1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

تعلیم کا بوجھ: والدین ریاست سے زیادہ خرچ کرنے پر کیوں مجبور؟

1 فروری 2026

پاکستان میں تعلیم ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے جس کا بوجھ عام شہری ایک ناگزیر ’’گھریلو ٹیکس‘‘ کے طور پر اٹھا رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس بارے میں ماہرین کیا کہتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/57gSR
پاکستان میں انتہائی محدود تعلیمی سہولیات والے گاؤں میں رات کو دو لڑکیاں پڑھ رہی ہیں
پاکستان میں تعلیم عام شہریوں کے لیے بہت مہنگی ہروتی جا رہی ہےتصویر: Farooq Azam/DW

پاکستان میں کمزور سرکاری نظام کی خرابی اور بجٹ کی مسلسل کمی لوگوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ نجی اسکولوں کا انتخاب کریں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تعلیم ایک خاص طبقے کے لیے منافع بخش کاروبار  جبکہ عام شہریوں کے لیے زبردستی کا 'گھریلو ٹیکس‘ بن چکی ہے۔ ریاست محض تماشائی ہے، جو ایک دن تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کرتی ہے اور اگلے ہی دن تعلیم کا بجٹ مزید کم کر دیتی ہے۔ آخر عام شہری سرکاری اسکولوں کی بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح دینے پر مجبور کیوں ہیں، اور کس طرح تعلیم عام آدمی کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بنتی جا رہی ہے؟

سرگودھا کے ایک نجی اسکول کے باہر پینتیس سالہ علی احمد خاموشی سے فیس کی پرچی  دیکھ رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بل کے ساتھ ہر ماہ انہیں بچوں کی فیس کا بل بھی بھرنا پڑتا ہے۔

 علی احمد کے لیے بچوں کی تعلیم حکومت کی طرف سے فراہم کیا جانے والا بنیادی حق نہیں، بلکہ ہر مہینے ادا کیا جانے والا وہ خرچ ہے جو ریاست نے خاموشی سے والدین کے کھاتے میں ڈال دیا۔ 

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”میرے تین بچے پرائیوٹ اسکول میں پڑھ رہے ہیں، بڑی بیٹی نویں کلاس میں ہے، اس کے سالانہ امتحان نزدیک ہیں اس لیے ٹیویش بھی لگوا رکھی ہے۔ سپارہ پڑھانے والے قاری صاحب الگ ہیں۔ بچوں کی تعلیم پر ہر ماہ پندرہ سے اٹھارہ ہزار خرچ کرنا پڑتا ہے۔ میں الیکٹریشن ہوں، بمشکل مہینے میں چالیس، پینتالیس ہزار کماتا ہوں۔ ایک طرف بجلی، گیس اور کھانے پینے کا خرچ ہے، دوسری طرف بچوں کے مستقبل کا سوال۔ پورا مہینہ جمع تفریق میں گزر جاتا ہے۔‘‘

 

اسکول کی پانچ طالبات بھاری اسکول بیگ اٹھائے اسکول کے بعد گھر واپس جا رہی ہیں
یہ تصویر طلباء کے روزمرہ کے معمولات کی عکاسی کرتی ہے جس میں جسمانی بوجھ اور محدود وسائل میں تعیلم حاصل کرنے کی لگن نظر آ رہی ہےتصویر: Farooq Azam/DW

عام شہری تعلیم پر ریاست سے زیادہ خرچ کر رہے ہیں

انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابقپاکستان میں پہلی بار تعلیم پر ریاستی بجٹ کے مقابلے  میں والدین زیادہ اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تعلیم پر عوام کی جانب سے 280 ارب خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کا حصہ 220 ارب روپے ہے۔ یوں تعلیمی شعبے میں مجموعی مالی بوجھ کا چھپن فیصد خاندانوں کے کندھوں پر ہے، جبکہ ریاست محض چوالیس فیصد ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔

ایک نسبتاً غریب معاشرے میں کیا تعلیم ایک بنیادی حق سے زیادہ استطاعت کا معاملہ بن چکا ہے؟

 کتاب ’اساتذہ، بیوروکریسی اور سیاستدان‘ کے مصنف اور تعلیمی امور کے معروف مشیر ڈاکٹر جاوید احمد ملک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”پاکستان  میں تعلیم پر سرکاری اخراجات مسلسل کم ہو رہے ہیں۔ رواں برس تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا محض 1.4 فیصد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جو بین الاقوامی معیار تو کیا خطے کی اوسط سے بھی بہت کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں بنگلہ دیش اور بھارت کے  مقابلے میں کم از کم تیس درجے نیچے جا چکا ہے۔"

وہ کہتے ہیں، ”ریاست کا فرض ہے کہ اپنے تمام شہریوں کو ترقی کے برابر مواقع فراہم کرے۔ لیکن ہمارا تعلیمی نظام اس حد تک غیر مساوی ہے کہ اچھی تعلیم اب زیادہ سرمائے سے مشروط ہو گئی ہے۔ یہ لاکھوں غریب خاندانوں کے ساتھ ایک واضح ناانصافی ہے اور ملک میں تعلیمی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔"

پاکستان میں تعلیم فراہم کرنے والے ’بس اسکول‘ میں بیٹھے درجنوں بچے
پاکستان میں عام شہری سرکاری اسکولوں کی بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہیںتصویر: Ali Kaifee/DW

شہری سرکاری اسکولوں کی بجائے پرائیوٹ اسکولوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟

ماہر تعلیم ڈاکٹر فاخرہ نورین کہتی ہیں نصاب، تدریسی اور مجموعی ماحول والدین کو نجی اسکولوں کے انتخاب پر مجبور کرتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''پرائیوٹ اسکولوں میں نصاب جدید، دورِ حاضر سے ہم آہنگ اور اساتذہ بہتر تربیت یافتہ ہیں۔ وہاں بچے نہ صرف علم حاصل کرتے ہیں بلکہ انہیں اعتماد اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے بھی بہتر مواقع ملتے ہیں۔ اس کے برعکس سرکاری اسکولوں میں بچوں کے لیے  پینے کا صاف پانی تک نہیں  ہوتا، واش روم اتنے گندے کہ بچے چھٹی کا انتظار کرتے ہیں، کلاس رومز کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئیں، بیٹھنے کے لیے لکڑی کے انتہائی سخت بنچ، اساتذہ کا رویہ غیر مشفقانہ اور نصاب آؤٹ ڈیٹڈ ہوتا ہے۔ کون سے والدین ایسے ماحول میں بچوں کو بھیجنا چاہیں گے؟"

جرنل آف ایلیمنٹری ایجوکیشن میں نسرین اختر کی شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، نجی اسکولوں میں اساتذہ کا اچھا رویہ، جدید ٹیکنالوجیز اور مسابقتی امتحانات میں کامیابی کی بہتر شرح والدین کے انتخاب کو متاثر کرنے والے بنیادی عناصر ہیں۔

بصارت سے محروم بچوں کے لیے میوزک کلاسز

انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کے ڈائریکٹر پروگرامز احمد علی اس کا بنیادی سبب تاثر اور عدم اعتماد کو قرار دیتے ہیں۔

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”ایک تاثر بن چکا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا معیار اچھا نہیں۔ اس تاثر کی بنیاد وجوہات سے انکار مشکل ہے لیکن حکومت پبلک اداروں میں ڈھانچے، اساتذہ کی ٹرینگ اور جدید ایجوکیشن سسٹم کی ڈویلپمنٹ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عام آدمی کا اعتماد بحال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے حکومت کوشش کر رہی ہے۔‘‘

تعلیم بنیادی حق: کیا پاکستانی معاشرے میں زمینی حقائق یہی ہیں؟

لورالائی کی زینب بی بی کا بیٹا اسکول جانے کی بجائے اسلام آباد میں کوئٹہ ہوٹل پر کام کرتا ہے۔ محمد حیات کی عمر اس وقت گیارہ برس ہے۔

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتا ہے، ”دل تو چاہتا ہے کہ اسکول میں داخلہ لوں لیکن پڑھائی سے پیٹ تھوڑی بھرتا ہے۔ میری ماں کہتی ہے کام نہیں کرو گے تو ہم کھائیں گے کہاں سے۔ ہر ماہ سولہ ہزار گھر بھیجتا ہوں۔‘‘

اس تصویر میں ایک رکشہ پر متعدد بچیاں سوار ہیں، ڈرائیور کے ساتھ بھی ایک بچی بیٹھی ہے اور یہ بچیاں اسکول جا رہی ہیں
ایک رکشہ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ محفوظ اور مناسب نقل و حمل کا فقدان ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہےتصویر: Ali Kaifee

حیات کی طرح ہزاروں خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم ایک خواب ہے، جبکہ روزگار ایک مجبوری۔ دانشور احمد اعجاز سمجھتے ہیں کہ زینب بی بی کا نقطہ نظر ایک اہم سماجی اور پالیسی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔

ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں اس وقت تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے ۔ تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ این جی او سیکٹر کے ساتھ مل کر حکومت ان بچوں کو اسکولوں میں لانے کی کوشش کر رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ مزدوری کرتا ہوا بچہ، جو انتہائی غریب فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کہاں سے آئے گی؟"

وہ اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہیں، ”تعلیم اور دو وقت کی روٹی میں سے بنیادی ترین انسانی ضرورت کونسی ہے؟ جہاں ایک بڑی آبادی کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو، وہاں والدین سے مطالبہ کرنا کہ ورک شاپ سے بچے اٹھا کر اسکول بھیجیں، غیر حقیقی ہے۔"

اس حوالے سے احمد علی کہتے ہیں، ”اسکول سے باہر ایک چوتھائی بچے چودہ سے سولہ سال کی عمر کے ہیں۔ انہیں کوئی اسکول نہیں لے گا۔ تعلیمی ایمرجنسی کا مطلب بچوں کو عمر اور حالات کے مطابق تعلیم یا ہنر فراہم کرنا ہے۔ جو بچے ورکشاپ میں کام کرتے ہیں، ان کے پاس بہترین سکلز ہوتے ہیں، اگر انہیں کچھ بنیادی باتیں سکھا دی جائیں تو ان کے لیے روٹی روزی زیادہ آسان ہو جائے گی۔‘‘

سندھ کے پسماندہ گاؤں میں موچی کے بیٹے کا ماڈل اسکول

ریاست کہاں ناکام ہو رہی ہے؟ اور حل کیا ہے؟

احمد اعجاز کہتے ہیں ناکامیوں کی ماں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے، کافی مسائل اس وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔

وہ ڈی ڈبلیو اردو کو بتاتے ہیں، ”اتنی بڑی آبادی کو سنبھالنا، بنیادی ضروریات پوری کرنا اور ترقی کے موقع فراہم کرنا عملی طور پر کافی مشکل کام ہے۔ جب تک آبادی کنٹرول نہ کی گی، روزگار، صحت اور تعلیم جیسے شعبے مسائل کا شکار رہیں گے، یہ ٹھیک نہیں کیے جا سکتے۔"

احمد علی کہتے ہیں، ”اتنی بڑی آبادی کو حکومت سرکاری اسکولوں میں نہیں کھپا سکتی، ٹھیک ہے۔ لیکن پرائیوٹ سیکٹر کو ریگولیٹ کرنا بھی تو حکومت کا کام ہے۔ نجی اسکول سارا سال مختلف طریقوں سے عام آدمی کی جیب سے پیسے نکلواتے رہتے ہیں، ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔"

اس حوالے سے جاوید ملک کہتے ہیں، ”اگر سرکاری تعلیمی نظام میں فوری اور سنجیدہ اصلاحات نہ کی گئیں تو نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی شرح ساٹھ فیصد سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔اسکول کی سطح پر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ، اساتذہ کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا اور خاص طور پر ہیڈ ماسٹرز پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں انتظامی خودمختاری دینا ناگزیر ہے، تاکہ وہ واضح اہداف کے تحت ایک سال کے اندر اپنے اداروں میں قابلِ ذکر بہتری لا سکیں۔‘‘

ادارت: کشور مصطفیٰ