1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
اقتصادیاتپاکستان

پاکستانی خواتین کے لیے زیادہ روزگار شہروں میں یا دیہات میں؟

18 جنوری 2026

پاکستانی خواتین کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع سے متعلق کوئی سوال ہو تو جواب کی تلاش میں ذہن عموماﹰ شہری علاقوں کی طرف ہی جاتا ہے۔ مگر اعداد و شمار دراصل اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/56uZ7
پاکستانی شہر لاہور کے دیہی مضافات میں صبح کے وقت ایک کھیت میں کام کرتی خواتین
پاکستانی شہر لاہور کے دیہی مضافات میں صبح کے وقت ایک کھیت میں کام کرتی خواتینتصویر: ARIF ALI/AFP

لیبر فورس سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں برسرروزگار دیہی خواتین کا تناسب تقریباً 29 فیصد ہے جبکہ شہری خواتین میں یہی تناسب محض 12 فیصد ہے۔ اسی تناسب کا موازنہ اگر مردوں میں کیا جائے، تو دیہی اور شہری علاقوں کے مردوں کے برسرروزگار ہونے کی شرح میں خلیج محض پانچ فیصد بنتی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اربنائزیشن سے خواتین کی لیبر فورس میں عموماً اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

پاکستانی خواتین کی ملکی لیبر فورس میں صورت حال

پاکستانی دفتر شماریات کے تازہ ترین سروے کے مطابق خواتین کی قومی لیبر فورس میں مجموعی شرکت 22.7 فیصد ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 68.7 فیصد بنتی ہے۔ پاکستانی خواتین کی لیبر فورس میں بلند ترین شرح 2011 میں دیکھی گئی تھی، جو 24.4 فیصد رہی تھی۔

ریٹنگ کی دوڑ میں خواتین ’ڈیجیٹل تشدد‘ کا نشانہ کیسے بنتی ہیں؟

2008ء سے 2025ء کے درمیان خواتین کی افرادی قوت 20 فیصد سے 24 فیصد کے درمیان رہی، جسے ماہرین 'جمود‘ قرار دیتے ہیں۔ اس سروے کے علاوہ عالمی بینک کا پچھلی ایک دہائی کا ڈیٹا بھی اسی جمود کی تصدیق کرتا ہے، جس کے مطابق یہ تناسب مسلسل 20 اور 24 کے درمیان ہی کم یا زیادہ ہوتا رہا۔

کراچی میں ایک لڑکی کو ایک حفاظتی ویکسین کا انجیکشن لگاتی ایک لیڈی ہیلتھ ورکر
کراچی میں ایک لڑکی کو ایک حفاظتی ویکسین کا انجیکشن لگاتی ایک لیڈی ہیلتھ ورکرتصویر: Rizwan Tabassum/AFP

پاکستان میں سرکاری ملازمتوں پر خواتین کی تعداد کم کیوں؟

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حنا احسن نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ”1990 کی دہائی میں خواتین کا 13 فیصد سے شروع ہونے والا سفر بلندی کے بعد تنزلی کا شکار ہے۔ دستیاب ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی اقتصادی شرکت بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے۔ گزشتہ 15 برس سے جمود طاری ہے۔"

وہ کہتی ہیں، ”لیبر فورس کا مطلب ہے کتنے افراد برسرروزگار ہیں یا پچھلے دو تین ہفتوں کے دوران کام کاج کی تلاش میں متحرک رہے ہیں۔ یہ معاشی سرگرمی کے علاوہ سماجی شرکت کو سمجھنے کا پیمانہ بھی ہے۔"

غذائی عدم توازن: پکاتی عورت ہے، مگر کھاتا کون ہے؟

شہری اور دیہی علاقوں کے اعتبار سے خواتین کی لیبر فورس میں اس تبدیلی کے حوالے کے حوالے سے وہ کہتی ہیں، ”لیبر فورس کا سب سے بڑا شعبہ زراعت ہے، جہاں خواتین کی شرکت 61 فیصد ہے، جو 24 فیصد مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد لیبر فورس کا حصہ بنتی ہے۔ اس کے برعکس شہری علاقوں میں روزگار کے دو بڑے شعبے سروسز اور انڈسٹری ہیں، جہاں خواتین کی شرکت نصف سے بھی کم ہے۔ اسی لیے شہری علاقوں میں برسرروزگار خواتین کی مجموعی شرح مردوں کے مقابلے میں خاصی کم رہتی ہے۔"

مستقبل کی ورک فورس: پاکستانی صوبہ پنجاب میں لی گئی نوجوان طالبات کے ایک گروپ کی تصویر
مستقبل کی ورک فورس: پاکستانی صوبہ پنجاب میں لی گئی نوجوان طالبات کے ایک گروپ کی تصویرتصویر: Women's Digital League Pakistan

لیبر فورس میں خواتین کی شرکت میں اضافے کے بجائے کمی کیوں؟

تعلیم اور شرح خواندگی بڑھنے کے باوجود خواتین کی ملکی لیبر فورس میں شرکت بڑھنے کے بجائے کم کیوں ہو رہی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ادارہ برائے ترقیاتی اقتصادیات کی ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر عظمیٰ ضیا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”رواں صدی کی پہلی دہائی میں معاشی طور پر فعال مردوں کی ایک بڑی تعداد زراعت سے وابستہ تھی۔ اس دوران صنعتی ترقی تیز ہوئی اور مردوں کی ایک بڑی تعداد کام کاج کے لیے شہروں کا رخ کرنے لگی۔ یوں مردوں کے دیگر شعبوں میں منتقل ہونے سے خواتین کے لیے زراعت میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور وہاں ان کی معاشی شرکت بڑھنے لگی۔"

پاکستان میں ہر چھ میں سے ایک لڑکی کی کم عمری میں شادی، یونیسیف

روزگار کی منڈی اور معیشت سے متعلق اپنے ایک تحقیقی مضمون میں محقق فاروق ترمذی نے لکھا ہے، ”معیشت کی تیز رفتار ترقی نے بہتر تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کیں۔ مرد ان شعبوں میں گئے اور خواتین نے وہ کام سنبھال لیے، جو مرد چھوڑ گئے تھے۔"

فاروق ترمذی نے لکھا ہے کہ نئی ملازمتیں انڈسٹری اور سروسز میں تھیں اور ان شعبوں میں خواتین کی نسبت مردوں کے لیے زیادہ سازگار مواقع تھے، ”گزشتہ دہائی میں ایک کروڑ 34 لاکھ ملازمتیں پیدا ہوئیں، جو سب انڈسٹری اور سروسز کے شعبوں میں تھیں۔ ان میں سے محض 25 لاکھ ملازمتیں خواتین کو مل سکیں۔"

پاکستان میں زچگی کے دوران اموات ایک سنگین مسئلہ

پاکستان کے ایک نیم دیہی علاقے میں سروں پر جانوروں کے چارے کی گھٹڑیاں اٹھائے، ایک گلی سے آلودہ پانی کے ایک جوہڑ سے بچ کر گزرتی چند خواتین کی ایک تصویر
پاکستان کے ایک نیم دیہی علاقے میں سروں پر جانوروں کے چارے کی گھٹڑیاں اٹھائے، ایک گلی سے آلودہ پانی کے ایک جوہڑ سے بچ کر گزرتی چند خواتین کی ایک تصویرتصویر: Farooq Azam/DW

فاروق ترمذی کے مطابق، ”21 صدی کے آغاز پر خواتین کی ملکی لیبر فورس میں شمولیت اس لیے بڑھی کہ زراعت میں خواندگی کی کوئی شرط نہیں ہوتی۔ مگر اب نئی ملازمتیں صنعتوں اور خدمات کے شعبوں میں پیدا ہو رہی ہیں، جہاں کسی کارکن کی خواندگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔"

عظمیٰ ضیا اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”گزشتہ ڈیڑھ عشرے کے دوران خواتین کی تعلیم اور ہنر میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی۔ اس دوران اسکول جانے والی لڑکیاں آئندہ دو چار برس میں معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنیں گی تو یہ جمود ٹوٹ جائے گا۔"

پاکستان میں ’باون فیصد‘ خواتین پی سی او ایس کا شکار، بانجھ پن میں اضافہ

ڈاکٹر حنا احسن کہتی ہیں، ”نقل و حرکت میں درپیش مشکلات اور دفاتر کے ماحول میں عدم تحفظ کے احساس کے باعث خواتین کے لیے فری لانسنگ ایک بڑی متبادل مارکیٹ کے طور پر ابھری ہے، جس میں نوجوان لڑکیاں خاصی دلچسپی لے رہی ہیں۔ اگرچہ حالیہ سروے میں فری لانسنگ کو شامل کیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ نتائج فری لانسنگ کے پورے دائرے اور اس کی حقیقی وسعت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔"

پاکستان: خواتین کی اجرتیں مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم، آئی ایل او

ایک گاؤں میں مویشیوں کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتی ایک پاکستانی خاتون
ایک گاؤں میں مویشیوں کی دیکھ بھال کے فرائض انجام دیتی ایک پاکستانی خاتونتصویر: Faruq Azam/DW

شہری علاقوں میں خواتین لیبر فورس کے مسائل

پاکستان بزنس کونسل کے مرکز سی ای آر بی (Centre of Excellence in Responsible Business) کی سربراہ نازش شیخہ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کو متاثر کرنے والے اہم عوامل تین ہیں۔

ان کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”پہلا، عوامی مقامات اور دفاتر میں تحفظ کے مسائل خواتین کو ملازمت اختیار کرنے یا جاری رکھنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ دوسرا، محفوظ اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی جو خواتین کی نقل و حرکت کو بہت مشکل بنا دیتی ہے۔ تیسرا، بچوں کی دیکھ بھال کے مناسب اور کم خرچ انتظامات کا فقدان، جو بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔"

پاکستان میں سائیکل کا پہیہ دوبارہ چل پڑا

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا، ”کچھ روز پہلے میں ملائیشیا میں تھی، وہاں رات دیر گئے خواتین دفاتر سے آ جا رہی تھیں۔ محفوظ اور سستی پبلک ٹرانسپورٹ میسر تھی۔ ایسے ماحول کی وجہ سے ملائیشیا میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کا تناسب 55 فیصد سے بھی زیادہ بنتا ہے۔"

لوکل ٹرانسپورٹ کے معاملے میں روایت شکن خود انحصاری: اسلام آباد میں ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتی دو خواتین
لوکل ٹرانسپورٹ کے معاملے میں روایت شکن خود انحصاری: اسلام آباد میں ایک موٹر سائیکل پر سفر کرتی دو خواتینتصویر: Zunaira Rafi/DW

لیبر فورس میں خواتین کی شرکت میں اضافہ کیسے؟

ماہرین کے مطابق لیبر فورس میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے محض کوئی ایک پالیسی نہیں بلکہ باہم مربوط کئی متنوع سماجی، اقتصادی اور ادارہ جاتی اقدامات ضروری ہیں۔

پاکستانی خواتین کی کاروباری دنیا میں کامیاب سفر منفرد کہانیاں

نازش شیخہ کے بقول، ”زچگی کی رخصت کے دوران اور اس کے بعد خواتین کو درپیش مشکلات اور دفاتر کے انتظامی مسائل اب بھی برقرار ہیں۔ ضروری ہے کہ دفاتر میں ایسا ماحول ہو، جہاں خواتین کو تعصب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خواتین کو بہتر ٹرانسپورٹ دی جائے تاکہ انہیں آمد و رفت میں دشواری نہ ہو۔ بچوں کے لیے ڈے کئیر سینٹر بھی کافی ہوں اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔"

ڈاکٹر حنا احسن کہتی ہیں، ”خواتین کو عموماً کم اجرت دی جاتی ہے، اور جب تک انہیں ان کی محنت کا معاوضہ مردوں کے مساوی نہیں ملے گا، خواتین کی اقتصادی شرکت محدود ہی رہے گی۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

پاکستانی خواتین فائر فائٹرز، حوصلے اور عزم کی نشانی