ڈرون حملوں کے خلاف ’عمران خان مارچ‘ کا آغاز، طالبان کی مذمت
6 اکتوبر 2012
پاکستان کی اُبھرتی ہوئی سیاسی جماعت تحریک انصاف کی قیادت میں نکلنے والی اس ریلی میں درجنوں غیر ملکی کارکن بھی شریک ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین اسلام آباد سے 325 کلومیٹر دور قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ممکنہ حملے کے پیش نظر اس ریلی کی مخالفت کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس ریلی کا جنوبی وزیرستان میں داخلہ روکنے کے لیے سڑکوں کو کنٹینرز کے ذریعے بلاک کیا جا رہا ہے۔ گاڑیوں پر مشتمل اس طویل مارچ کی قیادت سابق کرکٹر اسٹار عمران خان کر رہے ہیں۔ اس کار ریلی کے آغاز پر عمران خان کا کہنا تھا، ’’ہمارا بھرپور طریقے سے استقبال کیا جائے گا۔ لیکن حکومت اس مارچ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اُسے خدشہ ہے کہ ہمیں لوگوں کی حمایت مل سکتی ہے۔‘‘ عمران خان کا کہنا تھا ، ’’حکومت نے ہمیں جنوبی وزیرستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ہم وہاں لڑائی کے لیے نہیں بلکہ امن مارچ کے لیے جا رہے ہیں۔‘‘
غیر ملکیوں کی شرکت
اس ریلی میں شرکت کے لیے جنگ مخالف امریکی ایکٹیوسٹ گروپ CODEPINK سے تعلق رکھنے والے قریب تین درجن کارکن اسلام آباد پہنچے ہیں۔ ان کارکنوں کے مطابق ان کی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے ڈرون حملے قابل مذمت ہیں اور وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے پاکستان پُہنچے ہیں۔ ان امریکی کارکنوں کے مطابق ڈرون حملوں میں ہلاکتیں ماورائے عدالت قتل کے مترادف ہیں اور دنیا کا کوئی بھی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس ریلی میں 200 سے زائد مقامی اور غیر ملکی صحافی بھی شریک ہیں۔
طالبان کی مذمت
جنونی وزیرستان میں داخلے کی کوشش اتوار کی صبح کو کی جائے گی۔ اسلام آباد سے روانہ ہونے والا یہ قافلہ عارضی طور پر آج رات ڈیرہ اسماعیل خان میں قیام کرے گا۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان نے طالبان کی طرف سے حملوں کی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی قبائل نے اُن کو امن مارچ کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ لیکن طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں اس ریلی کی مذمت کی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’عمران خان کا نام نہاد امن مارچ ڈرون سے متاثرہ مسلمانوں کی ہمدردی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس کی طرف سے سیاسی قد میں اضافہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
ڈرون حملوں سے شہری خوفزدہ
ڈرون حملوں کے ناقدین کے مطابق حملوں میں زیادہ تر عام شہری بھی مارے جاتے ہیں۔ گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں امریکا کی اسٹینفورڈ اور نیویارک یونیورسٹیز سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی قبائلی علاقے کے عوام سی آئی اے ڈرون حملوں کے باعث 24 گھنٹے دہشت میں گرفتار رہتے ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرون حملے کے بعد ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مدد کے لیے پہنچنے والوں کو بھی دوبارہ حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم کے مطابق گزشتہ آٹھ برسوں میں امریکا کی طرف سے 300 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں صرف شمالی وزیرستان میں 2500 سے زائد افراد مارے گئے۔ اندازوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک چوتھائی کے قریب عام شہری اور بچے تھے۔
ia /ij (AFP,dpa,AP)