1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نئے افغانستان کی علامت: کیا پولیس فورس میں عورتیں رہیں گی؟

20 دسمبر 2012

جب فریبا نے افغان نیشنل پولیس میں شمولیت اختیار کی تو کچھ ہی دیر بعد اس نے خود کو ’ڈریگن‘ کہلوانا شروع کر دیا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے وطن میں امن عامہ کی بحالی کے لیے انتھک محنت کرے گی۔

https://p.dw.com/p/175yV

آج پانچ سال بعد فریبا اپنے مرد ساتھی اہلکاروں کی طرف خود کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے سے تنگ آ چکی ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ حکومت خواتین پر مشتمل پولیس فورس کے لیے بجٹ میں کمی کر دے گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت عورتوں پر مشتمل پولیس فورس کو ختم ہی کر دے۔

افغانستان میں خواتین پولیس اہلکاروں کی حیثیت شروع میں ایک ایسی علامت کی تھی جو ایک نئے افغانستان کی نشاندہی کرتی تھی۔ اس پولیس فورس کا قیام اس مثبت سوچ کا نتیجہ تھا جو اس ملک میں سن 2001 میں طالبان کے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

تب پوری دنیا نے ایسی افغان خاتون پولیس اہلکاروں کی تصویریں دیکھی تھیں جنہوں نے ہتھیار اٹھائے ہوئے تھے اور جن کی مقبولیت کو سامنے رکھتے ہوئے نوجوان افغان خواتین کے لیے خاص طرح کے ٹیلی وژن پروگرام بھی شروع کیے گئے تھے۔

Wahlen in Afghanistan
خواتین کے لیے برقعہ پہننے سے لے کر پولیس کی زیتون کے سبز رنگ کی طرح کی یونیفارم تک کا سفر آسان ثابت نہیں ہواتصویر: AP

لیکن ان خواتین کے لیے برقعہ پہننے سے لے کر پولیس کی زیتون کے سبز رنگ کی طرح کی یونیفارم تک کا سفر آسان ثابت نہیں ہوا۔ خبر ایجنسی روئٹرز کے ساتھ انٹرویو میں افغان دارالحکومت کابل کے مختلف علاقو‌ں میں ایسی 12 خواتین نے شکایت کی کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، ان سے امتیازی برتاؤ کیا جاتا ہے اور ان میں اپنے پیشہ ورانہ حالات کے بارے میں فرسٹریشن بھی بہت زیادہ ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کا ہدف ہے کہ 2014ء کے آخر تک جب غیر ملکی جنگی دستے افغانستان سے رخصت ہو جائیں گے، افغان نیشنل پولیس (ANP) میں شمولیت اختیار کرنے والی نئی خواتین کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ جانی چاہیے۔ لیکن حکومتی غفلت، بھرتی کے ناقص طریقہء کار اور مردوں کے غلبے والے افغان معاشرے میں سرکاری اہلکاروں کی طرف سے دلچسپی میں کمی کی وجہ سے اس ہدف کا پورا ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

اس وقت افغانستان میں اس ویمن پولیس فورس کی رکن افسران کی تعداد صرف 1850 ہے اور یہ تعداد افغان نیشنل پولیس کی مجموعی نفری کا محض 1.25 فیصد بنتی ہے۔

افغان نیشنل پولیس کا انتظام ملکی وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ اس وزارت میں ایک شعبہ صنفی اور انسانی حقوق کا بھی ہے۔ اس شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرنل سعید عمر صبور نے خبر ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’یہ یقینی بات ہے کہ خواتین پولیس افسران کے ساتھ ان کے مرد ساتھیوں کی طرف سے جبری جنسی زیادتیوں کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں‘۔

(ij /mm (Reuters