کابل پر پاکستانی فضائی حملے میں چھ شہری ہلاک ہوئے، طالبان
13 مارچ 2026
دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کابل اور افغان سرحدی صوبوں میں دہشت گردوں کے چار ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور کامیاب فضائی حملے ہیں۔ زرائع کے مطابق قندھار ہوائی اڈے پر تیل ذخیرہ کرنے کی ایک سہولت کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نے گزشتہ ماہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے اندرون ملک بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد اس گروہ کے خلاف پاک افغان سرحدی علاقوں میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا اور افغانستان کے اندر بھی ٹی ٹی پی ک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو ٹھکانے فراہم کر رہا ہے اور ان کی پشت پناہی بھی کرتا رہا ہے۔
تاہم افغان طالبان کی جانب سے عسکریت پسندی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال یا سرحد پر کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے کی ہمیشہ تردید کی جاتی رہی ہے ۔
کابل پولیس کے ترجمان خلیل زدران نے بتایا کہ دارالحکومت میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں افرچھ اد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ٹیم نے ایک مکمل طور پر تباہ شدہ عمارت کے ساتھ چند جزوی طور پر منہدم عمارتیں بھی دیکھیں۔
علاقے میں کافی حد تک پولیس موجود تھی اور بظاہر صدمے سے دوچار مقامی باشندے سڑکوں پر موجود تھے، جن میں سے کچھ کے زخموں پر مرہم پٹی کی گئی تھی۔ ایک مقامی نمائندے عبدالرحیم تراکل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتیں شامل ہیں۔
تراکل نے کہا، ''یہاں کوئی فوجی پوسٹ نہیں ہے۔ یہاں صرف عام لوگ رہتے ہیں، غریب لوگ۔ انہیں سیاست سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔‘‘
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ''پاکستان نےتازہ ترین حملوں میں قندھار کے ساتھ ساتھ مشرقی پکتیا اور پکتیکا کے صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘‘
دوسری جانب پاکستان کا اصرار ہے کہ اس نے تنازعے میں کسی شہری کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ حملوں کا ہدف دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں۔