You need to enable JavaScript to run this app.
مواد پر جائیں
مینیو پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تازہ ترین ویڈیوز
تازہ ترین آڈیوز
خطے
پاکستان
ایشیا
یورپ
مشرق وسطیٰ
موضوعات
انسانی حقوق
تحفظ ماحول
صحت
کیٹیگریز
سیاست
معاشرہ
سائنس اور ٹیکنالوجی
فن و ثقافت
کھیل
تازہ ترین آڈیوز
تازہ ترین ویڈیوز
لائیو ٹی وی
اشتہار
ڈی ڈبلیو ویڈیوز
رپورٹیں سیکشن پر جائیں
رپورٹیں
پاکستانی ٹرانس وومن کی جدوجہد کی کہانی
پاکستانی ٹرانس وومن کی جدوجہد کی کہانی
لاہور میں ایک ٹرانس وومن شاعرہ اپنی شاعری کے ذریعے صرف جذبات ہی نہیں بلکہ اپنی بقا کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ ہیر علوی شاعری کے ساتھ ساتھ ٹرانس کمیونٹی کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کر رہی ہیں۔ عفیفہ نصر اللہ کی رپورٹ۔
پاکستان میں کم عمری کی شادیاں اب بھی جاری
پاکستان میں کم عمری کی شادیاں اب بھی جاری
سندھ اسمبلی میں 2013ء میں ایک بل پاس کیا گیا تھا جس کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی شادی کرانے پر پابندی ہے۔ اس قانون کے بعد صوبہ سندھ کے شہروں میں تو ایسے واقعات میں کمی ہوئی ہے لیکن گاؤں دیہات میں ایسا اب بھی ہو رہا ہے۔ کرن مرزا کی رپورٹ
ابا ہوم: پاکستانی مسیحی بچیوں کا مسیحا
ابا ہوم: پاکستانی مسیحی بچیوں کا مسیحا
پاکستان میں اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ’ابا ہوم‘ یتیم خانہ جیسی مثالیں بھی ملتی ہیں۔
شادی کے جوڑے پر لاکھوں لگانے کے بجائے سستا حل
شادی کے جوڑے پر لاکھوں لگانے کے بجائے سستا حل
بڑھتی مہنگائی میں بیش قیمت عروسی ملبوسات شادی کا ایک بڑا خرچہ ہوتے ہیں۔ مگر کراچی میں اس کا ایک بہت ہی قابل عمل حل سامنے آیا ہے، جو مقابلتاﹰ بہت کم خرچ بھی ہے اور ماحول کے لیے بھی مفید۔ رافعہ اعوان کی ویڈیو رپورٹ
روایات کو چیلنج کرتے بلوچستان کے مجسمہ ساز
روایات کو چیلنج کرتے بلوچستان کے مجسمہ ساز
مستونگ سے تعلق رکھنے والے مجسمہ ساز اسحاق لہڑی سخت مخالفت کے باوجود شاہکار مجسمے بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں لیکن یہ اپنے فن کو اور مجسمہ سازی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ تفصیلات کوئٹہ سے رانی واحدی کی اس رپورٹ میں
پاکستان: لڑکوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی
پاکستان: لڑکوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی
کوئٹہ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والی شہناز بی بی اپنے گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول نہ ہونے کی وجہ سے اپنا روپ بدلنے پر مجبور ہوگئی۔ وہ محمد سلیم کے نام سے لڑکوں کے اسکول میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم حاصل کرتی رہی۔ شہناز اپنے علاقے میں دیگر لڑکیوں کے لیے ایک اسکول کھلوانے میں کامیاب ہوگئی۔ دیکھیے کوئٹہ سے رانی واحدی کی رپورٹ
مزید دیکھیے
اس موضوع کے بارے میں تمام مواد (237)
اشتہار