1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پابندیوں میں جکڑی بسنت: امیروں کے مزے غریبوں کی پریشانی

5 فروری 2026

لاہور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ بسنت کو روایتی، عوامی اور رنگوں سے بھرپور تہوار کہنا مشکل ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر پابندیوں اور نگرانی کے ماحول میں منائی جا رہی ہے۔

https://p.dw.com/p/587oD
Pakistan Lahore | Plakate mit Mariam Nawaz und Informationen zum Basant-Fest
تصویر: Tanvir Shahzad/DW

قریب پچیس سالوں بعد پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں ایک ایسی بسنت واپس آئی ہے جسے حکومتی  ضابطوں، اجازت ناموں اور پابندیوں نے جکڑا ہوا ہے۔

لاہور کے فیاض نامی ایک نوجوان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بسنت کی واپسی پر جو خوشی ہوئی تھی، وہ پتنگوں کی قلت، ہوش ربا مہنگائی، سرکاری پابندیوں اور پولیس کی سختی نے کرکرا کر دیا ہے: ''حکومت اگر بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا چاہتی ہے تو یہ قابلِ فہم ہے، مگر تحفظ کے نام پر بے جا پابندیاں عائد کرکے پولیس کو کھلی چھٹی دے دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔‘‘

پاکستان: پنجاب میں بسنت کے تہوار پر پتنگ بازی کی اجازت؟

بسنت پر پابندی: جان و مال کا تحفظ یا ثقافتی سانجھ کا قتل؟

پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے موقع پر ایسے گانوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جو نہیں بجائے جا سکتے۔ اس فہرست میں گیت ''نک دا کوکا‘‘ بھی شامل ہے، جس پر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ثقافتی تہوار کے دوران سیاسی مواد پر پابندی کہاں تک مناسب ہے۔ خیال رہے کہ اس گیت کے اشعار کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت سمجھا جاتا ہے۔

پابندیاں اور مسائل

لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ پہننے اور حفاظتی راڈ لگانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ خلاف ورزی پر کئی علاقوں میں نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ بسنت کے دنوں میں حکومت کی طرف سے شہریوں کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کا اعلان تو کیا گیا، مگر شہریوں کے مطابق عملی طور پر یہ سہولت بہت محدود علاقوں میں ہے۔

بسنت کے لیے لاہور میں کی گئی آرائش
بسنت پاکستان کے دیگر تفریحی میلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے اور یہ کئی سو سال پرانا تہوار ہے۔تصویر: Tanvir Shahzad/DW

حکومتِ پنجاب نے بسنت کی مشروط اجازت صرف لاہور میں چھ سے آٹھ فروری تک دی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے بغیر بار کوڈ ڈور اور پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ اسی سلسلے میں پنجاب بھر میں تیس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ صرف مخصوص رجسٹرڈ افراد کو بار کوڈ والی پتنگیں اور ڈور تیار کرنے اور مخصوص مقامات پر فروخت کرنے کی اجازت ہے۔

پتنگوں پر کسی شخصیت، ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے یا تصویر لگانے پر بھی پابندی عائد ہے۔ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور پر مکمل پابندی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت پر سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان توصیف صبیح نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بسنت ایک تفریحی تہوار ہے، مگر ماضی میں بعض شہریوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکات کے باعث انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ ان کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت نے کچھ پابندیاں عائد کی ہیں: ''ہوائی اڈے کے قریبی علاقوں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی رہے گی۔‘‘

بسنت اور طبقاتی تقسیم

سرکاری ضابطہ کاری نے سب سے پہلے بازار کو متاثر کیا۔ پتنگ اور ڈور کی قلت نے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا، اور پتنگیں بلیک مارکیٹ میں بھی بک رہی ہیں۔  وہ پتنگ اور ڈور جو کبھی چند سو روپے میں دستیاب ہوتی تھی، وہ اب  ہزاروں روپے تک جا پہنچی ہے،  یوں بسنت آہستہ آہستہ عوامی تہوار سے نکل کر اشرافیہ کی تفریح بنتی جا رہی ہے۔ واپڈا ٹاؤن کے راشد نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ ہزاروں روپوں کی ڈور اور پتنگیں ہر کوئی نہیں خرید سکتا اور جو خرید سکتا ہے اسے بھی یہ  آسانی سے دستیاب نہیں ہیں۔ اور ان کی کوالٹی بھی ٹھیک نہیں ہے۔

لاہور میں سولر پینلز کی بھرمار کے باعث چھتوں کی دستیابی پہلے ہی کم ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں بسنت کے لیے چھتوں کے کرائے غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں بڑی چھتیں لاکھوں روپے میں بک ہوئیں، جو عام شہری کے لیے ممکن نہیں۔

لاہور میں بسنت کے لیے سجاوٹ
سابق بیوروکریٹ اور لاہور میں جدید بسنت کو فروغ دینے والے کامران لاشاری کے مطابق اس مرتبہ کنٹرولڈ بسنت منائی جا رہی ہے لیکن بسنت کی اجازت دینا ایک مشکل فیصلہ تھا، اور حکومت تفریح اور شہریوں کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو آسان کام نہیں ہے۔ تصویر: Tanvir Shahzad/DW

یوں بسنت واضح طور پر طبقاتی تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو بڑی چھتوں، محفوظ علاقوں اور مہنگے انتظامات کے ساتھ بسنت منا رہے ہیں، اور دوسری طرف اکثریت ہے جس کے لیے بسنت صرف بند چھتوں اور دور سے آتی ڈور  والی کٹی پتنگ تک محدود ہو گئی ہے۔ کچھ شہریوں کے بقول جو تہوار کبھی سماجی فاصلے کم کرتا تھا، وہ اب انہیں نمایاں کر رہا ہے۔

سابق بیوروکریٹ اور لاہور میں جدید بسنت کو فروغ دینے والے کامران لاشاری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بسنت پاکستان کے دیگر تفریحی میلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے اور یہ کئی سو سال پرانا تہوار ہے۔ ان کے مطابق  یہ درست ہے کہ اس مرتبہ کنٹرولڈ بسنت منائی جا رہی ہے لیکن بسنت کی اجازت دینا ایک مشکل فیصلہ تھا، اور حکومت تفریح اور شہریوں کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو آسان کام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی جنریشن زی اسے پہلی بار براہِ راست دیکھ رہی ہے، ''عام طور پر اشرافیہ کسی چیز کو اپناتی ہے تو بعد میں عام لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں لیکن بسنت میں صورتحال مختلف ہے ۔یہ تہوار بنیادی طور پر عام لوگوں کا تھا، جس میں اشرافیہ بعد میں شامل ہوئی۔‘‘

بسنت بنانے پر تحفظات

تجزیہ کار سلمان عابد کے مطابق بسنت ایک ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب چند روز قبل بلوچستان میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ ان کے بقول بسنت کے نام پر میڈیا کو اشتہارات کی مد میں بھاری رقوم دینا ایک خاص بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر مریم نواز بسنت کے ذریعے نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں، مگر جس طرح یہ تہوار مہنگائی کا کھیل بن کر امیروں کی تفریح بنتا جا رہا ہے، وہی چیز حکومت کے لیے سیاسی مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

لاہور میں بسنت کے موقع پر ثقاافتی پرفارمنس
قریب پچیس سالوں بعد پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں ایک ایسی بسنت واپس آئی ہے جسے حکومتی  ضابطوں، اجازت ناموں اور پابندیوں نے جکڑا ہوا ہے۔تصویر: Tanvir Shahzad/DW

اصل سوال یہ نہیں کہ بسنت ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست کو ثقافت پر اسی انداز سے حکمرانی کرنی چاہیے۔ تحفظ ایک جائز مقصد ہے، مگر جب ضابطے سماجی حقیقت سے کٹ جائیں تو وہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ثقافتی تہوار حکم ناموں سے نہیں، اعتماد سے زندہ رہتے ہیں۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے راؤ مدثر اعظم ایڈوکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بسنت کی موجودہ شکل اس بات کی علامت ہے کہ ہم خوشی کو بھی کنٹرول کرنے کے عادی ہو چکے ہیں: ''ہم نے تہوار کو خطرہ سمجھ کر اس پر وہی نسخہ آزمایا ہے جو اختلاف، اجتماع اور اظہار پر آزماتے آئے ہیں۔ پابندی، نگرانی اور طاقت۔ نتیجہ یہ ہے کہ بسنت تو واپس آ گئی، مگر لاہور کی روح اب بھی آزاد نہیں ہو سکی۔ اگر بسنت کو واقعی بحال کرنا ہے تو اسے ضابطوں کی قید سے نکال کر عوام کے حوالے کرنا ہو گا، ورنہ یہ تہوار محض ایک سرکاری اجازت نامہ بن کر رہ جائے گا یعنی ایسا تہوار جس میں رنگ تو ہوں گے، مگر خوشی نہیں۔‘‘

لاہور میں بسنت کی واپسی، کاروبار بھی چمک اٹھے


ادارت: افسر اعوان