1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت اور عالمی خد

عاطف توقیر ڈی پی اے، اے ایف پی، روئٹرز | ادارت | جاوید اختر
2 اپریل 2026

امریکہ اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال ایرانی جنگ کی شدت اور وسعت میں اضافے کا پتا دیتا ہے، مگر اس کے اثرات کیسے ہو سکتے ہیں؟

https://p.dw.com/p/5BZpL
آبنائے ہرمز نقشے میں
ایران کے مطابق اس نے دشمنوں کے لیے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہےتصویر: Modis Team/Nasa Gsfc/ZUMA/IMAGO

ایران کے فوجی سربراہ امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایران کے آپریشنل ہیڈکوارٹرز کو ''دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی چابک دستی اور درستی کے ساتھ نظر رکھنا چاہیے‘‘ اور ہر قسم کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن زمینی کارروائی کی کوشش کرے تو ''کوئی بھی دشمن فوجی زندہ نہیں بچنا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ ''اختتام کے قریب‘‘ ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے، تاہم خلیج میں امریکی فوجیوں کی اضافی تعیناتی نے خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکہ ایران میں زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

ایران نے جمعرات کو امریکہ اور اسرائیل کو ''تباہ کن‘‘ حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے تل ابیب پر میزائل داغے، جس کے بعد اسرائیلی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم چار افراد معمولی زخمی ہوئے۔ اسرائیل میں یہ تازہ ایرانی میزائل حملے اس وقت ہوئے جب یہودی برادری عید فسح (پاس اوور) منا رہی تھی، اور کئی لوگوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں تقریبات منعقد کرنا پڑیں۔

یہ جنگ ایک ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں اور کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس سے ایک خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، تاہم اگر ایران نے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ کیا تو حملوں میں شدت لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا، ''آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ہم انہیں واپس پتھر کے زمانے میں لے جائیں گے۔‘‘

ٹرمپ کے اس بیان پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مزید حملوں کی وارننگ دی۔ ایرانی فوج کے کمانڈ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو ''مزید شدید، وسیع اور تباہ کن کارروائیوں‘‘ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا، ''یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آپ کی پسپائی، رسوائی اور مکمل ہتھیار ڈالنے کی نوبت نہیں آتی۔‘‘

عالمی معیشت پر اثرات

اس جنگ کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس سمندری گزرگاہ سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس نے یہ سمندر راستہ ''دشمنوں‘‘ کے لیے بند کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے جنگ بندی کے لیے اسے کھولنے کو شرط قرار دیا ہے۔

اس سمندری گزرگاہ کی بحالی کے لیے برطانیہ 35 ممالک کے اجلاس کی قیادت کرے گا۔ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے دیگر ممالک کو آگے آنا چاہیے۔

خارگ میں داخل ہونا آسان لیکن وہاں ٹکنا مشکل

ٹرمپ کی تقریر کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بے چینی میں اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑھوتی اور اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی۔

ورلڈ بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ مہنگائی، روزگار اور فوڈ سکیورٹی پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔

اسی تناظر میں متعدد ممالک کی جانب سے ایندھن کی بچت کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چین میں ایئرلائنز نے ایندھن سرچارج بڑھانے کا اعلان کیا ہے اور ملائیشیا میں سرکاری ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ بھوٹان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

 

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔