اسکاٹ لینڈ میں مریضوں کی خود کشی میں مدد کا قانونی بل مسترد
18 مارچ 2026
برطانوی دارالحکومت لندن سے بدھ 18 مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ایڈنبرا میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمان نے بڑی گرم گرما بحث کے بعد اس قانونی مسودے پر ہونے والی رائے شماری میں اس بل کو منگل کو رات گئے اکثریتی رائے سے مسترد کر دیا۔
حمایت میں 57 اور مخالفت میں 69 ووٹ
اس قانونی مسودے کے حق میں اسکاٹش پارلیمان کے 57 ارکان نے رائے دی جبکہ 69 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ رائے شماری کے وقت ایوان میں موجود کسی بھی رکن نے اپنی رائے محفوظ نہ رکھی اور اس بل کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ دیا۔
دنیا میں ہر سال سات لاکھ سے زائد افراد کی خودکشی
اس مجوزہ قانون میں کہا گیا تھا کہ انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کو یہ اجازت ہونا چاہیے کہ وہ اگر خود آزادانہ فیصلہ کریں، تو طبی مدد سے خود کشی کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں اسکاٹش عوام میں پائی جانے والی منقسم رائے بہت شدید اور باہم متضاد تھی۔
بھارتی سپریم کورٹ کا قتل رحم کی اجازت دینے کا تاریخی فیصلہ
نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ اگر یہ مجوزہ قانون سازی ایڈنبرا کی پارلیمان میں ارکان کی اکثریتی رائے سے منظور ہو جاتی، تو عملی طور پر 18 سال سے زائد عمر کے اور لاعلاج بیماریوں کے مریض ایسے اسکاٹش باشندوں کے لیے، جن کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے یہ ہوتی کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چھ ماہ یا اس سے بھی کم کا وقت بچا ہو، یہ ممکن ہو جاتا کہ وہ طبی مدد سے خود کشی کے اپنے آزادنہ فیصلے پر عمل کر سکتے تھے۔
رائے شماری سے قبل تین گھنٹے کی بہت جذباتی بحث
ایڈنبرا کی پارلیمان میں اس قانونی مسودے پر رائے شماری سے قبل ہونے والی پارلیمانی بحث بہت جذباتی تھی، جو قریب تین گھنٹے تک جاری رہی۔ اس رائے شماری کی اہم بات یہ تھی کہ اس میں منتخب عوامی نمائندوں کو 'فری ووٹ‘ کا اختیار دیا گیا تھا۔
وہ یورپی ممالک جہاں قتل رحم قانوناﹰ جائز ہے
خود کشی میں معاونت، آسٹریا نے قانون منظور کر لیا
اس سے مراد یہ تھی کہ ان کے لیے رائے دیتے وقت یہ لازمی نہیں تھا کہ وہ اس موضوع پر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر کے مطابق فیصلہ کریں۔ اس کے برعکس تمام اراکین سے کہا گیا تھا کہ وہ اس بل پر اپنے ضمیر کی آوازکے مطابق ووٹ دیں۔
اسکاٹ لینڈ انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی طرح برطانیہ کا حصہ ہے اور وہاں ایک ایسی نیم خود مختار حکومت ہے، جسے صحت سمیت کئی شعبوں میں اپنی مرضی سے عوام کے لیے پالیسی سازی کا حق حاصل ہے۔
فرانس میں صدر ماکروں کا ’مرنے میں مدد‘ کے مجوزہ قانون کا اعلان
اسی لیے اگر یہ بل منظور ہو جاتا، تو اسکاٹ لینڈ برطانوی ریاست کا 'طبی مدد سے خودکشی‘ کی قانونی اجازت دینے والا پہلا حصہ بن جاتا۔ اب تک برطانیہ میں ایسا کوئی قانونی امکان کہیں بھی نہیں ہے۔ پارلیمانی زبان میں اس قانونی مسودے کو ''مرنے میں مدد‘‘ کا بل قرار دیا گیا تھا۔
ادارت: کشور مصطفیٰ