1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

یورپی یونین کی خود انحصاری: قبرص سمٹ میں ’عملی پلان‘ پر غور

مقبول ملک اے پی کے ساتھ
23 اپریل 2026

ستائیس رکنی یورپی یونین میں شامل ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ یورپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ اسی لیے وہ جمعرات کے روز قبرص میں ہونے والی ایک سمٹ میں ایک ’آپریشنل پلان‘ پر غور کر رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/5Cip5
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو (دائیں) اور یورپی یونین کے جھنڈے
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو (دائیں) اور یورپی یونین کے جھنڈےتصویر: Andreas Becker/KEYSTONE/picture alliance

یورپی یونین اپنے ہاں ان اصولوں کے عملی امتحان کا جائزہ لینے کی تیاریاں کر رہی ہے، جن کے مطابق اس بلاک میں شامل تمام 27 رکن ریاستوں کو کسی بھی بحرانی صورت حال میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے۔

ایسا خاص طور پر اس وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں یورپی ممالک، خاص طور پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شامل یورپی ریاستوں کی طرف سے بھی امریکہ کا ساتھ نہ دیے جانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناراض ہیں۔

یورپ کی توجہ اپنی بہتر سکیورٹی پر ہونا چاہیے، ڈچ ملٹری انٹیلیجنس چیف

وہ ایک سے زائد مرتبہ دھمکیاں دے چکے ہیں کہ امریکہ نیٹو سے نکل بھی سکتا ہے، کیونکہ یورپی ممالک نے بالعموم اور نیٹو کے رکن یورپی ممالک نے بالخصوص ایران جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا اور ''نیٹو ایک عسکری اتحاد کے طور پر امریکہ کا اس وقت عملی معاون نہ بنا، جب واشنگٹں کو اس معاونت کی ضرورت تھی۔‘‘

یورپ کی نظریں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے محفوظ بنانے پر

یورپی یونین کی یہ غیر رسمی سمٹ قبرص میں اس لیے ہو رہی ہے کہ اس وقت یورپی یونین کا صدر ملک قبرص ہے، جو اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے
یورپی یونین کی یہ غیر رسمی سمٹ قبرص میں اس لیے ہو رہی ہے کہ اس وقت یورپی یونین کا صدر ملک قبرص ہےتصویر: Yves Herman/REUTERS

نیٹو فضائی دفاع مزید مضبوط کرے، بالٹک ریاستوں کا مطالبہ

موجودہ حالات میں یورپی ممالک کے رہنما اس بدلی ہوئی امریکی سوچ کے قائل ہو چکے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی ترجیحات میں اس وقت یورپ کی جگہ کہیں نہیں اور یہ ترجیحات دراصل 'کہیں اور‘‘ ہیں۔

قبرص سمٹ میں 'آپریشنل پلان‘ پر غور

اس تناظر میں یورپی یونین کا ایک سربراہی اجلاس آج جمعرات 23 اپریل کی شام اس بلاک کی رکن جزیرہ ریاست قبرص میں ہو رہا ہے، جس میں شریک رہنما ایک ایسے 'آپریشنل پلان‘ یا 'عملی منصوبے‘ پر غور کریں گے، جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ یہ بلاک بحرانی حالات میں اپنے رکن ممالک کی عسکری طاقت، سکیورٹی، تجارتی پالیسی اور دیگر وسائل کو یکجا کر کے یونین کے اجتماعی مفاد کے لیے کیسے استعمال کر سکتا ہے۔

نیٹو کا آرکٹک میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان

قبرص میں اہتمام کردہ اس بلاک کی سمٹ کے مقصد سے متعلق یہ تفصیلات جمہوریہ قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولیڈیس نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتائیں۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر کی عمارت میں رکن ممالک کے قومی پرچموں کی قطار
برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر کی عمارت میں رکن ممالک کے قومی پرچموں کی قطارتصویر: Nicolas Tucat/AFP/Getty Images

ساتھ ہی قبرصی صدر نے کہا کہ اگلے ماہ کے وسط میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے مندوبین ایسی 'ٹیبل ٹاپ مشقوں‘ میں بھی شامل ہوں گے، جن کے مقصد یہ ہو گا کہ اس یورپی بلاک کے معاہدوں کے آرٹیکل 42.7 کے تحت بحرانی حالات میں کسی بھی رکن ریاست کی باقی تمام رکن ممالک کسی طرح مل کر عملی مدد کر سکتے ہیں۔

کیا یورپی یونین کے رکن ممالک ایک دوسرے کے دفاع کے پابند ہیں؟

اس ممکنہ منظر نامے کی ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ فرض کیا جائے کہ روس کی طرف سے اگر یونین کے کسی رکن ملک پر حملہ یا وہاں فوجی مداخلت کی جائے، تو بلاک کے رکن باقی تمام ممالک اس یورپی ریاست کی اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کس طرح عملی مدد کر سکیں گے؟

یورپی یونین کا آرٹیکل 42.7 کیا ہے؟

یورپی یونین کے بنیادی معاہدے کا آرٹیکل 42.7 اپنی نوعیت میں ویسا ہی ہے جیسے نیٹو معاہدے کی دستاویز کا آرٹیکل پانچ، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ سبھی رکن ریاستوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن نیٹو اور یورپی یونین کے یہ دونوں آرٹیکل بالکل ایک جیسے نہیں ہیں۔

ٹرمپ نیٹو افواج کے کردار کے تاریخی حقائق سے انحراف نہ کریں، جرمن چانسلر

امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، اس سال جنوری میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے کے ساتھ
امریکی صدر ٹرمپ، دائیں، اس سال جنوری میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے کے ساتھتصویر: Evan Vucci/AP Photo/picture alliance

یونین کا آرٹیکل 42.7 اس لیے وضع کیا گیا تھا کہ اس کا نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے ساتھ کوئی عملی تصادم نہ ہو۔ یہ معاملہ سلامتی کی ضمانت کا ہے اور نیٹو کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کم از کم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی طرف سے تو یورپ کو کوئی بڑی عملی ضمانت نہیں دی جا رہی۔

نیٹو اور عالمی نظام کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے، راسموسن

یورپی یونین کے آرٹیکل 42.7 کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں درج ہے کہ اس بلاک کے کسی بھی رکن ملک کی باقی رکن ممالک کو ہنگامی یا بحرانی حالات میں مل کر مدد تو کرنا چاہیے، تاہم  یہ مدد '' اقوام متحدہ کے چارٹر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور نیٹو کے دائرہ کار کے اندر عائد ہونے والی ذمے داریوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘

ادارت: جاوید اختر

جرمنی يورپ کے دفاع ميں پيش پيش

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔