1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتافغانستان

کابل پر پاکستانی فضائی حملے میں چھ شہری ہلاک ہوئے، طالبان

رابعہ بگٹی نیوز ایجنسیاں
13 مارچ 2026

افغان طالبان نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسلام آباد کی جانب سے کابل پر کیے گئے شدید حملوں میں چھ افغان شہری ہلاک ہو گئے۔

https://p.dw.com/p/5AKpB
پاکستانی سکیورٹی اہلکار ایک تباہ شدہ عمارت کے سامنے موجود ہے۔
پاکستانی سکیورٹی اہلکار ایک تباہ شدہ عمارت کے سامنے موجود ہے۔ تصویر: Aamir Qureshi/AFP/Getty Images

دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کابل اور افغان سرحدی صوبوں میں دہشت گردوں کے چار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کامیاب فضائی حملے ہیں۔ زرائع کے مطابق قندھار ہوائی اڈے پر تیل ذخیرہ کرنے کی ایک سہولت کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ماہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے اندرون ملک بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد اس گروہ کے خلاف پاک افغان سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا اور افغانستان کے اندر بھی ٹی ٹی پی ک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان  پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو ٹھکانے فراہم کر رہا ہے اور ان کی پشت پناہی بھی کرتا رہا ہے۔

تاہم افغان طالبان کی جانب سے عسکریت پسندی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال یا سرحد پر کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے کی  ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے ۔

کابل پولیس کے ترجمان خلیل زدران نے بتایا کہ دارالحکومت میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں  افرچھ اد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے  اے ایف پی کی ٹیم نے ایک مکمل طور پر تباہ شدہ عمارت کے ساتھ چند جزوی طور پر منہدم عمارتیں بھی دیکھیں۔

افغان سکیورٹی اہلکار اینٹی ائیر کرافٹ گن تھامے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقے میں موجود ہے۔
افغان سکیورٹی اہلکار اینٹی ائیر کرافٹ گن تھامے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقے میں موجود ہے۔ تصویر: AFP

علاقے میں کافی حد تک پولیس موجود تھی اور بظاہر صدمے سے دوچار مقامی باشندے سڑکوں پر موجود تھے، جن میں سے کچھ کے زخموں پر مرہم پٹی کی گئی تھی۔  ایک مقامی نمائندے عبدالرحیم تراکل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتیں شامل ہیں۔ 

تراکل نے کہا، ''یہاں کوئی فوجی پوسٹ نہیں ہے۔ یہاں صرف عام لوگ رہتے ہیں، غریب لوگ۔ انہیں سیاست سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔‘‘

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ''پاکستان نےتازہ ترین حملوں میں  قندھار کے ساتھ ساتھ مشرقی پکتیا اور پکتیکا  کے صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان کا اصرار ہے کہ اس نے تنازعے میں کسی شہری کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ حملوں کا ہدف دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں۔