1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہبرطانیہ

اسکاٹ لینڈ میں مریضوں کی خود کشی میں مدد کا قانونی بل مسترد

مقبول ملک اے پی اور اے ایف پی کے ساتھ
18 مارچ 2026

برطانیہ میں اسکاٹش پارلیمان نے انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کی خود کشی میں طبی مدد کا ایک متنازعہ قانونی بل مسترد کر دیا۔ یہ بل منظور ہو جاتا تو اسکاٹ لینڈ برطانیہ کا ایسی قانونی اجازت دینے والا پہلا حصہ بن جاتا۔

https://p.dw.com/p/5Acov
برطانیہ میں اس موضوع پر قانون سازی کی کوششیں نئی نہیں ہیں: برطانوی دارالحکومت لندن میں نومبر 2024ء میں ’خود کشی میں مدد‘ کے قانونی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شہری
برطانیہ میں اس موضوع پر قانون سازی کی کوششیں نئی نہیں ہیں: برطانوی دارالحکومت لندن میں نومبر 2024ء میں ’خود کشی میں مدد‘ کے قانونی بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شہریتصویر: Stefan Rousseau/empics/picture alliance

برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایڈنبرا میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمان نے بڑی گرم گرما بحث کے بعد اس قانونی مسودے پر ہونے والی رائے شماری میں اس بل کو منگل کو رات گئے اکثریتی رائے سے مسترد کر دیا۔

حمایت میں 57 اور مخالفت میں 69 ووٹ

اس قانونی مسودے کے حق میں اسکاٹش پارلیمان کے 57 ارکان نے رائے دی جبکہ 69 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے اپنی رائے محفوظ نہ رکھی اور اس بل کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ دیا۔

دنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد کی خودکشی

اس مجوزہ قانون میں کہا گیا تھا کہ انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کو یہ اجازت ہونا چاہیے کہ وہ اگر خود آزادانہ فیصلہ کریں، تو طبی مدد سے خود کشی کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں اسکاٹش عوام میں پائی جانے والی منقسم رائے بہت شدید اور باہم متضاد تھی۔

ایک نرس ایک مریض کا ہاتھ پکڑے ہوئے
اس بل کا مقصد لاعلاج بیماریوں کے مریض بالغ اسکاٹش باشندوں کو یہ اختیار دینا تھا کہ وہ اگر چاہیں تو طبی مدد سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکیںتصویر: Ute Grabowsky/imago images/photothek

بھارتی سپریم کورٹ کا قتل رحم کی اجازت دینے کا تاریخی فیصلہ

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اگر یہ مجوزہ قانون سازی ایڈنبرا کی پارلیمان میں ارکان کی اکثریتی رائے سے منظور ہو جاتی، تو عملی طور پر 18 سال سے زائد عمر کے اور لاعلاج بیماریوں کے مریض ایسے اسکاٹش باشندوں کے لیے، جن کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے یہ ہوتی کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چھ ماہ یا اس سے بھی کم کا وقت بچا ہو، یہ ممکن ہو جاتا کہ وہ طبی مدد سے خود کشی کے اپنے آزادنہ فیصلے پر عمل کر سکتے تھے۔

رائے شماری سے قبل تین گھنٹے کی بہت جذباتی بحث

ایڈنبرا کی پارلیمان میں اس قانونی مسودے پر رائے شماری سے قبل ہونے والی پارلیمانی بحث بہت جذباتی تھی، جو قریب تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس رائے شماری کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں منتخب عوامی نمائندوں کو 'فری ووٹ‘ کا اختیار دیا گیا تھا۔

وہ یورپی ممالک جہاں قتل رحم قانوناﹰ جائز ہے

ایک نرس ہمدردی سے ایک لاعلاج مریض کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے
مسترد کر دیے گئے مجوزہ بل میں کہا گیا تھا کہ طبی مدد سے خود کشی کا ممکنہ اختیار صرف ایسے مریضوں کو دیا جائے جن کی ڈاکٹروں کے مطابق باقی ماندہ زندگی صرف چھ ماہ یا اس سے بھی کم بچی ہوتصویر: Sami Belloumi/dpa/picture alliance

خود کشی میں معاونت، آسٹریا نے قانون منظور کر لیا

اس سے مراد یہ تھی کہ ان کے لیے رائے دیتے وقت یہ لازمی نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس کے برعکس تمام اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اس بل پر اپنے ضمیر کی آوازکے مطابق ووٹ دیں۔

اسکاٹ لینڈ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی طرح برطانیہ کا حصہ ہے اور وہاں ایک ایسی نیم خود مختار حکومت ہے، جسے صحت سمیت کئی شعبوں میں اپنی مرضی سے عوام کے لیے پالیسی سازی کا حق حاصل ہے۔

فرانس میں صدر ماکروں کا ’مرنے میں مدد‘ کے مجوزہ قانون کا اعلان

اسی لیے اگر یہ بل منظور ہو جاتا، تو اسکاٹ لینڈ برطانوی ریاست کا 'طبی مدد سے خودکشی‘  کی قانونی اجازت دینے والا پہلا حصہ بن جاتا۔ اب تک برطانیہ میں ایسا کوئی قانونی امکان کہیں بھی نہیں ہے۔ پارلیمانی زبان میں اس قانونی مسودے کو ''مرنے میں مدد‘‘  کا بل قرار دیا گیا تھا۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

کسی کو مرنے میں مدد فراہم کرنا درست ہے؟

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔