1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نئی دہلی ميں فضائی آلودگی سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ

جاوید اختر اے ایف پی کے ساتھ
4 دسمبر 2025

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں 2022ء سے 2024ء کے درمیان چھ سرکاری ہسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے دو لاکھ سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔ اس مسئلے پر اپوزیشن نے پارلیمان میں مودی حکومت کی شدید نکتہ چینی کی۔

https://p.dw.com/p/54jyL
سانس کی بیماری میں مبتلا ایک بچے کا علاج کیا جا رہا ہے
ایک تحقیق کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان بھارت میں 38 لاکھ اموات کا تعلق فضائی آلودگی سے تھاتصویر: DW

دو سال کے دوران دو لاکھ سے زائد افراد کا سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونا دارالحکومت دہلی میں فضائی آلودگی کی خطرناک صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ مریضوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ درجنوں دیگر سرکاری اور سینکڑوں نجی ہسپتالوں کے اعداد وشمار اس میں شامل نہیں ہیں۔

دہلی کی آبادی تین کروڑ ہے اور یہ شہر دنیا کے سب زیادہ آلودہ دارالحکومتوں میں شامل ہے۔

بھارتی وزارت صحت کے اہلکاروں نے اسی ہفتے پارلیمان ميں ايک بريفنگ کے دوران بتایا کہ فضائی آلودگی سانس کی بیماریوں کو بڑھانے والے عوامل میں سے ایک ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نئی دہلی میں 2022ء سے 2024ء کے درمیان چھ سرکاری ہسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے دو لاکھ سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔

جونیئر وزیر صحت پرتاپ راؤ یادو نے منگل کو پارلیمان کو تحریری جواب میں بتایا، ''تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ آلودگی کی سطح میں اضافے کے ساتھ ایمرجنسی رومز میں آنے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔‘‘

اسموگ میں گھرا ہوا انڈیا گیٹ
دہلی میں دیوالی کے بعد کی صبح فضائی آلودگی 900 اے کیو آئی تک پہنچ گئی ہےتصویر: Rouf Fida/DW

بھارت میں فضائی آلودگی سے دس سال میں 38 لاکھ اموات

ہر سال موسم سرما کے آغاز پر دھواں دہلی کی فضا کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا آلودگی کو زمین کے قریب روک دیتی ہے اور فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل کارخانوں اور بھاری ٹریفک کے دھوئیں کے ساتھ مل کر جان لیوا امتزاج پیدا کرتا ہے، جسے 'اسموگ‘ کہا جاتا ہے۔

آلودگی کا سبب بننے والے پی ایم 2.5 ذرات سرطان کی وجہ بنتے ہیں۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ خون میں داخل ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ برس 'دی لینسٹ پلانیٹری ہیلتھ‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق ميں يہ اندازہ لگایا گیا کہ 2009 سے 2019 کے درمیان بھارت میں 38 لاکھ اموات کا تعلق فضائی آلودگی سے تھا۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آلودہ ہوا بچوں کو سانس کی انفیکشن کے زیادہ خطرے میں ڈالتی ہے۔

تاہم وزارت صحت نے کہا کہ ہسپتال میں سانس کی بیماری میں مبتلا ہر شخص کے داخلے کی تمام تر ذمہ داری صرف فضائی آلودگی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ حکام کے مطابق، ''فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات مختلف عوامل کے باہمی اثرات کا نتیجہ ہوتے ہیں، جن میں کھانے پینے کی عادات، پیشہ ورانہ ماحول، سماجی و معاشی حیثیت، طبی پس منظر، قوت مدافعت اورموروثیت وغیرہ شامل ہیں۔‘‘

بھارتی پارلیمان کےاندر کا منظر
جمعرات کو کئی اراکینِ پارلیمان نے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر بحث کے لیے تحریک التوا کے نوٹس دیےتصویر: AP Photo/picture alliance

پارلیمنٹ میں فضائی آلودگی کے مسئلے کی گونج

جمعرات کو کئی اراکینِ پارلیمان نے بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر بحث کے لیے تحریک التوا کے نوٹس دیے، جس میں دہلی این سی آر اور شمالی بھارت کے دیگر حصوں کی صورتِ حال پر گفتگو کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

لوک سبھا کے اراکین مانیکم ٹیگور، منیش تیواری اور وجے کمار نے یہ نوٹس دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آلودگی کو 'قومی صحت ایمرجنسی‘ قرار دیا جائے۔

کانگریس کی سینئر رہنما اور رکنِ پارلیمان سونیا گاندھی نے بھی نئی دہلی کی فضائی آلودگی پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قومی دارالحکومت میں بگڑتے ہوئے ایئر کوالٹی انڈیکس کی وجہ سے سب سے زیادہ بچے اور بزرگ متاثر ہو رہے ہیں۔

سونیا گاندھی نے کہا، ''یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کوئی قدم اٹھايا جائے۔ بچے مر رہے ہیں اور میری طرح کے بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ وہ سانس نہیں لے پا رہے۔‘‘

کانگریس کی رکنِ پارلیمان پریانکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ہر سال صورتحال بگڑتی جا رہی ہے لیکن حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھايا۔ فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر پوری اپوزیشن مرکزی حکومت کے ساتھ ہے۔

ادارت: عاصم سليم

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔