افغان سرحد کے قریب تازہ پاکستانی حملے
6 فروری 2026
پاکستانی فوج کی طرف سے افغان سرحد سے متصل علاقوں میں یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں کی، جب ملک کے جنوب مغرب میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی ہے۔
فوج کے بیان کے مطابق، ہیلی کاپٹر گن شپ کی مدد سے پاکستانی فوجیوں نے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں دو مختلف مقامات پر پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔
فوجی بیان میں کہا گیا ہے، ''دونوں مقامات پر فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم چوبیس دشمنوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔‘‘
پاکستانی فوج نے سن 2014 سے شروع ہونے والی متعدد فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کو افغانستان کی جانب دھکیل دیا تھا۔ اب پاکستان کا الزام ہے کہ کابل پر افغان طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد یہ گروہ ایک بار پھر پاکستان میں متحرک ہو گیا ہے۔ تاہم افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں بیرونی یا غیر ریاستی گروہوں کی موجودگی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ایکس پیغام میں واضح کیا کہ افغانستان میں امن قائم ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ ہے کہ افغان طالبان نے داعش کے جنگجوؤں کو شکست دے دی ہے اور اب اس دہشت گرد گروہ نے ہمسایہ ملک میں ٹھکانے بنا لیے ہیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس میں افغانستان میں داعش سمیت دیگر غیر ملکی جبگجو گروہوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ تعداد میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے باوجود سن 2025 میں پاکستان میں عسکریت پسند تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس کے دوران 2024ء کے مقابلے میں دہشت گردانہ حملوں میں 34 فیصد جبکہ دہشت گردی سے متعلق اموات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔