نُوعمر، جہادی کی فرانسیسی ماں کی طرف سے پیرس حکومت پر مقدمہ
9 جون 2015
محض ’B ‘ کی شناخت رکھنے والے ایک لڑکے کی عمر 2013 ء میں محض 16 برس تھی۔ تب 27 دسمبر کو وہ جنوبی فرانسیسی شہر نیس سے تعلق رکھنے والے تین دیگر لڑکوں کے ساتھ اپنی فیملی کو انتباہ کیے بغیر شام روانہ ہو گیا تھا جہاں وہ اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں کی صف میں شامل ہونا چاہتا تھا۔ اس لڑکے نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا۔ اس نے فرانس سے ترکی کے راستے ہوتے ہوئے شام پہنچنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ ترکی پہنچ کر وہاں سے زمینی راستہ عبور کرتے ہوئے شام میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اُس کی ماں نے حال ہی میں اپنے بیٹے سے فون پر بات کی ہے۔ اس ماں کا کہنا ہے کہ اس کا بیٹا اب بھی ترکی میں ہی ہے۔
اس خاندان کی ایک وکیل سامعہ مقطوف نے اس بارے میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا،’’ شام میں داخل ہونے کے لیے ترکی کا راستہ بدنام زمانہ ہے۔ پولیس نے ایک بڑی غلطی کی ہے کہ اس نو عمر لڑکے کو تنہا اور بغیر کسی سامان کے ایک طرف کا ترکی کا ٹکٹ لے کر فرانسیسی سرزمین سے جانے دیا‘‘۔
شام جانے کی کوشش میں ترکی پہنچنے والے اس نو عمر لڑکے کی ماں کو پیرس حکومت کی طرف سے ایک لاکھ دس ہزار یورو زر تلافی کے طور پر خود اُس کے اور اُس کے تین بچوں کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ اس خاتون کی وکیل سامعہ مقطوف نے اس بارے میں کہا،’’ ہم زر تلافی میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہم اب یہ چاہتے ہیں کہ شام جانے والے نو عُمر جہادیوں کے فرانس سے انخلاء کے اس سلسلے کو کسی صورت ختم کیا جائے‘‘۔
فرانس کی وزارت داخلہ نے اس لڑکے کی فیملی کو ایک تحریر بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ اس لڑکے کے خلاف کوئی تفتیشی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی اور نہ ہی اُس کے سفر میں مداخلت یا روکاوٹ کا کوئی قانونی جواز بنتا تھا۔
فرانس یورپ کا سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک ہے۔ اسی یورپی ملک سے مشرق وسطیٰ جا کر جہاد میں شامل ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ان دنوں شام کے بحران میں اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں حصہ لینے والے ایسے جہادی جن کے پاس یا تو فرانسیسی شہریت ہے یا جو فرانس میں رہائش پذیر ہیں کی کُل تعداد 500 کے قریب ہے۔ ابھی حال ہی میں پیرس حکومت نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کے تحت شام جاکر جہاد میں حصہ لینے کی مبینہ کوششیں کرنے کے شبے میں ایسے افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کر لیے جائیں گے۔
’B ‘ کی ماں کا کہنا ہے کہ اُسے اپنے بیٹے کے جہادی ارادوں کا ابھی حال ہی میں اُس وقت پتہ چلا جب وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں اپنے دوست واحباب کے ساتھ کھیلتے ہوئے دکھائی نہیں دیا۔
’B ‘ کی ماں نے اُس کے لاپتہ ہونے کے قریب 24 گھنٹے بعد پولیس کو مطلع کیا تھا۔