے کی مردم شماری کرائی تو آبادی صرف 17 لاکھ تھی۔
تاہم کئی دوسرے مورخین ان اعدادوشمار کو مبالغہ قرار دیتے ہیں اور ان کے خیال میں منگول حملوں کی وجہ سے چین کی آبادی میں 35 ملین کی کمی ہوئی تھی۔ کچھ اور مورخین کے خیال میں یہ کمی پانچ کروڑ کی اور کچھ کے خیال میں یہ کمی تین کروڑ کی تھی۔ زیادہ تر مورخین نے اس کمی کو تین سے ساڑھے تین کروڑ کے درمیان لکھا ہے۔
اس کے علاوہ مورخین کا دعویٰ ہے کہ ایران میں ان حملوں کی وجہ سے 15 لاکھ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں، افغانستان میں ساڑھے سات لاکھ اور روس میں پانچ لاکھ لوگے مارے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس، یوکرین، ہنگری، پولینڈ اور دوسرے یورپی علاقوں میں منگول حملوں کے 20 برسوں میں تقریبا 50 لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔
کچھ شہروں کی آبادی 80 سے 90 فیصد کم ہو گئی۔ کییف کی آبادی ان حملوں سے پہلے تقریبا 50 ہزار تھی، جو کچھ مورخین کے مطابق کم ہو کر سینکڑوں میں رہ گئی اور کچھ کے خیال میں صرف دو ہزار تک محدود ہو گئی۔ ہنگری کی آبادی 15 سے 50 فیصد کم ہوئی۔
معاشی نقصانات
منگولوں کے حملوں کی وجہ سے کئی خوشحال خطے بدحالی کا شکار ہو گئے اور ان کی سابقہ شان و شوکت مکمل طور پر کبھی بحال نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر بخارا اور سمرقند بہترین تجارتی مراکز تھے جبکہ بغداد نہ صرف ایک اہم تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا بلکہ علم و ادب کا سب سے بڑا سرچشمہ بھی تھا۔
تاہم منگول حملوں کی وجہ سے ان تینوں علاقوں کی تجارت ایک طویل عرصے تک جمود کا شکار ہو گئی جبکہ ایران، چین سمیت کئی ممالک کی زراعت کو بھی زبردست نقصان پہنچا۔ ہنگری میں 40 سے 50 فیصد دیہاتوں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا جبکہ یورپ کے کچھ دوسرے علاقوں میں 30 سے 50 فیصد زرعی زمین یا تو قابل استعمال نہیں رہی یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
سماجی اثرات
منگولوں کے حملوں کی وجہ سے کئی ممالک نے اپنی سرحدوں کو بند کر دیا اور وہ ایک طویل عرصے تک خوف کا شکار رہے، چین اور جاپان نے اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلگ کیا، جس کی وجہ سے وہ جدت اپنانے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہے گئے۔
منگولوں کے حملوں کی وجہ سے بہت ساری توہمات نے بھی جنم لیا۔ مسلم ممالک میں منگول حملوں کو خدا کا عذاب سمجھا گیا جبکہ یورپ میں ابتدائی طور پر یہ خیال کیا گیا کہ یہ کوئی مسیحی مذہب کے پیروکار ہیں، جو یروشلم اور دوسرے مقدس علاقوں کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑائیں گے لیکن جب منگولوں نے ہنگری، پولینڈ، روس اور یوکرین پر حملے کیے اور مغربی یورپ کو اطاعت کے لیے پیغامات بھیجے تو پھر ان کی آنکھیں کھلی۔ چین اور جاپان میں بھی ابتدائی طور پر منگولوں کے بارے میں ایسے ہی توہمات پائی جاتیں تھیں۔
مثبت تبدیلیاں
تاہم منگولوں کے حملوں کی وجہ سے کئی مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں، جن میں ایک موثر پوسٹل سروس کا اجرا بھی تھا۔ صرف منگول حکمراں قبلائی خان کے دور میں چودہ سو کے قریب ڈاک خانے، 50 ہزار گھوڑوں، 8400 بیلوں، چھ ہزار سات سو خچروں، چھ ہزار کشتیوں، دوہزار کتوں اور گیارہ سو پچاس بھیٹروں کی مدد سے پیغام رسانی کا کام کر رہے تھے۔
پیغام پہنچانے والے ایک دن میں تیس سے پچاس میل کا سفر طے کرتے تھے۔ کچھ مورخین نے 250 میل کا بھی لکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر منگولوں کی طرف سے لائی جانے والی تباہی نے ماحولیات پر مثبت اثرات ڈالے۔
ان حملوں کی وجہ سے دنیا کے کئی خطوں کی آبادی کم ہوئی اور کئی علاقے زراعت سے جنگلات کی طرف پلٹے، جس کی وجہ سے تقریباﹰ سات ملین ٹن کاربن جذب کی گئی۔ عالمی سطح پر ایک سال تک اگر پیڑول کا استعمال کیا جائے، تو اتنی بڑی تعداد میں کاربن پیدا ہوتا ہے۔
’ناقابل تسخیر‘ منگول
منگولوں کی کئی فتوحات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی۔ تاہم مملوکوں نے سن بارہ سو ساٹھ میں منگولوں کو این جلوت کی جنگ میں شکست دی اور کچھ عرصے بعد ان سے بغداد اور حمص بھی واپس لے لیے جب کہ ہنگری کے بادشاہ بیلا نے چٹانی قلعوں کی تعمیر کے زریعے منگولوں کو شکست دی۔ بھارت میں علاؤالدین خلجی کے دور میں منگولوں کو شکست ہوئی جبکہ منگول ویت نام اور جاپان میں بھی اپنی عسکری مہمات میں کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے، کالم یا ایسے کسی مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔