نیٹو کو سامان فراہم کرنے والے ٹرانسپوٹرز کی ہڑتال
10 جنوری 2013
پاکستان نے حال ہی میں نیٹو کنٹینرز کی چوری کے سدباب کے لیے ایک نیا کسٹم نظام متعارف کروایا ہے، جس کے خلاف پاکستانی ٹرانسپوٹرز سراپا احتجاج ہیں۔ ٹرانسپوٹرز کی اس ہڑتال سے نیٹو افواج کے لیے سامان کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹیشن ایسوسی ایشن نے گزشتہ چھ دنوں سے اُن چار ہزار ٹرکوں کو روک رکھا ہے، جو نیٹو کا سامان لےکر افغانستان جاتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے نافذ کیے جانے والے نئے نظام کے تحت ٹرک مالکان کو باقاعدہ رجسٹرڈ کمپنیوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کرنا پڑے گی۔ ابھی تک ٹرک مالکان ذاتی طور پر سپلائی کے معاہدے کرتے آئے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹ ورکرز یونین کے سربراہ جہانزیب خان کا کہنا تھا کہ رجسڑڈ کمپنیاں ٹرک مالکان کو کم قیمت ادا کرتی ہیں۔ خان کے مطابق طالبان کے حملوں سے تحفظ فراہم بھی نہیں کیا جاتا اور سکیورٹی حکام بھی ڈرائیوروں سے ضرورت سے زیادہ رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ایک سکیورٹی اہلکار طاہر خان کے مطابق بدھ کے روز طور خم بارڈر سے کوئی ایک ٹرک بھی سامان لے کر افغانستان نہیں گیا۔ کلیئرنگ ایجنٹ محمد اصغر نے بتایاکہ سامان جنوب مغرب میں دوسرے کراسنگ راستوں کے ذریعے منتقل کیا جا رہا ہے۔
ٹرانسپوٹرز کے مطابق اس نئے نظام سے ان کے کارروبار کو شدید نقصان پہنچے گا اور وہ اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے، جب تک اس نظام کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ ایک ٹرانسپوٹر عبدالغفار نیازی کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم ہڑتال تب تک جاری رکھیں گے، جب تک ہمارے مطالبات مان نہیں لیے جاتے۔‘‘ اس شخص کا مزید کہنا تھا، ’’کسٹم والے بدعنوان ہیں، ہم ان کی بات نہیں سنیں گے۔ اگر وہ روزانہ کی بنیادوں پر اربوں روپے کا نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘
آل پاکستان کسٹم بونڈڈ کیریئرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید شمس احمد برنی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپوٹرز کے مطالبات غیر عملی ہیں، ’’یہ نظام چوری کی کارروائیوں کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن ٹرانسپوٹر ہر قسم کی آزادی چاہتے ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
افغانستان میں امریکی اور دیگر فورسز کے لیے سب سے پہلے سامان کراچی کی بندرگاہ پر لایا جاتا ہے اور وہاں سے دو راستوں کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں نیٹو فورسز کے ایک ترجمان نے ہڑتال کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
گزشتہ برس پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد متبادل راستوں کے ذریعے افغانستان سامان کی ترسیل پر امریکا کو ماہانہ 100 ملین ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑے تھے۔
ia / ab (Reuters, AP)