کُرد زبان میں قرآن کے پہلے سرکاری ترجمے کی اشاعت
6 اپریل 2015
استنبول سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترک روزنامے ’صباح‘ نے آج پیر چھ اپریل کے روز اپنی آن لائن اشاعت میں بتایا کہ اب سے پہلے کُرد زبان میں قرآن کے چند ترجمے شائع تو ہوئے تھے لیکن وہ مسلمانوں کی مختلف تنظیموں کی انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھے، جن میں ترجمے کی حد تک ’چند مسائل‘ پائے جاتے تھے۔
انقرہ میں ترک حکومتی حلقوں سے قربت رکھنے والے جریدے ’صباح‘ نے لکھا ہے کہ اب ترکی میں مذہبی امور کے ریاستی دفتر نے کُرد زبان میں قرآن کے جس ترجمے کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے، اس کے مسودے کا پہلے اسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کئی لسانی ماہرین اور متعدد مسلمان علماء نے تفصیلی جائزہ لیا اور چند ہفتوں بعد کتابی شکل میں یہ ترجمہ پورے ترکی میں دستیاب ہو سکے گا۔
نیوز ایجنسی کے این اے کے مطابق قرآن کا یہ ترجمہ خاص طور پر جنوب مشرقی اناطولیہ میں رہنے والی کُرد اقلیتی آبادی کے علاوہ حج یا عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے کُرد شہریوں میں بھی تقسیم کیا جائے گا۔
ترکی میں عوامی زندگی میں کُرد زبان کے استعمال پر ماضی میں کئی طرح کی پابندیاں عائد تھیں لیکن چند برس قبل حکومت نے یہ پابندیاں بتدریج ختم کر دی تھیں۔ ترکی میں آباد کردوں کے ساتھ انقرہ حکومت کے وہ مذاکرات 2012ء سے جاری ہیں، جن کا مقصد کُردوں کی طرف سے علیحدگی پسندی اور مسلح مزاحمت کا پرامن خاتمہ ہے۔ ان مذاکرات میں اپنے لیے لسانی آزادی کا حق کُردوں کے بنیادی مطالبات میں سے ایک رہا ہے۔