کوئٹہ: ہزارہ برادری میں قبروں پر تصاویر لگانے کا رجحان
7 فروری 2026
اپنے پیاروں کو یاد رکھنے کے لیے ہزارہ کمیونٹی میں انوکھے اور منفرد رسم و رواج عام ہیں۔
علمدار روڈ پر واقع کوئٹہ کا بہشتِ زینب قبرستان موت کی خاموشی سے زیادہ زندگی کی چہل پہل کا منظر پیش کرتا ہے۔ کچی پکی قبروں کے درمیان بلند و بالا سرخ، سبز اور سیاہ پرچم، فٹبال کھیلتے بچے، واک کرتے بوڑھے، ریڑھی والے، ان سے خریداری کرتی عورتیں، اِس احاطے کو قبرستان سے زیادہ ایک آباد عوامی جگہ کا روپ دیتے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ہزارہ سے تعلق رکھنے والے محقق مرزا آزاد کہتے ہیں، ”ہزارہ برادری کے لیے قبرستان ایک خاموش اختتام نہیں بلکہ یاد، محبت اور تعلق کا رواں دواں سلسلہ ہے۔ اسی لیے یہاں موت کے سکوت کی بجائے زندگی کی ہنگامہ خیزی نظر آتی ہے۔‘‘
قبرستان میں زندگی یا موت کا ایک منفرد روپ تصویری کتبے یا عام کتبوں کے ساتھ الگ سے فریم کی ہوئی تصاویر ہیں۔
ہزارہ میں قبروں پر تصاویر لگانے کا رجحان کب اور کیسے شروع ہوا؟
مرزا آزاد کے مطابق، ”کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے دو بڑے قبرستان ہیں، ایک علمدار روڈ پر اور دوسرا ہزارہ ٹاؤن میں۔ اگر پندرہ بیس سال پیچھے جائیں تو اُس وقت زیادہ تر قبریں کچی ہوتی تھیں۔ تب قبروں کو پکا کروانے کا رواج عام تھا اور نہ ہی قبروں پر تصاویر لگانے کا تصور موجود تھا۔‘‘
ہزارہ سے تعلق رکھنے والے طالب حسین طالب شاعر اور مدرس ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، ”رواں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہزارہ برادری پر شیعہ شناخت کی بنیاد پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بم دھماکے، ہینڈ گرنیڈ اور فائرنگ کے ایک کے بعد ایک واقعات ہونے لگے۔ ہر سانحے کے بعد لوگ سڑکوں پر نکلتے اور احتجاج کرتے۔ احتجاج کے دوران لوگ اپنے پیاروں کی تصاویر سڑک کنارے رکھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ تصاویر سڑک سے قبرستان تک آ پہنچیں اور یوں سوگ، یادداشت میں ڈھل کر ایک مستقل روایت بن گئیں۔‘‘
کوئٹہ کے غلام نبی تقریباً گذشتہ تیس برس سے قبروں کے کتبے تیار کر رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ”پہلے کتبوں پر محض نام اور شناختی کوائف لکھتے تھے، اب تصاویر بھی کندہ کرتے ہیں۔ عام طور پر قبروں کے کتبے سفید، سیاہ اور گرین ماربل سے تیار کیے جاتے ہیں۔ تصویر کندہ کرتے ہوئے دو دن لگتے ہیں، پھر لوگوں کی فرمائش کے مطابق آیت یا شعر اور ذاتی کوائف درج کر کے تقریباً بیس دن میں تصویری کتبہ تیار کر دیا جاتا ہے۔‘‘
وہ کہتے ہیں، ”پتھر پر تصویر کندہ کروانا ایک مہنگا کام ہے، تصویر کے سائز اور پتھر کے انتخاب پر قیمت کا انحصار ہوتا ہے جو پچاس ہزار سے چار لاکھ تک کی ہو سکتی ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ کتبے کے ساتھ الگ سے کیمرے سے بنی ہوئی تصویر فریم کروا کے لگوا دیتے ہیں، ایسی تصاویر کے نقش مدھم پڑھنے لگیں تو خاندان والے انہیں تبدیل کر دیتے ہیں۔‘‘
کیا یہ رجحان عالمی روایات سے متاثر ہو کر شروع ہوا؟
ڈی ڈبلیو سے بات کرتےہوئے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے محقق ارشاد حسین کہتے ہیں، ”دنیا کے کئی حصوں میں قبروں پر تصاویر لگانا ایک عام سماجی روایت ہے، خاص طور پر یورپ، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ میں۔ اٹلی، یونان، پولینڈ، روس اور میکسیکو جیسے ممالک میں مسیحی برادریوں کے ہاں قبروں پر مرحوم کی تصاویر یاد اور عقیدت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس مسلم اکثریتی معاشروں میں قبروں کو سادہ رکھنے کا رجحان غالب رہا ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ”چند دہائیاں پہلے لبنان، شام اور ایران میں مخصوص مذہبی، سیاسی یا جنگی ہیروز کی قبروں پر تصاویر لگنا شروع ہوئیں، جو اس روایت کے محدود مگر معنی خیز استعمال کو ظاہر کرتی ہیں۔ ممکن ہے ہزارہ برادری کا یہ رجحان کسی دوسرے خطے سے متاثر ہوا ہو، مگر پاکستان میں ابھی تک اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے۔‘‘
طالب حسین کہتے ہیں، ”ممکن ہے ایسا ہو، مگر ہمارے لیے یہ ایک مزاحمت، شناخت اور یادداشت کا سلسلہ ہے۔ یہ تصاویر اور لہراتے پرچم اس بات کی علامت ہیں کہ تم ہمیں مار سکتے ہو، لیکن ہماری شناخت اور یادیں کبھی نہیں مٹا سکتے۔‘‘
ہزارہ باشندے اپنے مرحومین کو کیسے یاد کرتے ہیں؟
مرزا آزاد کہتے ہیں، ”دیگر برادریوں کی نسبت ہزارہ کا اپنے رفتگان (مرحومین) سے تعلق زیادہ جذباتی اور گہرا ہے۔ اس کی وجہ عالم ارواح پر جینیاتی یقین ہے۔ مسلمان ہونے سے پہلے ہزارہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ روح زندہ رہتی ہے اور پس ماندگان کے اچھے برے کاموں سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ ہمیشہ سے ہزارہ کی جین کا حصہ رہا۔‘‘
وہ رفتگان سے جذباتی وابستگی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں، ”جس طرح قسم کھاتے ہوئے لوگ 'ماں کی قسم‘ کہتے ہیں، اسی طرح ہمارے کلچر میں 'قسم دہ گورِ مُردا‘ یعنی 'میرے مرحومین کی قبر کی قسم‘ کھاتے ہیں۔ہزارہ کلچر میں یہ یقین دہانی کا آخری درجہ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے اگر کوئی حلف کی پاسداری نہیں کرے گا تو اس کے مرحومین کی ارواح اس سے ناراض ہو جائیں گی، جو ہزارہ کسی صورت نہیں چاہتے۔‘‘
وہ کہتے ہیں، ”ہمارے ہاں چاہے کوئیواک کے لیے قبرستان جا رہا ہو، لیکن داخل ہوتے ہی وہ اجتماعی فاتحہ پڑھے گا۔ واپسی پر بھی یہی عمل دہرائے گا۔‘‘
ہزارہ میں مرحومین کے لیے رائج ایک اور دلچسپ رسم کے بارے میں وہ بتاتے ہیں، ”ہزارہ میں قدیم وقتوں سے گذشتگان کے لیے عید منانے کی رسم ہے جسے 'شبِ عیدِ مُردا‘ کہتے ہیں۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی سے دس پندرہ دن پہلے ہر محلے میں چندہ جمع کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ چندہ صرف سو یا دو سو روپے ہوتا تھا، مگر اب تقریباً ہر گھر ہزار روپے دیتا ہے۔ جمع شدہ چندے سے کسی گھر میں اجتماعی کھانا پکایا جاتا ہے۔ خواتین اور مرد علیحدہ علیحدہ کھاتے ہیں، اور محلے کا کوئی سفید ریش بزرگ مرحومین کے لیے طویل دعا کرواتا ہے۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ