1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اسلام آباد مسجد دھماکہ: لواحقین میں معاوضوں کی تقسیم شروع

کشور مصطفیٰ اے ایف پی کے ساتھ
19 فروری 2026

وزیر اعظم کے دفتر سے جمعرات کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتِ پاکستان نے رواں ماہ اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو مالی معاونت کی ادائیگی کا آغاز کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/59180
پاکستانی نیم فوجی اور پولیس کمانڈوز جمعہ، 6 فروری، 2026 کو، اسلام آباد، پاکستان میں، ایک شیعہ مسجد میں بم دھماکے کے مقام پر پوزیشنیں سنبھالے نظر آ رہے ہیں
اس حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے تھےتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

یہ دھماکہ 6 فروری کودارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا تھا، جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ (IS) نے قبول کی تھی۔ یہ واقعہ 2008 کے میریئٹ ہوٹل ٹرک بم دھماکے کے بعد اسلام آباد میں ہونے والا سب سے مہلک ترین حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امام بارگاہ خود کش حملہ، ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات سخت سکیورٹی میں

وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد سے  تعلق رکھنے والے 36 ہلاک شدگان کے لواحقین کو امدادی چیک فراہم کر دیے گئے ہیں۔ ہر متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے (تقریباً 17,800 امریکی ڈالر) ادا کیے گئے، جبکہ اسلام آباد سے باہر رہنے والے چار دیگر ہلاک شدگان کے خاندانوں کو بھی یہ معاوضہ بھیجا جا رہا ہے۔

اسلام آباد کی شیعہ مسجد کے باہر دھماکے کے بعد  لوگوں کا رش نظر آ رہا ہے
یہ دھماکہ 6 فروری کو دارالحکومت کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں جمعہ کی نماز کے دوران ہوا تھاتصویر: Anjum Naveed/AP Photo/picture alliance

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مجموعی ہلاکتوں کی حتمی تعداد حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم یہ بیان پہلی سرکاری تصدیق ہے کہ حملے میں 40 جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

یہ خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب ملک بھر کی مساجد میں جمعہ کی نماز میں شرکت کے لیے نمازیوں کا شدید رش ہوتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اکثریت سنی آبادی کی ہے، لیکن شیعہ مسلمان 10 سے 15 فیصد کے درمیان ہیں اور ماضی میں متعدد مرتبہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں اس سے قبل آخری بڑا حملہ نومبر میں ہوا تھا،  جب ایک عدالت کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ تقریباً تین سال بعد دارالحکومت میں شدت پسندوں کی اس بڑی کارروائی کا یہ پہلا بڑا واقعہ تھا۔

اسلام آباد کی ایک مسجد میں دھماکے کے بعد لوگ ایک زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کر رہے ہیں
اسلام آباد میں اس سے قبل گزشتہ نومبر میں ایک عدالت کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھےتصویر: Hussain Ali/ZUMA/picture alliance

واضح رہے کہیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پاکستان  کی سکیورٹی فورسز افغانستان  سے متصل جنوبی اور شمالی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز میں مصروف ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال  دہشت گرد حملوں میں  1,235 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 825 سکیورٹی اہلکار اور 400 شہری شامل تھے۔ ملک بھر میں 27 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ 2,597 عسکریت پسند مارے گئے۔

 

ادارت: جاوید اختر